خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابھارت میں مدارس اسلامیہ کا مستقبل
آپکا اردو باباابو فہداردو تحاریراردو کالمز

بھارت میں مدارس اسلامیہ کا مستقبل

از ابو فہد ندوی جنوری 8, 2022
از ابو فہد ندوی جنوری 8, 2022 0 تبصرے 69 مناظر
70

عصری تعلیم سے ہم آہنگی پربحث کوسمیٹ کر قدم بڑھانے کی ضرورت

بحیثیت مسلمان اگر ہم یہ ماننے اورکہنے کی پوزیشن میں ہیں اور یقیناً ہیں کہ اسلام کا مستقبل روشن اور تابناک ہے تو ہم بجا طور پر یہ کہنے کی پوزیشن میں بھی ہیں کہ مدارس اسلامیہ کا مستقبل بھی تابناک اور روشن ہے کیونکہ جس طرح اسلام اور مسلمان لازم وملزوم ہیں ٹھیک اسی طرح مدارس اور مسلمان بھی لازم وملزوم ہیں۔
جس طرح ایک مسلمان کو اللہ کی کتاب سے فراغ ممکن نہیں ہے اسی طرح مسلمانوں کے لیے مدارس سے بھی فرار ممکن نہیں ہے۔اگر مدارس نہیں ہوں گے تواسکول اور کالج ہوں گے جہاں قرآن وحدیث کی تعلیم اور تربیت کے لیے گنجائشیں نکالنی پڑیں گی۔بلکہ عصری اداروں اورجامعات میں دینی علوم کے لیے جتنی گنجائشیں اور سہولتیں آج موجود ہیں، مدارس کی عدم موجودگی میں ان سے کہیں زیادہ سہولتیں اور گنجائشیں درکار ہوں گی۔
مدارس کے نصاب اور نظام میں تبدیلی اور اصلاح کی کوشش بلاشبہ مبارک کوشش ہوسکتی ہے مگر فرار کی کوشش خود اپنی ذات اور تشخص سے فرار کی کوشش بن کر رہ جائے گی۔کیونکہ دینی مدارس سے فرار کا مطلب واضح طورپر علم دین سے فرار کے ہم معنیٰ ہے اور علوم دینیہ سے فرارایمان وعقیدے سے فرار ہے۔اگرخدا نخواستہ ایسی کوئی صورت حال پیدا ہوتی ہے کہ مدارس دینیہ اپنا اعتبار اور وقار کھودیں اور عصری دانش گاہیں دینی علوم کے لیے گنجائشیں پیدا نہ کریں تو مسلمان بس نام کے مسلمان بن کر رہ جائیں گے۔مسلمانوں کو کام کا مسلمان بنائے رکھنے کی ذمہ داری کل بھی علمائے اسلام کی تھی اور آج بھی انہی کی ہے۔
میرا خیال ہے بلکہ خیال سے آگے بڑھ کر یقین ہے کہ اکیسوی صدی کے اختتام تک آتے آتے اب ایسے استدلال قائم کرنےکے لیے بہت وقت گزر چکا ہے کہ ہم آج بھی یہ جاننے کی کوشش کریں کہ دین میں عصری تعلیم کے لیے کیا گنجائشیں ہیں اور کیا کیا راہیں نکلتی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ اب اقدام کا وقت ہے ۔
کم وبیش گزشتہ تین صدیوں پر محیط محکومانہ زندگی گزارنے کے بعد مسلمانوں پر اب یہ بات تقریباً پوری طرح ثابت ہوچکی ہے کہ علم کی دوئی اور ثنویت سے امت کو، علماء کو اور خود تعلیم و دعوت کے کاز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس لیے موجودہ دور میں علم کی ثنویت سے پیچھا چھڑا کر یہ جاننے اور کرنے کی کوشش ہونی چاہیے کہ فارغین مدارس دینی علوم کی تعلیم کے ساتھ اور کیا کچھ کرسکتے ہیں۔
آج کے زمانے میں ایک ڈاکٹر کے لیےمحض ڈاکٹر اور ایک انجینئر کے لیے محض انجینئر بننااور ہونا کافی ہوسکتا ہے، مگر ایک عالم دین کے لیے صرف عالم دین ہونا کفایت نہیں کرسکتا، کیونکہ اس کے ذمہ دعوت وتبلیغ کا جو بڑا کام ہے اس کی ضروریات اور تقاضوں میں سے ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مخاطب کی زبان، مزاج اورقابلیت کو جانتا ہو اور اُس سے اُسی کے علوم کے حوالوں سے بات کرسکتا ہو۔
بے شک یہ ایک مشکل ہدف ہے اور اسے حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اہل مدارس اور علمائے دین اپنے درمیان عصری علوم کو تقسیم کرلیں۔ اس کی ترتیب کچھ یوں ہو گی: عالِم دین پلس ڈاکٹر، عالِم دین پلس انجینئر، عالم دین پلس وکیل، عالِم دین پلس سیاست داں، عالِم دین پلس سائنسداں اور عالِم دین پلس صحافی ومحقق، مؤرخ اور ماہرمعاشیات واقتصاد وغیرہ وغیرہ۔
اگر اس ترتیب کو صحیح طرح سے اپنالیا گیا تو ہم دیکھیں گے کہ ہمارے پاس جلد ہی ہر میدان میں کام کرنے والے اور ہر علم وفن کے حوالے سے بات کرنے والے اور جواب دینے والے اور قرآن وحدیث کے استدلال کو جدید عصری علوم وفنون کے استدلال سے ہم آہنگ کرکے پیش کرنے والے علماء وفضلاء موجود ہوں گے، اور پھر معاشرے پر ان کا اثر ورسوخ بڑھ جائے گا۔علمائے دین کی قدر ومنزلت تو بڑھے گی ہی دعوت دین بھی خوب پھلے پھولے گی۔ساتھ ہی علمائے دین اور مدارس کی معاشی واقتصاد ی حیثیت کے مستحکم ہونے کے امکانات بھی بہت بڑھ جائیں گے۔
اس لیے ہماری ساری محنت اور پورا زور تعلیم کی ترتیب اور نظم پر ہونا چاہیے اور طریقہ تدریس پر ہونا چاہیے اور اس پر ہونا چاہیے کہ علم کے حصول کو زیادہ آسان اور دلچسپ بنانے کے طریقے کیا ہیں اور پھر انہیں موثراور کارگر بنانے کے کیا گُر ہوسکتے ہیں۔
حضور ﷺ نے نافع اور ضار کی نسبت کے ساتھ علم کی جو تقسیم فرمائی ہے اس کا تعلق دنیا وآخرت دونوں کی مضرتوں اور نافعیتوں سے ہے جو انسان کو کسی بھی طرح حاصل یا لاحق ہوسکتی ہیں۔ البتہ اس تقسیم کا براہ راست تعلق علوم وفنون سے کم ہے اور علم حاصل کرنے والوں کی اپنی فکر اور انتظامات سے زیادہ ہے۔ اور اس پہلو سے زیادہ ہے کہ کس علم سے کیا کام لیا جارہا ہے۔
موجودہ دور میں جتنے بھی جدید علوم ہیں ان میں سے بیشتر علوم مفید ہی ہیں، اگرمضرتوں سے ان کی کوئی نسبت بنتی ہے تو وہ زیادہ ترعلم حاصل کرنے والوں کی اپنی ذہنیت، اخلاق، کردار اور عمل سے بنتی ہے اور اس بات سے بنتی ہے کہ اس علم کو کس طرح برتا جارہا ہے۔بے شک چند علوم وفنون ایسے ضرور ہیں جن کی مضرتیں واضح ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
علم نافع ہر وہ علم ہے جس سے خود علم حاصل کرنے والے کو، سماج کو اور ساری انسانیت کو فائدہ پہنچے۔ اب یہ فائدہ خواہ دنیوی زندگی کو آسان اور خوبصورت بنانے کےزمرے میں ہی کیوں نہ آتا ہو، ہوگا بہر حال وہ فائدہ ہی۔اگر کسی علم سے اناج ونباتات کی پیداوار بڑھائی جاسکتی ہے،لوگوں کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں، قوم وملک کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے اور انسانوں کی زندگیوں میں سہولتیں پیدا کی جاسکتی ہے تو وہ ہرطرح سے علم نافع ہی ہے بشرطیکہ اس میں مضرت رساں عناصرشامل نہ کیے گیے ہوں۔ علم نافع اور علم ضار کے حوالے سے مولانا عمار زاہد الرشادی نے درست لکھا ہے:
’’ میری طالب علمانہ رائے میں اسلام نے علوم کو دنیوی اور دینی حوالے سے تقسیم نہیں کیا بلکہ نفع و ضرر کو علوم کی تقسیم کا باعث سمجھا ہے اور یہ نفع و ضرر دنیا اور آخرت دونوں حوالوں سے ہے۔ اس لیے جو علم انسان کے لیے فرد اور معاشرہ کے دونوں دائروں میں اس کی آخرت کی نجات اور فوز و فلاح اور دنیا کی زندگی کو زیادہ سے زیادہ بہتر، پراَمن اور باسہولت بنانے کے لیے مفید ہے وہ اسلام کی نظر میں مطلوب علم ہے، اور جو علم ان دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے لیے نقصان کا باعث بنتا ہے وہ علوم ضارہ میں شمار ہوتا ہے۔‘‘ [مضمون: اسلام کا تصورِعلم اوردینی مدارس کا کردار]
مضمون کے اختتام پر لکھتے ہیں:
’’ آج کی گلوبل دنیا اور مستقبل کا بین الاقوامی ماحول ہمیں اس طرف توجہ دلا رہا ہے کہ ہم اپنے محدود اور مقامی و علاقائی ماحول کا اسیر رہنے کے بجائے عالمیت، گلوبلائزیشن اور بین الاقوامیت کے تقاضوں اور ضروریات کو بھی سمجھیں اور اس کے لیے اپنے تعلیمی نصاب اور تربیتی نظام میں جس ردوبدل اور تنوع کی ضرورت ہو، اس سے گریز نہ کریں تاکہ دینی مدارس اپنے مستقبل کے کردار کو امت مسلمہ کے لیے زیادہ سے زیادہ مفید بنا سکیں۔ ہمارے اکابر نے ہر دور میں یہ عمل سرانجام دیا ہے اور آج بھی یہ عمل ہم سے پیش رفت کا متقاضی ہے۔‘‘
اگر اہل مدارس کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ہے تو علماء کو ہر میدان میں آنا ہی ہوگا، مدارس کے طلبہ ڈاکٹر بھی بنیں، انجینیر بھی اور وکیل بھی۔ جب مدارس کے فارغین اپنے علم وعقیدے اور اسلامی طرز زندگی، لائف اسٹائل کے ساتھ دوسرے میدانوں میں پہنچیں گے اور بڑی تعداد میں پہنچیں گے اور لوگ ان کے افکار، نظریات اور لائف اسٹائل سے واقف ہوں گے تو ان کے دلوں پر ضرور اس کے مفید اثرات پیدا ہوں گے۔
صرف چند سال پہلے تک اس معاملے میں علماء کی رائے بڑی مختلف تھی مگر آج کے مخصوص حالات اور ماحول میں اب بیشتر علماء کی رائے یہ بن رہی ہے کہ مدارس کو اپنا مستقبل اگر روشن بنانا ہے اور خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے بلکہ بدلے ہوئے حالات میں اپنے آپ کو ثابت کرنا ہے تو انہیں اپنے نظام تعلیم وتربیت میں اور مدارس کے نصاب میں خاطر خواہ تبدیلیاں کرنی ہی ہوں گی، اور سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حال میں فارغ ہونے والے طلبہ مدارس کی ایک بڑی تعداد کی بہت پختہ رائے اور پرزور مطالبہ ہے کہ مدارس کے نصاب تعلیم کو تھوڑی بہت کمی وبیشی کے ساتھ اسکولوں کے نصابِ تعلیم کے مماثل ہی کردیا جائے۔ یعنی وہ چاہتے ہیں کہ دسویں یا بارہویں جماعت تک کی تعلیم تھوڑی بہت کمی وبیشی کے ساتھ اسکول کی تعلیم کے مساوی ہو، اس کے بعد جسے اسلامک اسٹڈیز کے جس شعبے میں جانا ہے وہ اس شعبے میں جائے اور دینیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔موجودہ علماء کی نوجوان نسل میں بہت کم ایسے ہوں گے جو اس رائے سے منحرف نظر آئیں گے۔تاہم پھر بھی معلوم نہیں کیوں ایسا ہے کہ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھتی۔اب تک تو نہیں چڑھی اور مستقبل قریب میں اس حوالے سے کسی طرح کی خوش گمانی پتہ نہیں کیوں بدگمانی جیسی لگتی ہے۔
آج ملک کے حالات بہت دگرگوں ہیں، ایسے حالات میں اگر اسلامی مدارس کو زندہ رہنا ہے اور دین کے لیے اسی پلیٹ فارم سے کام کرنا ہے تو مدارس کو اپنے اندر کئی طرح کی تبدیلیاں پیدا کرنی ہوں گی۔
پہلی تبدیلی نصاب تعلیم کے حوالےسے کرنی ہوگی، دوسری طریقہ تدریس کے تعلق سے اور تیسری بڑی تبدیلی یہ کرنی ہوگی کہ بھارت کے تمام مدارس ایک مضبوط نیٹ ورک سے جڑ جائیں۔
نصاب کی تبدیلی یہ ہے کہ دسوی یا بارہویں جماعت تک تھوڑی بہت ترمیم اور حذف واضافے کے ساتھ مدارس کا نصاب تعلیم بھی اسکولوں کے نصاب تعلیم کے مساوی کر دیا جائے۔
طریقہ تدریس کی تبدیلی کا یہ مطلب ہے کہ طریقہ تدریس محض خطابی اور تقریری نوعیت کا نہ رہے بلکہ تفہیم کا پہلو غالب رہے، پھر اس میں جدید آلات کا بھر پور اور صحیح استعمال ہو اور ساتھ ہی مسلکی عصبیتیں اور گروہ بندیوں والی سوچ طلبہ کے دماغ میں نہ ڈالی جائے۔
اور مضبوط نیٹ ورک سے جڑنے کا مطلب یہ ہے کہ تمام مدارس اسلامیہ کا ایک غیر سرکاری وفاق عمل میں لایا جائے، جس کو چلانے والے سرکردہ علماء اور قوم کے بہی خواہ لوگ ہوں اور وہ چھوٹے بڑے تمام مدارس کو ایک مضبوط نیٹ ورک سے جوڑ دیں، مدارس اور اہل مدارس کی خود مختاری کو باقی رکھتے ہوئے ان کے لیے باہر سے ہر طرح کی امداد فراہم کریں اور خاص کر ان کے لیے قانونی لڑائی لڑیں۔
ان تینوں پہلوؤں سے اگر خاطر خواہ تبدیلیاں کرلی گئیں تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ مدارس اپنے وجود کی کشتی کو وقت کی طوفان خیز لہروں سے صحیح سلامت گزار لے جائیں گے۔ انشاء اللہ۔
مدارس میں تعلیم وتربیت کا نظم کرنے والے اہل بست وکشاد اور درس وتدریس سے وابستہ علماء جتنی جلدی اس معاملے میں پیشرفت کرتے ہیں ان کے لیے اتنی ہی جلدی روشن مستقبل کے دروازے کھل جائیں گے اور وہ اس معاملے میں جتنی زیادہ تاخیر اور لیت ولعل سے کام لیں گے ان کا نقصان اسی نسبت سے بڑھتا چلا جائے گا۔

ابوفہد ندوی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نوحهِٔ زمین
  • پتوکی از مستنصر تارڑ
  • افتخار شاہد کی غزل کا فکری و فنی تجزیہ
  • کوئی ایسا سبب نہیں ہوتا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
ابو فہد ندوی

اگلی پوسٹ
تانتیا
پچھلی پوسٹ
سڑک – جو خون اگلتی ہے

متعلقہ پوسٹس

جب تک مرے الفاظ کی ترسیل نہ ہوگی

ستمبر 19, 2020

ہرگھڑی ہے قیامت کی جیسےگھڑی

اپریل 18, 2020

ہر اک منظر بھگونا چاہتی ہے

جنوری 23, 2020

مشہور علماء کے تعارف

دسمبر 6, 2025

نئے سال کا پہلا کالم محبت کے نام

جنوری 1, 2019

اے مالک دو جہاں رحم فرما

اکتوبر 12, 2020

عالمی فلوٹیلا

اکتوبر 2, 2025

لحاف

نومبر 2, 2019

زمستاں ہے یہاں تو ہو رہا

نومبر 24, 2025

عکس ھو سکتا ھوں

جولائی 24, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سیلاب، سیاست اور بے بس انسان

ستمبر 9, 2025

چراغِ وصل ابھی تک جلا نہیں...

جنوری 6, 2023

گل بانو اور فائزہ کی دوستی

اپریل 1, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں