377
ہمیں پتہ نہیں چلتا مگر پکارتے ہیں
اگر پرند نہ لوٹیں شجر پکارتے ہیں
یہ دیکھنے کو سمندر نہ چل پڑے گھر سے
وہ کیسی آنکھ ہے جس کو گہر پکارتے ہیں
خوشی کا کوئی بھی لمحہ ہو میرے یار مجھے
میں جس طرف نہیں ہوتا ادھر پکارتے ہیں
لگائیں گے کسی طائر کو اس ریاضت پر
بہار سنتی نہیں ہم اگر پکارتے ہیں
کیا ہے رقص سمندر پہ اس قدر میں نے
کہ میرے نام سے مجھ کو بھنور پکارتے ہیں
کوئی تو دور کرے ان کی بھی غلط فہمی
مجسمہ ہے جسے کم نظر پکارتے ہیں
گھرا ہوا ہے مصیبت میں شہر۔خواب مرا
مکین چیختے ہیں بام ودر پکارتے ہیں
بھلے نہ رکھے کوئی بھی منڈیر پر آنکھیں
چراغ بانٹنے والے مگر پکارتے ہیں
کبیر باندھ کے رکھا ہے چاند نے ورنہ
کئی ستارے مجھے رات بھر پکارتے ہیں
کبیر اطہر
