102
چشم نظارہ پہ کیا کوئی بھی الزام نہ تھا
چاندنی رات تھی اور کوئی لب بام نہ تھا
وہم تھا لوگ مرا راستہ تکتے ہوں گے
آ کے دیکھا تو کسی لب پہ مرا نام نہ تھا
اس طرح باغ سے چپ چاپ گزر آئے ہیں
جیسے پھولوں کی مہک میں کوئی پیغام نہ تھا
عمر بھر اپنی ہی گردش میں رہے ہم باقیؔ
اس جگہ دل تھا جہاں اور کوئی دام نہ تھا
باقی صدیقی
