خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابارسومِ جوتا
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریر

رسومِ جوتا

از سائیٹ ایڈمن مئی 25, 2024
از سائیٹ ایڈمن مئی 25, 2024 0 تبصرے 66 مناظر
67

ہمارے کلچر میں جوتوں سے متعلق بہت ساری رسومات رائج ہیں۔ ان میں سے اکثر کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے، جتنی کہ خود جوتے کی۔ تاہم قیام پاکستان کے بعد ان رسوم نے ہمارے ہاں جتنا فروغ پایا اور جو پذیرائی حاصل کی، اس پر خود جوتے بھی حیران ہیں۔ ایسی تمام رسومات میں قدر مشترک یہ ہے کہ ان میں جوتے کا کردار کلیدی ہے۔ چیدہ چیدہ ’رسومِ جوتا‘ ملاحظہ فرمائیے۔

جوتیاں سیدھی کرنا:

بنیادی طور پر رسم حامل جوتا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ادا کی جاتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی میں یہ رسم اہل علم کے جوتوں سے متعلق تھی اور لوگ صاحبانِ علم و دانش کی جوتیاں سیدھی کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے، لیکن وقت کے تقاضوں کے ساتھ یہ رسم بدلتے بدلتے اہلِ ثروت و اقتدار کے جوتوں پر آ کر ٹھہر گئی۔ آج کل اہلِ دانش و حکمت کے جوتے اس لئے بھی سیدھے نہیں کئے جاتے کہ وہ (اقتصادی وجوہ کی بنا پر) خاصے بوسید ہ ہوتے ہیں اور ان سے ہاتھ خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ نیز اصحابِ علم و آگہی خو د بھی اس کی اجازت نہیں دیتے مبادا کہ جوتے سیدھے کرنے والا انہیں لے کر ہوا ہو جائے۔

جوتیاں چاٹنا:

یہ رسم عام طور پراس وقت ادا کی جاتی ہے جب کسی صاحبِ اختیار یا حامل جوتا سے غرض یا مفاد وابستہ ہو۔ مطلب حاصل کرنے کے لئے جوتیاں چاٹنا یا بدونِ سینگ ایک جانور کو باپ بنا لینا، ایک ہی مفہوم کی رسوم ہیں۔ رسم ہذا دربار داری کے تقاضے پورے کرنے کے لئے بھی ادا ہوتی ہے۔

جوتے چھپانا:

یہ سب سے مقبول عوامی رسم ہے جو شادیوں سے لے کر مسجدوں تک بغیر کسی وقفے کے جاری ہے۔ تاہم اس رسم کا مستقبل زیادہ تابناک نہیں۔ دراصل جوتے اتنے مہنگے ہو گئے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں جب لوگ ننگے پاؤں اپنی شادیوں اور مسجدوں میں جائینگے۔ شائقینِ جوتا چھپائی میں سے کسی نے کیا خوب کہا ہے

چل چلیے مسجد دی اس نکرے
جتھے جُتیاں دی لمبی قطار ہووے
اک توں چُک لے، اک میں چُک لاں
ساڈی عید بڑ ی مزے دار ہووے

جوتے گھسانا:

یہ خالصتاً عوامی رسم ہے۔ خواص کو اس سے پالا نہیں پڑتا۔ یہ رسم سرکاری دفتروں میں ادا کی جاتی ہے۔ سائلان کی درخواستیں سرکاری اداروں میں میز در میز رسو ا ہوتی ہیں اور وہ ان دفاتر کے چکر پہ چکر لگا کر اپنی جوتیاں گھساتے رہتے ہیں۔ کبھی شناختی کارڈ حاصل کرنے کے لئے، کبھی بجلی کا بل ٹھیک کرانے کے لئے اور کبھی انصاف کے حصول وغیرہ وغیرہ کے لئے۔

جوتے چھوڑ کر بھاگنا:

اس رسم کا تعلق عشاقِ عظام سے ہے۔ پیشہ ور عشاق کو نہ چاہتے ہوئے بھی یہ رسم ادا کرنا پڑتی ہے۔ رسم مذکور کو دہرانے میں کیدو کی نسل کا کلیدی کردار ہے۔ دو دلوں کے ملاپ کی تقریبِ سعید کے دوران کیدو اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور عاشقوں کو اپنے جوتے وہیں چھوڑ کر بھاگنا پڑتا ہے۔

جوتے کی نوک پر رکھنا:

یہ بھی ایک قدم رسم ہے۔ اگرچہ نوکدار جوتے کا رواج کم ہو گیا ہے لیکن رسم ہذا کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اس کا تعلق اربابِ اقتدار و اختیار سے ہے۔ انکے جوتون کی نوکیں اتنی مضبوط ہوتی ہیں کہ وہ کروڑوں لوگوں کے مسائل اور جذبات کا بوجھ با آسانی سہار سکتی ہیں۔

جوتے کے برابر سمجھنا:

اغراض و مقاصد اور مفہوم میں یہ رسم، رسمِ بالا (جوتے کی نوک پر رکھنا) سے مماثلت رکھتی ہے۔ یہ رسم بھی خواص ہی ادا کرتے ہیں۔ عوامی مسائل اور مطالبات چاہے پہاڑ جتنے ہوں مگر اربابِ بست و کشاد انہیں حجم میں اپنے جوتوں کے برابر ہی سمجھتے ہیں۔

جوتا بدلنا:

یہ ایک مقبول عام رسم ہے، جسے ہر خاص و عام اپنی استطاعت کے مطابق ادا کرتا ہے۔ امیر آدمی نئے ڈیزائن آنے پر جوتا بدلتا ہے جبکہ غریب جوتا پھٹ جانے پر ایسا کرتا ہے۔ بعض لوگ اس رسم کو دوسری شادی کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں۔

جوتے چلانا:

یہ رسم اس وقت ادا کی جاتی ہے جب مذاکرات ناکام ہو جائیں۔ جرگوں سے لے کر اسمبلیوں تک، جب مسائل گفت و شنید سے حل نہ ہو سکیں تو جوتے چل جاتے ہیں۔ مذکورہ رسم کی ادائیگی سے قبل گالی گلوچ لازمی ہے۔

جوتے سنگھانا:

مرگی کے دورے میں یہ رسم مفید تصور کی جاتی ہے۔ اکثر عامل حضرات مریضوں کو جن پڑ جانے پر جوتا سنگھاتے ہیں۔ اگر مریض کو افاقہ نہ ہو تو عامل یہ کہتے ہوئے اسی جوتے سے مریض کی مرمت شروع کر دیتے ہیں کہ ’’جن بہت طاقتور ہے ‘‘ حالانکہ جن یا بھوت کبھی بھی عاملوں سے طاقتور نہیں ہوتے۔ اگر ایسا ممکن ہو تو جن وہی جوتا لے کر عامل صاحب کی خیر خیریت دریافت کرنا نہ شروع کر دے ؟

جوتے مارنا:

اس کو عربی میں ’الوداعی بوسہ‘ کہتے ہیں۔ اس رسم نے ہمارے ہاں گذشتہ61سالوں میں جو پذیرائی حاصل کی ہے، وہ کسی دوسری رسم کے حصے میں کم ہی آئی ہے۔ قائداعظم کی ایمبولینس سڑک پر ’خراب‘ ہونے سے لیکر بھٹو کی پھانسی تک، جسدِ فاطمہ جناح کے زخموں سے رسنے والے خون سے لے کر راولپنڈی کی سڑکوں پر بہتے بے نظیر کے خون تک اور مادرِ ملت کو صدارتی الیکشن ہرانے سے لے کر ق لیگ بنوانے اور اسے انتخابات میں کامیاب کرانے تک، لا تعداد جوتے ا س قوم کے مینڈیٹ کے سر پر توڑے جا چکے ہیں۔ جمہوریت کے نام پر جوتے، انصاف کے نام پرجوتے، ترقی کے نام پر جوتے، روزگار کے نام پر جوتے، سرکاری دفتروں میں جوتے، پولیس ناکوں پر جوتے، لوڈ شیڈنگ کے جوتے، آٹا بحران کے جوتے، مہنگائی کے جوتے ….جوتے ہی جوتے ….اس رسم کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ عام آدمی بھی (موقع ملنے پر) رسم ہذا کے ذریعے اپنے جذبات کے اظہار کا موقع ضائع نہیں کرتا، جیسے پچھلے سال اپریل میں کراچی اور لاہور میں لوگوں نے ارباب رحیم اور جناب شیر افگن تک اور حال ہی میں راولپنڈی ہائی کورٹ بارکے وکلاء نے جناب احمدرضاقصوری کی خدمت میں اپنے جذبات و احساسات بذریعہ جوتا پہنچائے۔ رسم مذکور کی مقبولیت اب ہماری ملکی سرحدیں پھلانگ چکی ہے اور وہ چلتے چلتے عراق اور انڈیا تک پہنچ گئی ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ بارے کہا جا سکتا ہے ’’قانون فطرت ہے کہ انسانوں کے جذبات کو جوتے کی نوک پر رکھنے والوں کا مقدر جوتے ہی ہوتے ہیں ‘‘

 

وقار خان 

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سفر نامہ بھارت – دوسری قسط
  • دیہی سندھ کے مسائل
  • غیر قانونی مہاجرت
  • سو مت جانا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مزاح نگاری کا پہلا سبق
پچھلی پوسٹ
یہ جو ٹینشن ہے، دشمن ہے ہمارا

متعلقہ پوسٹس

سرائے کے باہر

مئی 23, 2023

لڑکی کا جادو

اگست 7, 2022

سفید کبوتری از زکریا تامر​

مئی 17, 2024

ٹھنڈا سورج

نومبر 7, 2020

نقشِ دلبر بہ دستِ قلم

دسمبر 15, 2024

گزارش

مئی 10, 2025

تم کو اس کا شعور تھا ہی نہیں

ستمبر 27, 2025

تعاقب

جون 9, 2020

سانسوں میں اک شور بپا ہے

مئی 18, 2020

اردو غزل کا سورج – سورج نرائن

اپریل 24, 2011

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

زخم کھلتے ہی چلے جاتے ہیں...

فروری 5, 2020

ہر دن ماں کا دن

مئی 13, 2021

انجمن پنجاب

اپریل 11, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں