396
مسلسل اشک افشانی سے پہلے
لہو کتنا بہا پانی سے پہلے
یہ دریا خشک ہونے پر تُلا تھا
کسی سقّے کی قربانی سے پہلے
یہ درگاہِ محبت ہے مری جاں
یہاں سینہ ہے پیشانی سے پہلے
بہت سادہ سا تھا ایماں ہمارا
عقیدوں کی فراوانی سے پہلے
کوئی تصویر ہو کر رہ گیا ہے
یہ دل شیشہ تھا حیرانی سے پہلے
علَم اک اَدھ جلا نیزہ ہؤا تھا
خرابے کی نگہبانی سے پہلے
بلائے بدگمانی رقص میں تھی
بھرے شہروں کی ویرانی سے پہلے
کسے مقدور ہے مصرع لگائے
اجل کے مصرعِ ثانی سے پہلے
ہمارے قاتلوں کا نام لینا
ہماری فاتحہ خوانی سے پہلے
عارف امام
