خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباپاکستان سپر لیگ (6) میدان میں یا سڑکوں پر؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

پاکستان سپر لیگ (6) میدان میں یا سڑکوں پر؟

از سائیٹ ایڈمن فروری 13, 2021
از سائیٹ ایڈمن فروری 13, 2021 0 تبصرے 48 مناظر
49

پاکستان سپر لیگ (6)؛ میدان میں یا سڑکوں پر؟

ایک ایسا بھی وقت گزرا ہے جب پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ ایک خواب بن چکا تھا جس کا سہرا ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے سر سجتا ہے جس کی کاوشوں اور ایک انتہائی خوفناک عملی کارنامے کی بدولت ایسا ممکن ہوا۔دنیا جانتی ہے کہ پاکستانی مشکلوں سے نکلنے کا ہنر بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں اور اپنے دشمنوں کے دانت کھٹے کا ہنر بھی پاکستانیوں سے بہتر کوئی نہیں جانتا اسکی گواہی بھی بھارتی فوج سے لی جاسکتی ہے۔پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کسی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ مکمل تسلی اور ہر ممکن حفاظتی اقدامات کی بدولت پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کا سلسلہ مختلف اقساط میں شروع ہوا۔جہاں قانون نافذ کرنے والوں کی قربانیاں اس عمل کو مکمل کرنے میں نمایاں ہیں وہیں پاکستان کرکٹ بور ڈکے سابق چیف نجم سیٹھی صاحب کا کردار بھی بہت اہم رہا۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ اپنے اداروں کی مشاورت اور باہمی ہم آہنگی سے ناممکن کو ممکن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے (اسی کی بنیاد پر اقبال ؒ نے لکھا کہ یہ مٹی ذرا نم ہو تو بڑی ذرخیز ہے ساقی)۔ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی میں پاکستان سپر لیگ کا کارنامہ نمایاں ہے جس میں شامل بین الاقوامی کھلاڑیوں نے پاکستان کی خدمات کو نا صرف سرہایہ بلکہ پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کیلئے آئے۔ ایک اضافی بات کرتا چلوں کہ لوگوں کی اچھائیوں کا تذکرہ کرتے رہنا چاہئے اس سے اپنے اندر بھی اچھائی کرنے کا جذبہ ابھرتا ہے اورمتذکرہ شخص میں بھی مزید اچھائی کرنے کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ کرکٹ کی تقریباً مکمل بحالی ہو ہی جاتی اگر یہ کورونا درمیان میں نا آتایا پھر کورونا کا آنا بھی اچھا ثابت ہوا کیوں کہ بغیر تماشائیوں کے حفاظتی جھنجھٹ سے کسی حد تک جان چھوٹ جاتی ہے۔

پاکستان میں بہار کے موسم کا آغاز تقریباً فروری کی بیس تاریخ سے ہی شروع ہوتا ہے شائد اسی لئے رنگا رنگ موسم میں رنگوں اور روشنیوں سے بھرپور کھیل کا بھی آغاز کیا جاتا ہے۔ ہر سال کی طرح بیس فروری کی تاریخ پاکستان سپر لیگ ۶کے افتتاح کے لئے چنی گئی ہے اور افتتاحی تقریب عروس البلادشہر کراچی میں منعقد ہونی ہے اسکے بعد تقریباً سات مارچ تک کل چونتیس میں سے بیس مقابلے کراچی میں ہی منعقد ہونے ہیں، باقی کے چودہ مقابلے جن میں فائنل مقابلے بھی شامل ہیں زندہ دلانوں کے شہر لاہور میں منعقد ہونگے۔ دنیائے کرکٹ میں یہ دونوں شہر اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ بیس فیصد خوش نصیب تماشائی ان مقابلوں کے عینی شاہدین بنینگے۔ پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے دوسرے دور کا صحیح معنوں میں آغاز جنوبی افریقہ کی ٹیم کا دورے سے ہوا ہے۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم آزمائشی کرکٹ کی فہرست میں پاکستان آنے سے قبل پانچویں نمبر پر تھی لیکن اب پاکستان نے فہرست میں ترقی پاتے ہوئے پانچویں جگہ حاصل کرلی ہے اور جنوبی افریقہ کی ٹیم پاکستان سے طے شدہ دو آزمائشی مقابلوں میں شکست کے باعث تنزلی کی وجہ سے چھٹے نمبر پر پہنچ گئی ہے۔ ہم نے اپنے پچھلے مضمون میں اس شکست کا کسی حد احاطہ کیا تھا جس کا حوالہ دیتے چلیں اور وہ یہ کہ جنوبی افریقہ کی طاقتور ٹیم ایک قدرے کمزور ٹیم سری لنکا سے مقابلے جیت کر پاکستان پہنچی جسکی وجہ سے انکا اعتماد کچھ زیادہ ہوا ہوگا جس کا انہیں نقصان اٹھانا پڑا جبکہ پاکستان کی ٹیم ایک مضبوط ٹیم نیوزی لینڈ سے نیوزی لینڈ (شدید موسم)میں شکست کھا کر پاکستان پہنچی جسکا انہیں بہت فائدہ پہنچا اور اپنے سے بہتر ٹیم جنوبی افریقہ کو شکست سے دوچار کرنے میں کامیاب ہوئی۔ یقینا اب بین الاقوامی مقابلوں کا سلسلہ انشاء اللہ چلتا رہے گا۔ یکے بعد دیگرے ٹیموں کی آمد ورفت بحال ہوجائیگی اور ایک بار پھر کرکٹ کی سفارتکاری شروع ہوجائے گی۔ایک طرف جنوبی افریقہ کا دورہ اور پاکستان کی آزمائشی مقابلوں میں جیت تو دوسری طرف دنیا ئے کرکٹ کے شائقین میں گوادر کے خوبصورت اسٹیڈیم نے پاکستانی کرکٹ کو چار چاند لگادئیے ہیں۔

حالات کے پیش نظر ہم پاکستانیوں نے ہر حال میں حکومتی اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے(اس بات کو چھوڑ دیتے ہیں کہ دل سے کیا ہو یا پھر جبر سے کیا ہو)۔ وہ قرض اتارو ملک سنوارو کا نعرہ ہو یا پھر کسی سانحے یا حادثے میں امداد کی اپیل کی گئی ہویا پھر کسی بھی طرح سے عوام کے تعاون کی ضرورت پڑی،تاریخ گواہ ہے عوام کبھی پیچھے نہیں ہٹی یہاں تک کہ اس عوام نے اپنے ذاتی نقصانات بھی برداشت کئے۔پاکستان میں بین الاقوامی کھلاڑیوں کو صدارتی طرز کا حفاظتی حصار فراہم کیا جاتا ہے جو شائد ہی کسی اور ملک میں دیا جاتا ہو(کیونکہ شائد ہی کسی ملک کا پڑوسی ہمارے پڑوسی جیسا ہو)۔ ایسا کرنا پاکستان کیلئے ناگزیر تھا کیونکہ دہشت گردپڑوسی ملک کی ایماء پر پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کیلئے کچھ بھی کر گزرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔پاکستان، دنیا کے دیگر ممالک کی طرح کبھی بد ترین دہشت گردی کی زد میں تھا، آئے دن دھماکوں سے اٹھتے دھویں اور خون میں لتھڑی لاشیں ملک میں آئے دن سوگ کا سما رہا کرتا تھا۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی زندگیوں کی پروہ کئے بغیر عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے دن رات ایک کر دئے اور دشمن کو اسکے گھر تک میں گھس کر مارا۔

اب جب کے صورتحال تسلی بخش ہوچکی ہے اور ممکن حد تک قابو میں آچکی ہے دنیا جہان کے حفاظتی ماہرین ہمارے اداروں پر اپنا بھرپور اعتماد واضح کر چکے ہیں۔ اب جب کے سب کچھ موافق ہوچکا ہے تو پھر حالات کو تھوڑا تھوڑا کر کے معمول پر لانے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی جارہی۔حقیقت میں کراچی کے شہر عام حالات میں آمد و رفت کے بحران میں بری طرح الجھے ہوئے ہیں اور کوئی اس بحران پر توجہ نہیں دیتا، وفاق صوبے پر اور صوبے وفاق کی طرف کا راستہ دیکھا دیتے ہیں، سب سے بڑی وجہ سرکاری ذرائع آمد و رفت کا شہر میں نا ہونا ہے شہریوں کو اپنے بندوبست کرنا پڑتے ہیں تو دوسری طرف سڑکوں کا جو حال ہے وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے غرض یہ کہ شہری ذہنی مریض ہوتے جا رہے ہیں۔ اس پر اہم شخصیات کی آمد ورفت کے لئے گھنٹوں سڑکوں پر کھڑے رہنا دوہر ہ عذاب۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کے شہر کراچی میں جب کبھی کرکٹ کا میلہ سجے گا کراچی والے اپنی زندگیوں کا قیمتی وقت سڑکوں پر پھنسی جمی ہوئی گاڑیوں کی لائنوں میں گزارینگے۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہائی منظم ہیں یہ شہریوں کی ذمہ داری کیوں نہیں لیتے۔بد قسمتی سے کراچی کا نیشنل اسٹیڈیم شہر میں ایسی جگہ واقع ہے جوتقریباً مرکزی حیثیت کا حامل ہے یہاں سے گزر ے بغیر سفر مکمل کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے اور بین الاقوامی طرز کے مقابلوں کے درمیان تو نا پوچھے شہر کس قرب میں مبتلا ہوتا ہے۔ تھوڑے وقت کیلئے اعلانیہ روک تو قابل برداشت ہوسکتی ہے لیکن مکمل راستوں پر رکاوٹیں رکھ کر بند کردینا کہاں کی منصوبہ بندی ہے۔مقابلوں کے انعقاد کی منصوبہ بندی کیساتھ ساتھ شہری انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو اول ترجیح میں شامل کریں کے شہریوں کو ناہونے کے برابر تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس حفاظتی حصار میں دو بڑے ہسپتال بھی آتے ہیں جو بظاہر تو کھلے ہوتے ہیں لیکن ان تک رسائی کے راستے اتنی بری طرح سے بند ہوتے ہیں کہ ایک عام مریض کی بھی جان جانے کے اندیشے بڑھ جاتے ہیں۔

انتظامیہ اور ارباب اختیار پاکستان سپر لیگ ۶ کیلئے کئے گئے انتظامات کا دوبارہ جائزہ لیں اور راستوں کوحسب اعلان صرف ٹیموں کی آمد و رفت کے دوران بند کیا جائے اور اسکے بعد عام صورتحال کی طرح کھول دیا جائے۔ تاکہ عوام کا یہ تاثر یکسر غلط ثابت ہوجائے کہ کرکٹ کے مقابلے میدانوں میں نہیں سڑکوں پر ہوتے ہیں۔ ہم پاکستانیوں کو اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھرپور بھروسہ ہے کہ وہ اب دشمن کی ہر چال سے خوب واقف ہیں اور کسی قسم کی بد نظمی پیدا نہیں ہونے دینگے۔ انشاء اللہ

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • وہ آکاس سے تارے چرا لایا
  • بھروسہ دوستی سب نام کے ہیں
  • تمہیں گلا ہی سہی ہم تماشہ کرتے ہیں
  • اردو بازار کے بزنس ٹائیکون
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
رائی کا اک پہاڑ بنانے سے پیشتر
پچھلی پوسٹ
14فروری: عالمی یوم ِ محبت!

متعلقہ پوسٹس

یہی ہے دل کا تقاضا

جولائی 5, 2025

حیران ہیں سبھی تِری تنویر دیکھ کر

دسمبر 12, 2021

سانپ ہوں نا، اس لئے

جون 27, 2025

اللہ پاک بہت رحیم ھے

اگست 1, 2025

پہلے تو بے وفائی کا صدمہ

ستمبر 26, 2025

رکھتی ہے دل میں خود ہی

نومبر 7, 2021

تم کبھی آؤ شام سے پہلے

جون 24, 2025

مدیانور کا بڑا تیندوا

نومبر 23, 2019

بیٹی، ماں اور نانی

اکتوبر 16, 2023

قابل نہیں سمجھتے جنھیں

اکتوبر 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

غریبوں کی بیٹی

اگست 8, 2025

عمیق مشعل کی حفاظت

جنوری 25, 2025

خاموشی کا شور

مارچ 24, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں