404
ٹھوکر سے فقیروں کی دنیا کا بکھر جانا
خواہش کا لرز جانا اسباب کا ڈر جانا
آکاش کے ماتھے پہ جادو کا سبب یہ ہے
تاروں کا چمک جانا چندا کا نکھر جانا
آ تجھ کو بتا دوں میں اچھی سی غزل کیا ہے
افکار کے سانچے میں لفظوں کا اتر جانا
اقرار محبت کی نازک سی دلیلیں ہیں
آنکھوں میں چمک آنا زلفوں کا سنور جانا
بے ربط دلیلیں ہیں اس شوخ کی باتوں میں
کچھ دیر تلک کہنا پھر کہہ کے مکر جانا
دنیا جسے کہتی ہے وہ نیل کمل تم ہو
ہر جھیل کو جچتا ہے ترا کھل کے ابھر جانا
تو میری ضرورت ہے عالمؔ یہی کہتا ہے
اس بات کا مطلب ہے ترے بن مرا مر جانا
افروز عالم
