519
کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھ
مجھ اعتدال سے عاری کو اعتدال میں رکھ
نچا رہا ہے مجھے انگلیوں پہ عشق ترا
تمام عمر اسی رقص بے مثال میں رکھ
دکھی ہو دل تو اترتی ہے شاعری مجھ پر
تجھے غزل کی قسم ہے مجھے ملال میں رکھ
تو چاہتا ہے اگر کار۔آفتاب کروں
مرا عروج مری ساعت زوال میں رکھ
ترے بغیر گزاری ہے زندگی میں نے
تو اس ستم کی تلافی بھی ماہ و سال میں رکھ
تو دل ہے اور دھڑکنا تری عبادت ہے
سو خود کو جسم سے باہر بھی تو دھمال میں رکھ
شکم سے ہو کے گزرتے ہیں قول و فعل مرے
مجھ ایسے شخص کو نان و نمک کے جال میں رکھ
مرے بدن کو بھلے اس سے آگ لگ جائے
چراغ حرف مگر میرے بال بال میں رکھ
میں اس عذاب کے نشے میں مبتلا ہوں کبیرؔ
پرائی آگ اٹھا کر مری سفال میں رکھ
ڈاکٹر کبیر اطہر
