111
جن دنوں مجھ کو بہت پیار ہوا کرتا تھا
ان دنوں پیار لگاتار ہوا کرتا تھا
آج جس شخص نے مجھ پر ہے چلایا خنجر
یہ کسی وقت مرا یار ہوا کرتا تھا
جس پہ چلنے سے مجھے ٹھوکروں کا سامنا ہے
یہی رستہ کبھی ہموار ہوا کرتا تھا
عشق نے آخرِ کار ایسا دکھایا تھا مقام
آنکھوں آنکھوں میں ہی اظہار ہوا کرتا تھا
اُس کو خوش دیکھ کے خوش ہوتا، اداسی میں اداس
وہ مری جیت مری ہار ہوا کرتا تھا
ہجر نے تیرے سنوارا ہے مجھے خاک بدن
دیکھ! یہ شخص تو بیکار ہوا کرتا تھا
اپنے بارے میں تو ہر شخص یہی کہتا ہے
میں سیاہ کار، گنہگار ہوا کرتا "تھا..!”
جن دنوں تیری قرابت کی ضرورت تھی بہت
اُن دنوں تُو مجھے دشوار ہوا کرتا تھا
جس قبیلے نے مجھے زیر کیا ہے واعظ
اس قبیلے کا میں سردار ہوا کرتا تھا
عمر اشتر
