خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریراردو ادب پر سوشل میڈیا کے مثبت اثرات
اردو تحاریراردو کالمز

اردو ادب پر سوشل میڈیا کے مثبت اثرات

از سائیٹ ایڈمن جون 28, 2021
از سائیٹ ایڈمن جون 28, 2021 0 تبصرے 66 مناظر
67

قرون اولیٰ سے لے کر آج تک ادب کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں ابلاغ کے بے شمار ذرائع نظر آتے ہیں جو ادب میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ کبھی یہ پتھروں پر تحریر ہوا، تو کبھی مجسموں کی شکل میں ظاہر ہوا، کبھی اس نے نقاشی اور مصوری کو اپنی تشہیر کا ذریعہ بنایا تو کبھی پرفارمنگ آرٹ کے ذریعہ اس کی پذیرائی ہوئی۔ قرون اولیٰ سے لے کر آج تک ادب کے فروغ کے لیے میڈیا اپنا اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

 

برصغیر پاک و ہند میں اردو ادب کی ابتداء چودھویں صدی عیسوی میں” امیر خسرو ” اور صوفی بزرگ ” خواجہ گیسو دراز ” سے ہوئی، جنہوں نے اردو ادب کو فارسی آمیزش کے ساتھ متعارف کرایا۔ اردو دکن سے ہوتی ہوئی ولی دکنی کے ذریعہ دہلی کے ادبی حلقوں میں روشناس ہوئی۔ دہلی کے شعراء اور ادباء اس نئی زبان سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے اسے تحریر کا ذریعہ بناتے ہوئے” ریختہ ” کا نام دیا۔ ادب کے ابلاغ میں نمایاں اضافہ اٹھارویں صدی کے شروع میں ہوا جب خواجہ میر درد، میر تقی میر، خواجہ حیدر علی آتش اور محمد رفیع سودا جیسی ادبی ہستیوں کا کلام منظرعام پر آیا۔

 

انیسویں صدی میں میر ببر علی انیس اور دبیر نے اردو ادب میں مرثیہ کو رواج دیا۔ اسی صدی میں اردو ادب کے ابلاغ میں ایک نئی جہت کا اضافہ ہوا جب اکثر ادیبوں اور شاعروں کی تصانیف کو فورٹ ولیم کالج کلکتہ نے شائع کیا۔ جبکہ اردو جرائد اور اخبارات نے محمد حسین آزاد، الطاف حسین حالی، علامہ اقبال، فیض احمد فیض، اختر شیرانی، بلونت سنگھ، راجندر سنگھ بیدی، کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، قرۃ العین حیدر، ابراہیم جلیس، احمد ندیم قاسمی اور انتظار حسین کی تخلیقات شائع کر کے ادب کو حقیقت پسندی کا رنگ دیا اور ان کی تخلیقات کو عوام الناس تک پہنچا کر عام لوگوں کو بھی ادب سے روشناس کرایا، مگر بعد میں ہونے والی ایجادوں نے تو گویا سونے پر سہاگے کا کام کیا۔ یعنی فلم، ٹیپ ریکارڈر، ٹیلی ویژن، وی سی آر، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، سی ڈیز اور ای میل نے تو ادبی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ اسی طرح بیسویں صدی میں ادب کو پروان چڑھانے میں” ٹی ہاؤس ” اور ” کافی ہاؤس ” کا بھی بڑا کردار رہا ہے۔ مگر پھر کافی ہاؤس کلچر کافی حد تک کم ہو گیا اور اس کی جگہ انٹرنیٹ کیفے نے لے لی۔

 

انٹرنیٹ کیفے کے بعد ہم ایک قدم اور آگے بڑھا کر ابلاغ کے جدید دور میں داخل ہو گئے ہیں جسے عرف عام میں ” انفارمیشن ٹیکنالوجی ” کہا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے ادب کے لیے جو گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ آج ادیبوں کو باہم مل بیٹھنے کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر طے کرنے کی ضرورت نہیں، نہ ہی ڈاک کے ذریعے خطوط اور مراسلے روانہ کرنے کی حاجت اور نہ ہی جرائد اور کتب کی عدم دستیابی کا مسئلہ باقی رہا ہے۔ آج آپ چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، ایک ہی وقت میں لاکھوں لوگوں کے ساتھ اپنی تخلیقات کا تبادلہ کر سکتے ہیں اور ان کے تجزیے اور تبصروں سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

 

ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ ادبی صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا ہے، لیکن وہ وسائل کی کمی کی وجہ سے ادبی تخلیقات نہیں لکھ پاتے ہیں اور اگر لکھ بھی لیں تو انھیں اس کی طباعت کے لیے مالی دشواریوں اور وسائل کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس طرح ان کی صلاحیتیں ان کے ساتھ ہی قبر میں چلی جاتی ہیں، لیکن دور حاضر میں ایسے لوگوں کے لیے ایک خوبصورت موقع سوشل میڈیا کی صورت میں واقع ہوا ہے۔ جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی تخلیقات با آسانی سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیتے ہیں اور ایک دنیا ان کی علمی کاوش اور صالح خیالات سے مستفید ہو جاتی ہے۔

 

ہمارے اطراف میں کئی ایسے نامور لکھنے والے موجود ہیں جنھوں نے پہلے پہل سوشل میڈیا کو ہی اپنا میدان بنایا اور ان کی صلاحیتوں سے دنیا واقف ہوئی۔ آج ان کا شمار نامور لکھاریوں میں ہوتا ہے۔ بقول اقبال:

 

جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود

کہ سنگ و خِشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

 

اسی طرح وہ حضرات جو متلاشی علم ہیں اور جنھیں پہلے اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے کتب خانوں کا چکر لگانا پڑتا تھا اور بسا اوقات بہت سی مطلوبہ کتابوں سے محرومی ہوا کرتی تھی، اب ایسے لوگ سوشل میڈیا کے وساطت سے ملک و عالم کے بڑے بڑے کتب خانوں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں اور بروقت من پسند کتابوں سے مستفید ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کو علمی افادہ و استفادہ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ باطل خیالات و تصورات جن کو ملک و معاشرے کے شرپسند عناصر پھیلا کر عدم رواداری کا ماحول بناتے ہیں، ان کا تعاقب و دفاع بھی سوشل میڈیا کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔

 

سوشل میڈیا ہماری زندگی میں جس تیزی سے داخل ہوا ہے، اس میں سب سے پہلے فیس بک کا نام آتا ہے۔ فیس بک کے ذریعے رابطہ کرنا، اپنے خیالات اور پیغامات کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا، نت نئے دوست بنانا، گپ شپ کرنا کسی بھی خطے میں موجود کسی بھی شخص سے اب انتہائی آسان ہو چکا ہے۔ اس کےعلاوہ فیس بک کو بزنس اور ایڈورٹائزمنٹ ٹول کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اب آپ بستر میں لیٹے ہی دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والی کسی بھی قسم کی بات چیت میں حصہ لے سکتے ہیں۔ سچائی تو یہ ہے کہ فیس بک آج کے دور میں سماجی اور کاروباری روابط کا عالمگیر ذریعہ بن چکا ہے۔ ایک وقت وہ تھا کہ دنیا پر پرنٹ میڈیا کا راج تھا، پھر الیکٹرونک میڈیا کا دور آگیا اور اس وقت ہم سوشل میڈیا کے دور میں داخل ہوگئے ہیں۔ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو وقت کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیتی ہیں۔ بقول اقبال:

 

وہی زمانے کی گردش پہ غالب آتا ہے

جو ہر نفَس سے کرے عُمرِ جاوداں پیدا

 

 

ہمارے ملک کی % 85 آبادی نوجوانوں کی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو سب سے زیادہ خواب دیکھتا ہے اور ان خوابوں کو پورا کرنے کی سعی بھی کرتا ہے۔ سوشل میڈیا ان نوجوانوں کو خواب دکھانے سے لے کر انہیں سنوارنے، نکھارنے اور ان کے خوابوں کو تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہمارے ملک کے ان دور دراز علاقوں میں جہاں آمد و رفت کے ذرائع مسدود ہونے کے سبب اخبار، میگزین اور رسالے نہیں پہنچ پاتے ہیں، میڈیا وہاں ان کی تشنگی دور کرنے کے لیے انھیں آن لائن اخبارات اور رسائل کا مطالعہ کرا رہا ہے اور دنیا کے حالات سے باخبر رکھ رہا ہے۔ اس وقت نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد سوشل میڈیا کی طاقت کو استعمال کرکے ظلم، برائی اور نا انصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہی ہے۔

 

قصور میں پیش آنے والا زینب کیس جس میں بالآخر مجرم کو پھانسی دے دی گئی، محض سوشل میڈیا کی طاقت کے ذریعے ہی یہ ممکن ہوسکا۔ ایسے اور کئی واقعات ہیں جو سوشل میڈیا کی وجہ سے منظرعام پر آئے۔ وہ خبریں جن پرکبھی پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی اجارہ داری ہوتی تھی اور وہ معاملات جن پر بند کمروں میں بیٹھ کر مک مکا کر لیا جاتا تھا، اب انہیں چھپانا ممکن نہیں رہا۔ اس صورتحال کو معروف کالم نگار ” جناب اوریا مقبول جان ” نے اپنے ایک کالم میں بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے وہ لکھتے ہیں:

” کمپیوٹر پر بیٹھا ہوا نوجوان آپ کی کروڑوں روپے کی لاگت سے بنائی گئی میڈیا ایمپائرز کا مقابلہ کر رہا ہے، بلکہ اب تو جیت اس کا مقدر ہونے لگی ہے۔ اس سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ جن کو ہے ان کے منھ سے روز جھاگ نکلتی ہے اور وہ غصے سے کھولتے پھر رہے ہیں، وہ جنہیں اس بات کا زعم تھا کہ ہم ہواؤں کا رخ بدل سکتے ہیں ان کے ہاتھ پاؤں پھول رہے ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں تک پرنٹ میڈیا کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو مسخر کرنے والوں کی حالت دیکھنے والی ہے اور اب کنٹرول ہر اس شخص کے پاس ہے جو چھوٹے سے کمرے میں بوسیدہ کمپیوٹر پر بیٹھا ہے اور جو بساط الٹ سکتا ہے اور اس نے بساط الٹ کر رکھ دی ہے۔ “

 

محترم اوریا مقبول جان کے ان الفاظ سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کی کیا اہمیت ہے۔ میری چھٹی حس مجھے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ بہت جلد وہ وقت بھی آنے والا ہے کہ جب بچوں کو اسکولوں میں پڑھایا جائے گا کہ سوشل میڈیا کا استعمال کیسے کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا سے ہم وہ سب کچھ سیکھ سکتے ہیں جو حکیم لقمان جیسے عظیم دانشور نے لوگوں سے سیکھا تھا۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ ” آپ نے ادب کہاں سے سیکھا؟ ” حکیم لقمان نے جواب دیا: ” میں نے ادب بےادبوں سے سیکھا ہے، ان کا جو فعل مجھے برا محسوس ہوا میں نے اس کے کرنے سے پرہیز کیا ہے۔ ” ہم دن بھر کتنی چیزیں اور رویے ایسے دیکھتے ہیں جو ہمیں پسند نہیں ہوتے یا برے لگتے ہیں، بس تو پھر سوشل میڈیا پر بھی ان سب سے بچنا لازم ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ جلد از جلد یہ طے کر لیا جائے کہ سوشل میڈیا سے متعلق معلومات کو تعلیمی نصاب کا حصہ ہونا چاہیے تا کہ بچوں کو علم ہو کہ سوشل میڈیا سے کیسے فائدہ اٹھایا جائے اور نقصانات سے کس طرح محفوظ رہا جائے۔

 

آئندہ دنوں میں سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہو گا جسے ہم سب کو بہت سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ کیونکہ جس طرح گزشتہ سالوں میں ” سیلفی ” جیسا نیا لفظ سامنے آیا ہے، اس طرح آئندہ چند سالوں میں کئی نئے الفاظ انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی داخل ہوں گے اور آپ ان نئے الفاظ کا سوشل میڈیا پر جیسا استعمال کریں گے، اردو کے ارتقائی عمل کی سمت ویسی ہی متعین ہوگی۔ اس لیے مستقبل قریب میں سوشل میڈیا پر اردو ادب بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یہ محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ رابطے کا ٹول ہے۔

 

اردو ادب کے مستقبل کے حوالے سے جو خدشات ہیں، وہ جلد ہی چھٹ جائیں گے۔ کیونکہ اب اس کی بقا ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم جس طرح اردو ادب کو استعمال کریں گے، اس کی راہ ویسے ہی متعین ہوگی۔ ادب میں سوشل میڈیا نے نہ صرف ذہنی بلکہ مالی و معاشی اعتبار سے بھی بڑے مثبت اثرات منتقل کیے ہیں۔ پرنٹ میڈیا کے مقابلے میں سوشل میڈیا پر ہینڈ سم پیسے صحافیوں کو معاشی و ذہنی طور پر پرسکون رکھتے ہیں۔ معمولی تنخواہوں پر ملازمین کو رکھنے کے بعد ان سے ” مولوی عبد الحق ” بننے کی توقع رکھنا بیکار ہے۔ پرنٹ میڈیا میں ادب سنسر کی پابندی کے باعث اذیت کا شکار ہوجاتا ہے۔ ہر اخبار کی ایک لگی لپٹی پالیسی ہوتی ہے جسے کوئی ادھر سے ادھر نہیں کر سکتا ہے، لیکن سوشل میڈیا پر صحافی ” بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ” کے مصداق بلاخوف و خطر بولتا ہے۔ وہ اپنی آواز بعینہ اسی طرح پہنچاتا ہے جیسا کہ وہ پہنچانا چاہتا ہے۔

 

سوشل میڈیا نے ایک عام آدمی کو طاقت دی ہے کہ وہ اپنا پیغام دور دور تک پہنچا سکے۔

ہمارے ملک میں تعلیم کی کمی ہونے کے باوجود آج ملک کے ہر اس شخص کو جس کے پاس اسمارٹ فون ہے اور جو اردو کا ایک لفظ بھی نہیں لکھ پاتے تھے، وہ آج سوشل میڈیا کی مہربانی سے رومن اور اردو رسم الخط میں لکھنا اور پڑھنا جانتے ہیں۔ جو لوگ اردو شاعری پڑھنے سے بھاگتے تھے وہ اب بڑے بڑے شعراء کا کلام سننے کے لیے بیتاب رہتے ہیں۔ نوجوان نسل نے سوشل میڈیا پر ویب سائٹس کے ذریعے اردو ادب پڑھنا شروع کیا۔ پروین شاکر، احمد فراز، حبیب جالب اور دیگر ادباء و شعراء کے کلام کا وہ ذخیرہ جو وہ شاید کتاب اٹھا کر کبھی نہ پڑھ پاتے، سوشل میڈیا نے ہماری نسل کو جو شعور عطا کیا، بقول پروین شاکر:

 

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں

 

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

 

ہماری جنریشن ڈیجیٹل عہد سے مانوس ہوگئی ہے۔ سوشل میڈیا کے توسط سے وہ اب اپنی حفاظت کے لیے فکرمند ہے۔ آگاہی کا یہ در سوشل میڈیا نے ہی کھولا ہے۔ وہ زمانے گئے جب بی بی سی جیسے ادارے براڈ کاسٹر ہوا کرتے تھے، اب سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر شخص براڈ کاسٹر ہے۔ خود بی بی سی اب ریڈیو، ٹی وی اور ویب سائٹس کے بعد سوشل میڈیا کو اپنا چوتھا میدان سمجھتا ہے اور اس میدان کے لیے اس نے حکمت عملی تیار کی ہوئی ہے۔

 

ادب میں سوشل میڈیا کے مثبت یا منفی کردار کے لیے دراصل ہمیں اپنی طرز فکر میں تبدیلی لانا پڑے گی۔ دنیا کی کوئی چیز کم تر یا افضل نہیں ہوتی ہے، بس اس کے برتنے کا انداز و طریقہ ہوتا ہے جو مثبت یا منفی اثرات منتقل کرتا ہے۔ ہمیں وقت کے ساتھ اب تبدیل ہونا ہوگا اور سوشل میڈیا پہ ادب کی ترویج و ترقی کے لیے کوششیں کرنی ہوں گی۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو اپنے نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے۔

 

 

اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی

 

دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

 

اک تم کہ جم گئے ہو جمادات کی طرح

 

اک وہ کہ گویا تیر کماں سے نکل گیا

 

 

 

ساجد حمید

ایم فل اردو

 

 

 

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سیڑھیوں والا پُل
  • فوبھا بائی
  • مسیحا
  • عدم برداشت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شعر وشاعری کیا ہے
پچھلی پوسٹ
اچھوں کی تلاش

متعلقہ پوسٹس

دھان کی بذریعہ بیج براہِ راست کاشت

مئی 21, 2024

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

بیگم اور AI کا ٹیکنالوجی ٹکراؤ

مئی 6, 2026

رنگ برنگی عینکیں !

جولائی 12, 2021

05 فروری:یوم ِیکجہتی کشمیر!

فروری 5, 2022

گنبد تیز گرد نیلی فام

جنوری 2, 2022

وی آئی پی کارڈ

مئی 21, 2020

19جولائی: الحاق ِ پاکستان

جولائی 19, 2020

لاوارث

جون 14, 2020

عربی زبان

مارچ 13, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

"انسانیت سب سے بڑی عبادت ہے

ستمبر 22, 2025

خیالوں کی ادھوری دیوی

اپریل 9, 2023

علوم کی بدنصیبی

جنوری 16, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں