821
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی تیرا میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے ، مگر بات ہے رسوائی کی
وہ کہی بھی گیا ، لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی کی
تیرا پہلوں تیرے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پے گزرے نا قیامت شب تنہائی کی
اس نے جلتی ہوئی پیشانی پے جب ہاتھ رکھا
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی
اب بھی برسات کے رتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
