خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےدو بَیل
اردو افسانےاردو تحاریرمنشی پریم چند

دو بَیل

افسانہ از منشی پریم چند

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 25, 2019
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 25, 2019 0 تبصرے 672 مناظر
673

دو بَیل

جھوری کاچھی کے پاس دو بیل تھے ۔ ایک کا نام تھا ہیرا اور دوسرے کا موتی ۔ دونوں دیکھنے میں خوب صورت، کام میں چوکس، ڈیل ڈول میں اونچے ۔ بہت دِنوں سے ایک ساتھ رہتے رہتے ، دونوں میں محبت ہوگئی تھی ۔ جس وقت یہ دونوں بیل ہَل یا گاڑی میں جوتے جاتے اور گردنیں ہِلا ہِلا کر چلتے تو ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی کہ زیادہ بوجھ میری ہی گردن پر رہے ۔ ایک ساتھ ناند میں مُنھ ڈالتے ۔ ایک منھ ہٹا لیتا تو دوسرا بھی ہٹا لیتا اور ایک ساتھ ہی بیٹھتے ۔

ایک مرتبہ جھوری نے دونوں بیل چند دنوں کے لیے اپنی سُسرال بھیجے ۔ بیلوں کو کیا معلوم وہ کیوں بھیجے جارہے ہیں ۔ سمجھے مالک نے ہمیں بیچ دیا ۔ اگر اِن بے زبانوں کی زبان ہوتی تو جھوری سے پوچھتے :’’ تم نے ہم غریبوں کو کیوں نکال دیا؟ ہم نے کبھی دانے چارے کی شکایت نہیں کی ۔ تم نے جو کچھ کھِلایا ، سر جھکا کر کھالیا، پھر تم نےہمیں کیوں بیچ دیا۔ ‘‘

کسی وقت دونوں بیل نئے گاؤں جا پہنچے ۔ دِن بھر کے بھوکے تھے ، دونوں کا دِل بھاری ہو رہا تھا ۔ جسے اُنھوں نے اپناگھر سمجھا تھا ، وہ اُن سے چھوٹ گیا تھا ۔ جب گاؤں میں سوتا پڑگیا ، تو دونوں نے زور مار کر رسّے تڑالیے اور گھر کی طرف چلے ۔ جھوری نے صبح اُٹھ کر دیکھا تو دونوں بیل چرنی پر کھڑے تھے ۔ دونوں کے گھٹنوں تک پاؤں کیچڑ میں بھرے ہوئے تھے ۔ دونوں کی آنکھوں میں محبت کی ناراضگی جھلک رہی تھی ۔ جھوری اُن کو دیکھ کر محبت سے باؤلا ہوگیااور دوڑ کر اُن کے گلے سے لپٹ گیا ۔ گھر اور گاؤں کے لڑکے جمع ہوگئے اور تالیاں بجا بجا کر اُن کا خیر مقدم کرنے لگے ۔ کوئی اپنے گھر سے روٹیاں لایا ، کوئی گُڑ اور کوئی بھوسی ۔

جھوری کی بیوی نے بیلوں کو دروازے پر دیکھا تو جل اُٹھی، بولی :’’ کیسے نمک حرام بیل ہیں ۔ ایک دن بھی وہاں کام نہ کیا، بھاگ کھڑے ہوئے ۔ ‘‘
جھوری اپنے بیلوں پر یہ اِلزام برداشت نہ کرسکا ، بولا: ’’ نمک حرام کیوں ہیں ؟ چارہ نہ دیا ہوگا، تو کیا کرتے ۔ ‘‘
عورت نے تک کر کہا :’’بس تمھیں بیلوں کو کھِلانا جانتے ہو، اور تو سبھی پانی پِلا پِلا کر رکھتے ہیں ۔ ‘‘
دوسرے دِن جھوری کا سالا جس کا نام گیا تھا ، جھوری کے گھر آیا اور بیلوں کو دوبارہ لے گیا ۔ اب کے اُس نے گاڑی میں جوتا ۔ شام کو گھر پہنچ کر گیا نے دونوں کو موٹی رسّیوں سے باندھا اور پھر وہی خشک بھوسا ڈال دیا۔

ہیرا اور موتی اِس برتاؤ کے عادی نہ تھے ۔ جھوری اُنھیں پھول کی چھڑی سے بھی نہ مارتا تھا ، یہاں مار پڑی ، اِس پر خشک بھوسا، ناند کی طرف آنکھ بھی نہ اُٹھائی ۔ دوسرے دِن گیانے بیلوں کو ہل میں جوتا ، مگر اُنھوں نے پاؤں نہ اُٹھایا ۔ ایک مرتبہ جب اُس ظالِم نے ہیرا کی ناک پر ڈنڈا جمایا ، تو موتی غُصّے کے مارے آپے سے باہر ہوگیا ، ہل لے کے بھاگا۔ گلے میں بڑی بڑی رسیّاں نہ ہوتیں تو وہ دونوں نکل گئے ہوتے ۔ موتی تو بس اِینّٹھ کر رہ گیا۔ گیا آپہنچا اور دونوں کو پکڑ کر لے چلا ۔ آج دونوں کے سامنے پھر وہی خشک بھوسا لایا گیا۔ دونوں چُپ چاپ کھڑے رہے ۔ اُس وقت ایک چھوٹی سی لڑکی دو روٹیاں لیے نکلی اور دونوں کے منھ میں ایک ایک روٹی دے کر چلی گئی ۔ یہ لڑکی گیا کی تھی ۔ اُس کی ماں مرچکی تھی ۔ سوتیلی ماں اُسے مارتی رہتی تھی ۔ اُن بیلوں سے اُسے ہمدردی ہوگئی ۔

دونوں دِن بھر جوتے جاتے ۔ اُلٹے ڈنڈے کھاتے ، شام کو تھان پر باندھ دیے جاتے اور رات کو وہی لڑکی اُنھیں ایک ایک روٹی دے جاتی ۔

ایک بار رات کو جب لڑکی روٹی دے کر چلی گئی تو دونوں رسیّاں چبانے لگے ، لیکن موٹی رسّی منھ میں نہ آتی تھی ۔ بے چارے زور لگا کر رہ جاتے ۔ اتنے میں گھر کا دروازہ کھُلا اور وہی لڑکی نکلی ۔ دونوں سرجھکا کر اس کا ہاتھ چاٹنے لگے ۔ اُس نے اِن کی پیشانی سہلائی اور بولی :’’کھول دیتی ہوں ، بھا گ جاؤ ، نہیں تو یہ لوگ تمھیں مار ڈالیں گے ۔ آج گھر میں مشورہ ہو رہا ہے کہ تمھاری ناک میں ناتھ ڈال دی جائے ۔ ‘‘ اُس نے رسّے کھول دیے اور پھر خود ہی چلاّئی :’’ او دادا ! او دادا ! دونوں پھوپھا والے بیل بھاگے جارہے ہیں ۔دوڑو__دوڑو!‘‘

گیا گھبرا کر باہر نکلا ، اُس نے بیلوں کا پیچھا کیا وہ اور تیزہوگئے ۔ گیا نے جب اُن کو ہاتھ سے نکلتے دیکھا تو گاؤں کے کچھ اور آدمیوں کو ساتھ لینے کے لیے لوٹا ۔ پھر کیا تھا دونوں بیلوں کو بھاگنے کا موقع مِل گیا ۔ سیدھے دوڑے چلے گئے ۔ راستے کا خیال بھی نہ رہا ، بہت دور نکل گئے ، تب دونوں ایک کھیت کے کِنارے کھڑے ہو کر سوچنے لگے کہ اب کیا کرنا چاہیے ؟ دونوں بھوک سے بے حال ہو رہے تھے ۔ کھیت میں مٹر کھڑی تھی ، چرنے لگے ۔ جب پیٹ بھر گیا تو دونوں اُچھلنے کودنے لگے ۔ دیکھتے کیا ہیں کہ ایک موٹا تازہ سانڈ جھومتا چلا آرہا ہے ۔ دونوں دوست جان ہتھیلیوں پر لے کر آگے بڑھے ۔ جوں ہی ہیرا جھپٹا ، موتی نے پیچھے سے ہَلّہ بول دیا۔ سانڈ اُس کی طرف مڑا تو ہیرا نے ڈھکیلنا شروع کردیا۔ سانڈ غُصّے سے پیچھے مڑا تو ہیرا نے دوسرے پہلو میں سینگ رکھ دیے ۔ بے چارہ زخمی ہو کر بھاگا دونوں نے دور تک تعاقب کیا ۔ جب سانڈ بے دم ہو کر گِر پڑا ، تب جاکر دونوں نے اُس کا پیچھا چھوڑا۔

دونوں فتح کے نشے میں جھومتے چلے جارہے تھے ۔ پھرمٹر کے کھیت میں گُھس گئے۔ ابھی دو چار ہی منھ مارے تھے کہ دو آدمی لاٹھی لے کر آگئے اور دونوں بیلوں کو گھیر لیا ۔ دوسرے دن دونوں دوست کانجی ہاؤس میں بند تھے ۔

اُن کی زندگی میں پہلا موقع تھا کہ کھانے کو تِنکا بھی نہ ملا ۔ وہاں کئی بھینسیں تھیں ، کئی بکریاں ، کئی گھوڑے ، کئی گدھے ، مگر چارہ کسی کے سامنے نہ تھا۔ سب زمین پر مردے کی طرح پڑے تھے ۔ رات کو جب کھانا نہ ملا تو ہیرا بولا :’’ مجھے تو معلوم ہوتا ہے کہ جان نکل رہی ہے ۔ ‘‘ موتی نے کہا :’’ اتنی جلدی ہمّت نہ ہارو،بھائی یہاں سے بھاگنے کا کوئی طریقہ سوچو۔‘‘ ’’ باڑے کی دیوار کچّی تھی ۔ ہیرا نے اپنے نکیلے سینگ دیوار میں گاڑ کر سوراخ کیا اور پھر دوڑ دوڑ کر دیوار سے ٹکرّیں ماریں ۔ ٹکرّوں کی آواز سُن کر کانجی ہاؤس کا چوکیدار لالٹین لے کر نکلا۔ اُس نے جو یہ رنگ دیکھا تو دونوں کو کئی ڈنڈے رسید کیے اور موٹی رسّی سے باندھ دیا ہیرا اور موتی نے پھر بھی ہمّت نہ ہاری ۔ پھر اُسی طرح دیوار میں سینگ لگا کر زور کرنے لگے ۔ آخر دیوار کا کچھ حِصّہ گر گیا۔ دیوار کا گرنا تھا کہ جانور اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ گھوڑے ، بھیڑ، بکریاں ، بھینسیں سب بھاگ نکلے ۔ ہیرا، موتی رہ گئے صبح ہوتے ہوتے منشیوں ، چوکیداروں اور دوسرے ملازمین میں کھَلبَلی مچ گئی ۔ اُس کے بعد اُن کی خوب مرمّت ہوئی۔ اب اور موٹی رسّی سے باندھ دیا گیا ۔

ایک ہفتے تک دونوں بیل وہاں بندھے پڑے رہے ۔ خدا جانے کانجی ہاؤس کے آدمی کتنے بے درد تھے ، کسی نے بے چاروں کو ایک تنکا بھی نہ دیا۔ ایک مرتبہ پانی دکھا دیتے تھے ۔ یہ اُن کی خوراک تھی ۔ دونوں کمزور ہوگئے ۔ ہڈّیاں نکل آئیں ۔

ایک دِن باڑے کے سامنے ڈگڈگی بجنے لگی اور دوپہرہوتے ہوتے چالیس پچاس آدمی جمع ہوگئے ۔ تب دونوں بیل نکالے گئے ۔ لوگ آکراُن کی صورت دیکھتے اور چلے جاتے اِن کمزور بیلوں کو کون خریدتا ! اتنے میں ایک آدمی آیا ، جس کی آنکھیں سُرخ تھیں ، وہ منشی جی سے باتیں کرنے لگا ۔ اس کی شکل دیکھ کر دونوں بیل کانپ اُٹھے ۔ نیلام ہو جانے کے بعد دونوں بیل اُس آدمی کے ساتھ چلے ۔

اچانک اُنھیں ایسا معلوم ہوا کہ یہ رستہ دیکھا ہوا ہے ۔ ہاں ! اِدھر ہی سے تو گیا اُن کو اپنے گاؤں لے گیا تھا ، وہی کھیت ، وہی باغ ، وہی گاؤں، اب اُن کی رفتار تیز ہونے لگی۔ ساری تکان ، ساری کمزوری ، ساری مایوسی رفع ہوگئی ۔ ارے ! یہ تو اپنا کھیت آگیا ۔ یہ اپنا کنواں ہے ، جہاں ہر روز پانی پیا کرتے تھے ۔

دونوں مست ہو کر کُلیلیں کرتے ہوئے گھر کی طرف دوڑے اوراپنے تھان پر جاکر کھڑے ہوگئے ۔ وہ آدمی بھی پیچھے پیچھے دوڑاآیا ۔ جھوریدروازے پر بیٹھا کھانا کھا رہا تھا ، بیلوں کو دیکھتے ہی دوڑا اور انھیں پیار کرنے لگا۔ بیلوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔

اُس آدمی نے آکر بیلوں کی رسیاں پکڑ لیں ۔ جھوری نے کہا :’’ یہ بیل میرے ہیں ۔‘‘ ’’تمہارے کیسے ہیں ۔ میں نے نیلام میں لیے ہیں ۔ ‘‘ وہ آدمی زبردستی بیلوں کو لے جانے کے لیے آگے بڑھا ۔ اُسی وقت موتی نے سینگ چلایا ، وہ آدمی پیچھے ہٹا ۔ موتی نے تعاقب کیا اور اُسے کھدیڑتا ہوا گاؤں کے باہر تک لے گیا۔ گاؤں والے یہ تماشا دیکھتے تھے اورہنستے تھے ۔ جب وہ آدمی ہار کر چلا گیا تو موتی اکڑتا ہوا لوٹ آیا۔

ذراسی دیر میں ناند میں کھلی ، بھوسا ، چوکر ، دانا سب بھردیا گیا۔ دونوں بیل کھانے لگے ۔ جھوری کھڑا اُن کی طرف دیکھتا رہا اور خوش ہوتا رہا، بیسیوں لڑکے تماشا دیکھ رہے تھے ۔ سارا گاؤں مُسکراتا ہوا معلوم ہوتا تھا۔

اُسی وقت مالکن نے آخر دونوں بیلوں کے ماتھے چوم لیے ۔

منشی پریم چند

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تلاش حق، ماں کی خدمت اور فرمان رسولﷺ
  • دودھ کی قیمت
  • غریب انسان رشتوں میں کمزور؟
  • سید علی عباس جلالپوری:شخصیت و فن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
تھالی کا بینگن
پچھلی پوسٹ
ہدایت کار

متعلقہ پوسٹس

درد بے لگام ہو گئے

دسمبر 11, 2022

سہیلی

دسمبر 1, 2019

جذبات کے اظہار

اپریل 1, 2023

کیریئر زیادہ اہم ہے یا حمل؟

جولائی 4, 2022

فطرت کے توازن میں ایک مکمل وجود

مئی 13, 2025

موذیل

جنوری 16, 2020

الف لیلہ کی ایک رات

مئی 20, 2020

چغد

فروری 11, 2020

آخری ہدایت

جنوری 4, 2022

زاہم : خواب دیکھنے والی سندھ کی بیٹی

اکتوبر 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پَب جی گیم- خطرناک معاشرتی بگاڑ!

فروری 5, 2022

یزید

اکتوبر 29, 2019

تعاقب

جون 9, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں