107
چائے پانی کو یہاں پر بند لفافے میں ہم نے دیکھا ہے
بند شیشے میں بیٹھے لوگوں کو لیتے دیتے دیکھا ہے
سب کچھ ہے میرے پاس مگر کچھ اور بھی آجائے
حرس و ہوس کے ان مناظر کوچلتے پھرتے دیکھا ہے
کرسی کے نشہ میں یہ ہو جاتے ہیں خونخوار اتنے
عام انسان کوان کے ہاتھوں جاں سے گزرتے دیکھا ہے
فرعون نمرود اور قارون جیسے نا خدائوں کو بھی
ہم نےتباہ ہوکر تاریخ میں نشان عبرت بنتے دیکھا ہے
سیلاب آئے یا طوفان یا زلزلے جیسا کوئی عذاب
نظر آنے کے باوجود ان کو یہاں اندھا بنتے دیکھا ہے
اس دور کا انسان یہ بات بالکل بھول چکا ہے یوسف
مالداروں کو بھی خالی ہاتھ دنیا سے جاتے دیکھا ہے
یوسف برکاتی
