خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابھارتی توپیں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

بھارتی توپیں

از عابد ضمیر ہاشمی اکتوبر 28, 2023
از عابد ضمیر ہاشمی اکتوبر 28, 2023 0 تبصرے 70 مناظر
71

کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے خلاف آج 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پرمنایا جائے گا۔
27اکتوبر تاریخ کا وہ سیاہ دِن ہے جب 1947ء میں بھارت ایک سامراج کے روپ میں ابھرا اور کشمیریوں کی مرضی اور تقسیم بر صغیرکے اصولوں کے خلاف کشمیر پر جارحیت کر کے اس کے ایک حصے پرجبری قبضہ کر لیا۔جو آج تک کشمیریوں نے تسلیم نہیں کیا۔
دراصل مسئلہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نا مکمل ایجنڈا ہے۔ تقسیم برصغیر کے رہنما اصولوں کے مطابق کشمیر پاکستان کا فطری حصہ ہے اور کشمیری عوام 87فیصد مسلمانوں کی آبادی کے علاوہ جغرافیائی اور تہذیبی رشتوں کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ رہنے کے خواہشمند تھے اور ہیں۔ 19جولائی 1947ء کو سرینگر کے علاقے آبی گزر میں ایک تاریخی قرارداد پاس کی جس میں ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیاگیا۔ لیکن بھارتی سامراج نے تمام قوانین اور اخلاقی ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے ریاست پر فوج کشی کی اور اس کے بڑے حصے پر قبضہ جما لیا۔ کشمیر ی عوام نے بھارت کے اس غاصبانہ قبضے کو مسترد کر تے ہوئے اس جارحیت کے خلاف مزاحمتی تحریک شروع کی جو دِن بدن تیز ہوتی جارہی ہے۔

کشمیریوں کی جدو جہد سے خوف زدہ ہو کر بھارتی سامراج اپنے غاصبانہ تسلط کو جواز بخشنے کے لیے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں لے گیا۔ اقوام متحدہ نے مختلف مواقع پر 18قراردادیں پاس کیں جن میں کشمیری عوام کو یقین دلایا گیا کہ ان کو اقوام متحدہ کی زیر نگرانی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کے فیصلے کا اختیار دیا جائے گا۔
بعد ازاں بھارت اپنے وعدوں سے مکر گیا اور اب سات دہائیوں سے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے کشمیریوں پر اپنی دس لاکھ فورسز مسلط کر کے اپنے غیر قانونی زیر قبضہ جمو ں وکشمیر کو ایک وسیع و عریض جیل اور دُنیا کے سب سے زیادہ فوجی تعیناتی والے خطے میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ بے لگام اور بد حواس فوجی انسانیت کے خلاف سنگین اور ہولناک جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں جن میں منظم نسل کشی‘ بدترین تشدد‘ جائیداد کی تباہی اور خواتین کی آبروریزی بھی شامل ہے۔

1989 ء سے اب تک ایک لاکھ کشمیریوں کا سفاکانہ قتل بدترین تشدد کے ذریعے ہزاروں کو ذہنی و جسمانی طور پر ناکارہ بنانے کا مکروہ عمل‘5لاکھ سے زائد مکانوں‘ دکانوں اور دیگر تعمیرات کی تباہی‘ 11ہزار سے زائد عفت مآب خواتین کی آبروریزی‘10ہزار سے زائد کشمیریوں کی حراستی گمشدگی اور دیگر بھیانک جرائم اس بات کا ناقابل تردیدثبوت ہیں کہ بھارت کشمیر کو قبرستان اور کھنڈرات میں تبدیل کرنے پر تلا ہوا ہے؛ اگرچہ کشمیری عوام 1947ء سے ہی بھارت کی بدترین ریاستی دہشت گردی کے شکار ہیں؛تاہم نریندر مودی کی زیر قیادت RSSکی فسطائی حکومت نے انسانیت دشمنی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دئیے۔ اگرچہ ہندوؤں کی بالا دستی پر یقین رکھنے والے ہندو انتہا پسندعناصر کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیرکو بھارت میں ضم کر کے کشمیریوں پر ہندوتوا تہذیب مسلط کریں‘ تاہم ہندوتوا کے اس شیطانی ایجنڈے کا باقاعدہ آغاز5اگست 2019ء کو اس وقت ہوا جب دفعہ370اور35اے جس کے کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کو مستقل رہائش اختیار کرنے اور زمینیں خریدنے اور سرکاری نوکریاں حاصل کرنے کی ممانعت تھی کو منسوخ کر دیا گیا۔ اس مذموم اور مسلم دشمن اور صیہونی طرز کی سازش کا مقصد غیر ریاستی ہندوؤں کی آباد کاری کے ذریعے کشمیر کی ڈیمو گرافی کو تبدیل کرنا اور کشمیری مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے
ساتھ ہی ہندوتوا کے پجاریوں نے نہ صرف کشمیریوں کی منظم نسل کشی کا سلسلہ تیز کر دیا بلکہ 90لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی کو گھروں میں محصور کر دیا۔

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے ظالمانہ فوجی محاصرے کوتین سال سے زاہد عرصہ ہو چکا ہے۔ برہمن سامراج نے نہ صرف اپنی دس لاکھ فورسز مسلط کر رکھی ہے بلکہ محصور کشمیریوں کے تمام سیاسی سماجی‘معاشی اور مذہبی حقوق بھی چھین لیے ہیں۔ اس کے علاوہ صحت اور تعلیم کی سہولیات سے بھی کشمیری محروم ہیں۔ ظالمانہ اور تاریخ کے اس طویل ترین فوجی محاصرے نے کشمیریوں کی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر کی خواتین کو محاصرے اورتلاشی کی کارروائییوں کے بہانے بھارتی فورسز کے ہاتھوں مسلسل اغوا‘ جنسی تشدد ٗ غیر قانونی حراستوں اور چھیڑ چھاڑ کا سامنا ہے جبکہ بھارتی حکومت نے ”آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ“نام سے ایک کالا قانون بنارکھا ہے جس کے ذریعے جنسی تشدد میں ملوث بھارتی فوجیوں کو سزا سے بچایا جاتاہے۔بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو غیر قانونی حراست میں لینے کے لئے دو کالے قوانین”پبلک سیفٹی ایکٹ“(PSA)اور”غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کاقانون“(UAPA) بنا رکہے ہیں۔
اگست2019میں مودی حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے مقبوضہ علاقے میں ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔کشمیرکی جیلوں میں قید تحریک آزادی کے کارکنوں کو خودکشی یا حادثات ظاہر کرکے قتل کیا جارہا ہے اب تک متعد قیدیوں کوکشمیر کی جیلوں سے دہلی کی تہاڑ جیل میں منتقل کیا جاچکا ہے تاکہ وہاں ان کو دی جانے والی اذیت ناک موت کا کسی کو پتہ نہ چل سکے۔
مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل کی طرز پر آباد کاری کرتے ہوئیے ایک طرف مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے تو دوسری جانب اب تک پینتالیس لاکھ سے زائیدہندووں کوڈومیسائیل جاری کرکے وہاں آباد کیا جارہا ہے جبکہ25 لاکھ بھارتی شہریوں کومتنازعہ علاقہ میں ووٹ ڈالنے کاغیر قانونی حق دے دیاگیا ہے اس کے علاوہ دریائے چناب پرریلوے ٹریک بناکر مقبوضہ وادی کو بھارت کے بڑے ریلوے نیٹ ورک کے ساتھ منسلک کرنے کا منصوبہ بھی بنایا جارہا ہے۔بھارتی حکومت نے اپنی دس لاکھ سے زائد فوج تعینات کرکے مقبوضہ کشمیر کو دُنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے‘ اس کے باوجود عالمی ضمیر سو رہا ہے۔ غزہ ہو یا کشمیر‘ آزادی کا سورج طلوع ہو کر رہے گا۔ کفر سارا ایک ملت ہے۔ غزہ ہو یا کشمیر‘ ہمیں جھنجوڑا رہے کہ اگر کفر سارا ایک ملت ہے‘ تو ہم اسلام‘ قرآن‘ بہترین رہبر رحمت العالمین کے ہوتے‘ علاقائی‘ مسلکی‘ قبیلائی‘ فرقہ واریت میں کیوں رسوا ہو رہے‘ ہمیں ایک امت بننا ہو گا۔ غزہ اور کشمیر کی آزادی یقینی ہے۔ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔

 

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شادیوں پر فضول خرچی — روایت یا مصیبت؟
  • پرندوں کا شکوہ
  • افشائے راز
  • خوب، روپ اور بہروپ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
عابد ضمیر ہاشمی

اگلی پوسٹ
گرد آلود لہو لہو چہرے!
پچھلی پوسٹ
کرکٹ، سیاست اور فلسطین!

متعلقہ پوسٹس

رمضان اور متزلزل ایمان

اپریل 23, 2021

اصغر اعظم

مئی 10, 2020

شال

فروری 3, 2020

پڑھے کلمہ

جنوری 24, 2020

خطرے کی گھنٹیوں سے بھاگے ہوئے

جون 21, 2020

کے۔ٹو کتنا ضدی ہے؟؟

دسمبر 25, 2024

یادیں

مئی 9, 2020

ایک غیر معمولی لذت

جنوری 27, 2025

میں عورت ذات ہوں

مارچ 8, 2020

عشق کی مسافتیں

فروری 2, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کوئی ہو جس کو مرا انتظار...

نومبر 9, 2025

گاؤں کی رانی​

دسمبر 12, 2019

ہم اک پری کی محبت میں

فروری 27, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں