101
انگلیاں کٹ گئیں اور بل نہیں کھلنے والا
مجھ سے اس عقدے کا جنگل نہیں کھلنے والا
شہر تو دور تلک بند پڑا ہے صاحب
گاڑی کیجے کہ یہ پیدل نہیں کھلنے والا
اس نے سب تالوں کی اک چابی بنا رکھی ہے
پھر بھی وہ شخص مکمل نہیں کھلنے والا
میرا سر آپ کی شفقت سے رہے گا محروم
مجھ پہ یہ دست – مقفل نہیں کھلنے والا
رسیاں باندھ کے رکھا ہے دوانے پن کو
بند کمرے سے یہ پاگل ،،، نہیں کھلنے والا
اک ملاقات ابھی چھت پہ بھی جا کر ہوگی
اونچی دیوار سے پیپل نہیں کھلنے والا
چند لمحوں کی بسنت آئی ہے مجھ پر اے دوست
یعنی تا دیر یہ آنچل نہیں کھلنے والا
عاطف کمال رانا
