536
جو عام سا اک سوال پوچھا تو کیا کہیں گے
کسی نے ہم سے بھی حال پوچھا تو کیا کہیں گے
جو سر کے بل خاک میں گڑے ہیں کسی نے ان سے
بلندیوں کا مآل پوچھا تو کیا کہیں گے
زمانے بھر کو تو ہم نے خاموش کر دیا ہے
جو دل نے بھی اک سوال پوچھا تو کیا کہیں گے
جنہیں ہمارے لہو کی لت ہے کسی نے ان سے
خمار رزق حلال پوچھا تو کیا کہیں گے
جسے غزل میں برت کے ہم داد پا چکے ہیں
کسی نے اس دکھ کا حال پوچھا تو کیا کہیں گے
اگر ہم اس کی خوشی میں خوش ہیں تو دوستوں نے
جواز حزن و ملال پوچھا تو کیا کہیں گے
یہ ہم جو اوروں کے دکھ کا ٹھیکا لیے ہوئے ہیں
کسی نے اس کا مآل پوچھا تو کیا کہیں گے
جو اپنی جانیں بچا کے خوش ہیں کبیرؔ ان سے
کسی نے بستی کا حال پوچھا تو کیا کہیں گے
ڈاکٹر کبیر اطہر
