خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرسوچتی ہوئی بے باک شاعری
اردو تحاریراردو کالمزشہزاد نیّرؔ

سوچتی ہوئی بے باک شاعری

از سائیٹ ایڈمن جولائی 5, 2024
از سائیٹ ایڈمن جولائی 5, 2024 0 تبصرے 46 مناظر
47

فاخرہ نورین نے جب اپنی ہم زاد سہیلی سے یہ وعدہ کیا
سہیلی! میں تمہارا در لکھوں گی
سلگتی لو کی بانہوں میں
بدن جو ہو گیا ہے سرد۔۔۔۔۔لکھوں گی!

تو گویا اس نے صداقتِ اظہار کا خودسے پیمان کر لیا۔اپنے اندر کی ہمزاد سہیلی اور باہر کی ہم صنف سہیلیوں کے قدرتی جذبوں کا بیان اور جذبوں کی ارزانی کا نوحہ اس کی شاعری میں سما گیا۔شہروں کی بھاگتی دوڑتی زندگی میں بدن کی شاہراہوں پر چلتے ہوئے بے امان جذبے اسکے لفظوں کی پناہ میں آنے لگیاس نے ایک بچے کی حیرت سے سب کچھ دیکھا۔اپنے آپ کو بھی حیرتی نگاہ سے دیکھنے کا فن اس میں موجود ہے۔وہ نہ صرف خودپہ نظر کرتی ہے بلکہ سماج کو بھی اپنی تیز آنچ سوچ پر پگھلا کے رکھ دیتی ہے۔

عشق ہے ماورائے کون و مکاں
حسن اب تک غلام ہے صاحب

اس نے سوچا کہ وابستگی غلامی سے پیوستہ ہے۔تو کیا غلامی سے مفر ممکن ہے!کیا ہم خود اپنے بدن کے غلام نہیں ہوتے؟سماجی رشتوں،اپنی سوچ اور اپنے آدرش کے غلام۔کیا غلامی سکھ بھی دیتی ہے!
ایسے کئی سوالات اسکی شاعری میں سر اٹھاتے ہیں۔پھر فاخرہ اپنی ذات کو رفعت دیتے دیتے وکٹری سٹینڈکے اونچے استھان پر جا پہنچتی ہے،جہاں سے وہ نیچے رہ جانے والوں پر نگاہِ اطمینان ڈال سکتی ہے۔لیکن کیا اطمینان یہاں بھی میسر ہے؟
یہاں نوکیلی چوٹی پر
غضب کی اس بلندی پر
مجھے ان پھولی سانسوں کو ذرا ہموار کرنا ہے
یہاں ہر پل مجھے خود کو
اداسی اور تنہائی سے قربت کے لیے تیار کرنا ہے

فاخرہ نورین کی سوچتی ہوئی شاعری میں بہت سے ایسے مقامات آتے ہیں جہاں وہ اپنی انفرادی سوچ کے بل پر فرد اور سماج پر بامعنی تبصرہ کرتی ہے۔میرا تو یہ خیال ہے کہ اس دنیا میں بسنے والی ہر سوچ قیمتی ہے۔جتنے انسان ہیں اتنے ہی سوچنے کے ڈھب ہیں۔ہر انسان کو زندگی ایک الگ ہی زاویے سے نظر آتی ہے۔وہ زاویہ جو اس کی آنکھوں سے پھوٹتا ہے۔اور آنکھیں تو ہر کسی کی اپنی ہیں! ایک گھر میں پلنے اور ایک سکول میں پڑھنے والے بہن بھائیوں کی بھی سوچیں اپنی اپنی ہوتی ہیں اور مزاج مختلف۔یہاں ہر انسانی تجربہ جو شعر میں ڈھل جائے قیمتی ہے۔اس لیے کہ وہ موجود فکر میں ایک اور ممکنہ انسانی زاویے کا اضافہ کر رہا ہے۔سو فاخرہ نورین نے بھی زندگی سے گزرتے ہوئے کچھ نکات اخذ کیے جنہیں اس نے ذمہ داری سے حوالہ شاعری کردیا۔ویسے بھی مجھے لگتا ہے کہ اس کی نظم ہو یا غزل،زیادہ تر اس کی ذاتی واردات سے اپنا خمیر اٹھاتی ہے۔اس نے شاعری برائے شاعری نہیں کی بلکہ باطن میں اٹھتی آنچ کو شعروں کی حرارت میں رکھ لیا ہے۔یوں اس کی شاعری میں خالص جذبہ بھی ہے اور معاشی و معاسرتی فہم بھی۔محبت کے رشتوں کی پیچیدگی بھی ہے اور مذہبی نظامِِ فکر پر اظہارِ رائے بھی۔

(حیرانی کا ایک تسلسل)

فہمیدہ جنت میں حیراں اور پریشاں گھوم رہی ہے
تم سوچو گے
اس عورت کو جنت میں بھی چین نہیں ہے
وہی جو اس دنیا میں رہ کر پوچھتی تھی وہ
اب بھی سب سے پوچھ رہی ہے
جانبدار خدا کے بندو۔۔۔۔!

(یا ربِ معجزات)

مرے دل کی گواہی ہے
یہ جتنی وحشتیں،یہ خواہشیں
قدرت نے رکھی ہیں
مرے دل میں
یہ اک دن رنگ لائیں گی
کہ ان کا پورا ہونا ہی مناسب ہے

(گوتم۔۔۔ایک تاثر)

وہ سندر سی مہیلا
جو بدن کی آگ میں جلتی ہے
گوتم کو بلاتی ہے

(گناہ و زہد کے منکر)

تمہارے ساتھ کی خاطر
کبھی پرواہ تک نہ کی
گناہوں کی،ثوابوں کی

اس آزادہ روی کے باوجود وہ اپنے گنا ہ و زہد کے منکر سے پوچھتی ہے

مگر جانِ تمنا میں تمہیں کتنا میسر تھی
مجھے،میری محبت کو
مرے تم کو میسر اتنا رہنے کو
ذرا توقیر دے دیتے
کوئی تحریر دے دیتے

یعنی جذبہ بدنی پیوستگی سے آگے چل کر سماجی وابستگی میں بدل جانے کا خواہش مند ہے۔اب فرد کی فردیت پر شدید اصرار کرنے والا کوئی
ما بعدجدیدیہ ہو یا لا یعنیت اور لغویت کا اسیر کوئی وجودیت پسند،اسے سماج اور سماجی رشتوں کی ہیئت و بافت پر بات کرتے ہی بنتی ہے کہ آخری تجزیے میں انسان کائناتِ اصغر ہے اور کائناتِ اکبر کا محض ایک شوریدہ سر ذرہ!

فاخرہ نورین نے بہت سی مختصر نظمیں بھی لکھی ہیں چار پانچ سطروں سے زیادہ کی نہیں۔ان نظموں میں بھی معنی کے دائرے کی تکمیل اور شدتِ احساس کے ساتھ سوچ کو قاری تک منتقل کرنے کا عمل مکمل ہوتا نظر آتا ہے۔بعض نظموں میں جدید شہری زندگی میں سانس لیتے جذبوں کے مناظر رقم ہوئے ہیں۔

رابطہ ختم کر دیا میں نے
میں ترا نام تو نہیں بھولی
تیرا چہرہ بھی یاد ہے بجھ کولی
ہاں تعلق کو توڑنے کے لئے
اک نئی سم خرید لائی ہوں

حقیقت

۔۔۔اور جب خواب سے ہم
جاگے تو
چار سو انیاں تھیں نیزوں کی

گالی
deleteہو گئے ہو
مری memoryسے تم

فاخرہ نورین اس معاشرے کا ایک حساس فرد ہے۔اب تو یہ بات کہنا بھی کلیشے ہو چکا ہے کہ ادب کو زنانہ اور مردانہ ڈبوں میں بند نہیں کیا جا سکتا۔لیکن اس حقیقت سے مفر کس کو ہے کہ فرد،مرد یا عورت بھی ہوتا ہے۔جہاں ایک طرف وہ سماجی تعاملات کو محض ایک فرد کی حیثیت سے دیکھتا ہے وہیں وہ بے شمار معاشرتی عوامل و مظاہر کو صنفی حساب سے دیکھنے پر بھی مجبور ہے۔یوں فاخرہ نورین کی شاعری میں بعض جگہوں پر وہ صنفی حدبندی سے بالا تر ہو کر سوچتی ہے تو کئی نظموں میں وہ عورت بن کر بھی سوچتی ہوئی ملتی ہے۔اور یہ بات قدرتی بھی ہے اور قابلِ قدر بھی۔نسائی طرزِ احساس اور لہجہ ہماری شاعری کا ایک خوبصورت رنگ ہے اور اس رنگ کو فاخرہ نورین نے شوخ کیا ہے۔اس کے ہاں تانیثیت بھی پس منظری رنگ کے طور پر موجود ہے،اور یہ دونوں باتیں خوبصورت ہیں۔

فاخرہ نورین ادبیات کی استاد اور محقق ہیں۔انہوں نے ادب کا بھی خاصا مطالعہ کر رکھا ہے۔وہ اس حقیقت سے خوب آگاہ ہوں گی کہ اظہار کی صفائی،زبان کا تخلیقی استعمال،فنی اور تکنیکی صلابت کسی فن پارے کو شہ پارے کا درجہ دینے کے لیے کس قدر ضروری ہوتے ہیں۔ان کی نظموں اور غزلوں میں اس سمت توجہ کم نظر آتی ہے۔وہ اظہار کے وفور اور روانی میں ادبی محاسن اور فنی خوبصورتیوں سے شاید اغماض برت لیتی ہیں۔اسی وجہ سے ان کی شاعری میں وہ وصف پیدا نہیں ہو سکا کہ اسے ہم عہدِ حاضر کی نمائندہ یا اہم شاعری کے پہلو بہ پہلو رکھ سکیں۔فاخرہ نورین کو اپنی آئندہ شاعری کو چمکانے،تیز کرنے اور احساس کی لو پر خوب پکا کر محکم اورمستحکم کرکے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ اس طرف توجہ کریں تو ان کی کی شاعری بعض فنی اسقام اور زبان کی کمزوریوں سے پاک ہو سکتی ہے۔مجھے یقین ہے وہ اس طرف ضرور توجہ کریں گی۔یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ان کا شاعرانہ تخلیقی تجربہ اہم ہے اور اسے عمدہ تر اظہاری صورت میں حوالہ قرطاس ہونا چاہیے۔آخر میں فاخرہ نورین کی غزلوں سے چند اچھے اشعار۔

حسرتِ دید ہو گئی کمیاب
اورنظارہ عام ہے صاحب

ایک پردے نے مجھ کو ڈھانپ لیا
میں نے جب بھی کبھی چاہا،دیکھوں

بھیگ جاتی ہیں اس لیے آنکھیں
تجھ کو برسات اچھی لگتی ہے

مدتوں پہلے قافلہ گزرا
ہے ابھی تک غبار رستے میں

مرا حوالہ مری ذات، میرا فن ہو گا
لے آج تیرے حوالوں سے میں مکرتی ہوں

وہ کہتا ہے کہ میں اس کے مماثل ہو نہیں سکتی
میں خوش ہوں وہ مجھے خودسے جدا تسلیم کرتا ہے

شہزاد نیرّ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مائیکروسافٹ ورڈ میں اردو لکھنا
  • امر جلیل یا امر۔۔۔۔۔؟؟
  • انجام بخیر
  • چچا چھکّن نے جھگڑا چکایا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کہنو مجنوں کے مرنے کی
پچھلی پوسٹ
"چار چاند "اور نیلم احمد بشیر

متعلقہ پوسٹس

طلبہ کی زندگی اور ہماری ذمہ داری

جنوری 6, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

سینما کا عشق

دسمبر 12, 2019

میرا بچہ

مارچ 22, 2020

دیباچہ بانگِ درا

فروری 2, 2020

کہانی ایک رات کی

جولائی 7, 2020

میلاد االنبیؐ کی خوشی

ستمبر 29, 2023

کچھ طبیعت ہی ایسی پائی ہے

جنوری 27, 2020

آبروئے غزل

فروری 21, 2021

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عہد جدید کا اُبھرتا ہوا شاعر...

مئی 5, 2018

ماں تیری ممتا

جون 29, 2020

تعلیم کا مقصد: شعور یا روزگار؟

نومبر 3, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں