خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباابھی نہیں تو پھر کبھی نہیں!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

ابھی نہیں تو پھر کبھی نہیں!

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 13, 2020
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 13, 2020 0 تبصرے 65 مناظر
66

ابھی نہیں تو پھر کبھی نہیں!

معاشرے ہر دور میں اپنی روش کی سمتیں طے کرتے رہے ہیں اور انکی پابندی اپنا شعار بناتے تھے وقت نے ترقی کا سہارا لیا اور اقدار کر روندنا شروع کیا اب یہ اقدار کا ہی تقازہ تھا کہ ماتھوں پر شکن نا آئے اور لب جنبش سے محروم رہیں، وہ ہوتا چلا گیا جس کا ڈر تھا۔ سمتوں کی روش نے ایک ایسی سمت چن لی جہاں سوائے خسارے کہ اور کچھ بھی نہیں تھا نا ہی طبعی فائدہ تھا اور نا ہی روح کو کوئی تقویت پہنچنی تھی۔ یعنی ہم پر مغرب غالب آگیا اور بقول شاعر کے اپنی تو زندگی شروع ہوتی ہے شام (مغرب کے بعد) سے۔ اس طرز ِ حیات کی بھینٹ ہم نے اپنا مستقبل خود چڑھایا، کیا ہمیں اعلی تعلیم یافتہ نسل نہیں چاہئے تھی یا ہم اپنی اولاد کو فلانے کی اولاد سے پیچھے کیسے رکھ سکتے تھے۔ آج بڑے بڑے بین الاقوامی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل یا تو انہی ممالک کو اپنا ملک بنا بیٹھے ہیں اور چند ایک جو وطن واپس پلٹ آئے ہیں وہ پاک سر زمین پر قدم رکھنے کیلئے پہلے قالین کا تکازہ کرتے ہیں، ہاں ایسے بھی چند ایک سر پھرے ہیں کہ جنکے خون سے آج تک اپنے پیارے محبوب ﷺ کی محبت اور انکے نظام کی ترویج کی جستجو نہیں نکل رہی ہے۔نقصان اور گھاٹے کے سودے تو ہم نے خود ہی کئے ہیں۔ سرکاری اداروں کو ہم نے صرف مال ودولت بنانے کے کارخانے بنا لئے اور کام صرف نجی اداروں میں ہوتے ہیں جبکہ یہ نجی ادارے سرکاری اداروں سے وابسطہ لوگوں کے ہوتے ہیں۔ سرکاری اسکول کے استاد کا اپنا بچہ کسی نجی اسکول میں پڑھ رہاہے تو بھلا ایسا استاد اسکول میں کیا کر رہاہوگا۔ یہ سب باتیں ہم سب جانتے ہیں اور دن میں ایک دفعہ تو اس قسم کی گفتگو ہو ہی جاتی ہے لیکن ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ہم انفرادی طور پر تضاد کا شکار ہیں، کوئی اپنا کہے تو ہاں میں ہاں ملاتے چلے جاتے ہیں اور وہی بات کومخالف یا غیر کہے تو بغیر سنے ہی مسترد کردیتے ہیں۔

علم کے حصول کا بنیادی مقصد مستقبل کیلئے بہترین معاشی انتظام کرنے کیلئے رہا ہے، ممکن ہے کہ یہ حقیقت قارئین کو ناگوار گزرے لیکن حقیقت تو حقیقت ہے اور یقین نہیں آتا تو آپ اپنے آپ سے پوچھ لیں۔ جس کامنہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی سید احمد خان، محمد علی جناح، ڈاکٹر محمد اقبال، خان لیاقت علی خان، ڈاکٹر سلیم الزماں، ڈاکٹر عبد السلام، ڈاکٹر رضی الدین، فیض احمد فیض، حبیب جالب، مولانا مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد نہیں بن سکا ہے۔

ہم تکنیکی دور میں رہ رہے ہیں جہاں سماجی ابلاغ معلومات کا اہم ترین ذریعہ بنا ہوا ہے، سماجی ابلاغ کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ بغیر کسی روک ٹوک کہ خبریں ارباب اختیار تک پہنچنے کیساتھ ساتھ ساری دنیا میں انتہائی مختصر وقت میں پہنچ رہی ہیں۔جس سے ہوتا یہ ہے کہ عوامی رائے خبر کی سمت کا تعین کرتی ہے اور ارباب اختیار کو اس خبر پر عمل درآمد کرنے پر مجبور کرتی ہے۔جب کسی خبر کوجو کہ عملی صورت میں رونما ہوا ہوتا ہے کو منطقی انجام تک پہنچانے کی بات کی جاتی ہے تو قانون، شواہد کی عدم دستیابی کی کالی عینک لگا کر معاملے کو وہیں فیصلہ چھوڑ دیتا ہے،گویا ابھی نہیں تو کبھی نہیں والے کلیے کی نظر کر دیا جاتا ہے۔ معلوم بھی ہے دیکھائی بھی دے رہاہے کہ وہی ہے کہ جس نے ایک انسانی جان جو کہ تمام انسانیت کے قتل کے مترادف ہے لی ہے شک کا سہارا لے کر (اور معلوم نہیں کیا کچھ لے کر) باعزت بری کردیا جاتاہے۔ رونے والے جو سال ہا سال سے رو رہے تھے اپنی قسمت میں رونا لکھا سمجھ کر نکل جاتے ہیں۔

یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا ابلاغ کی ذمہ داری کسی بھی معاملے کو اجاگر کرنے تک محدود ہے یا پھر معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانا بھی ابلاغ کی ذمہ داری ہے۔ دورِ حاضر کا تکازہ ہے کہ ذرائع ابلاغ اس بات کو یقینی بنائیں کہ معاملہ کہاں تک پہنچا۔ اب یہ بھی سماجی ابلاغ کی مرہون منت ممکن ہوسکا ہے کہ بچوں کیساتھ ہونے والی زیاتیوں کو منظر عام پر لایا جانے لگا۔ لیکن افسوس سوائے قصور کی زینب کے مجرم کو کیفر کردار کو پہنچانے کے سوا کسی اور بچے یا بچی کیساتھ ہونے والی زیادتی کے مجرم سزا وار ٹہرے ہیں۔ عرصہ دراز سے تواتر سے بچوں کے اغواء اور زیادتی کے بعد قتل کرنے کے واقعات رونما ہوتے ہی جارہے ہیں۔ پہلے ایک واقع ہوا جس میں پولیس نے ایک کار پر فائرنگ کی جس میں ایک ہی خاندان کے افراد موجود تھے جن میں شوہر، بیوی اور انکے بچے تھے، ماں باپ کو بچوں کے سامنے گولیا ں مار کر قتل کردیا گیا اب اسی طرح سے گزشتہ شب گوجرپورہ روڈ لاہور پر ایک انتہائی اندوہناک واقع نے دل پرپھر خراشیں ڈال دیں جب ایک خاتون کیساتھ انکے بچوں کے سامنے بد سلوکی کی گئی۔ ہم سب کی یاد دہانی کیلئے لکھ رہا ہوں کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں۔موجودہ حکومت نے اسلامی جمہوریہ سے بہت آگے کا خواب دیکھایا ہوا ہے یعنی ریاست مدینہ بنانے کا ارادہ بھی ہے۔

کس کی کیا کوتاہی تھی یا ہے اس پر لازمی تحقیقات ہونی چائییں لیکن سب سے پہلے مجرموں کی گرفتاری اور تیزی سے سنوائی کیساتھ ہی سر عام لکشمی چوک لاہور میں پھانسی کی سزا نہیں دے سکتے تو شرعیت کیمطابق طے کی گئی سو کوڑوں کی سزا دی جائے۔سماجی ابلاغ پر ایک شور مچا ہو اہے کہ مجرم کو سر عام پھانسی دی جائے اور یہ ہو کر ہی رہنا چاہئے کیونکہ اگر پھر یہ معاملہ موم بتی مافیہ کی نظر ہوگیا تو موم بتی مافیہ کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ان کیساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اب یہ سر عام کا فیصلہ نہیں ہوا تو کبھی نہیں ہوگا اور ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت کیساتھ ایسا ہوتا رہے گا، خاکم بدہن۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تمنا کا دوسرا قدم
  • بظاہر جو نظر آتا ہے سب ویسا نہیں ہوتا
  • دھول چہرے پر تھی اور صاف آئینہ کرتا رہا
  • وداع بپسی سدھوا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
قیامت خود بتائے گی قیامت کیوں ضروری تھی
پچھلی پوسٹ
سب لوگ کہانی میں ہی مصروف رہے تھے

متعلقہ پوسٹس

شفیق جانا شفیق پایا

مئی 9, 2025

اٹھائے رنج کئی خود کو آزماتے ہوئے

ستمبر 24, 2025

ہم تو آپ سے اچھی باتیں کرتے ہیں

مئی 13, 2020

جستجوِ صبحِ نو

دسمبر 15, 2024

ریشم کا کیڑا

مئی 19, 2020

توہین عدالت اور مریم نواز کا پاسپورٹ

ستمبر 15, 2022

ہماری چھوٹی سی ایک خواہش قبول کر لے

جولائی 8, 2020

سرائے کے باہر

مئی 23, 2023

کبھی سنی ہے بھڑکتے الاؤ کی آواز ؟

جنوری 29, 2020

سنو! اَب بھی یہاں مَیں ہوں

مئی 20, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جو رہ گئے ہیں وہ سارے...

مارچ 5, 2023

فرشتہ بھی نہیں آیا

نومبر 29, 2017

دل کی دنیا میں غم شناس...

مئی 11, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں