103
تری جدائی میں یہ دل بہت دکھی تو نہیں
کہ اس کے واسطے یہ رت کوئی نئی تو نہیں
تم اپنے اپنے لگے تھے وگرنہ آنکھوں میں
اک اور خواب سجانے کی تاب تھی تو نہیں
تمہارے لب پہ کھلا ہے تو وعدہ ہے تسلیم
وگرنہ اپنے بھروسے کی تم رہی تو نہیں
ترے بغیر نہ جینے کا عہد پورا کیا
ترے بغیر جو کاٹی وہ زندگی تو نہیں
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے وہ نہیں ہے وہ
مگر کبھی کبھی لگتا ہے وہ وہی تو نہیں
سید کاشف رضا
