415
اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا
مجھ کو انسان سے اوتار کیا
دشت غربت میں دل ویراں نے
یاد جمنا کو کئی بار کیا
پیار کی بات نہ پوچھو یارو
ہم نے کس کس سے نہیں پیار کیا
کتنی خوابیدہ تمناؤں کو
اس کی آواز نے بیدار کیا
ہم پجاری ہیں بتوں کے جالبؔ
ہم نے کعبے میں بھی اقرار کیا
حبیب جالب
