603
شکستہ چھت میں پرندوں کو جب ٹھکانہ ملا
میں خوش ہوا کہ مرے گھر کو بھی گھرانا ملا
فلک پہ اڑتے ہوئے بھی نظر زمیں پہ رہی
مزاج مجھ کو مقدر سے طائرانہ ملا
ہم اس کے حسن سخن کی دلیل کیا دیں گے
وہ جتنی بار ملا ہم سے برملا نہ ملا
کسی کی دیکھتی آنکھیں بھی آس پاس رہیں
تجھے ملا تو بہ احساس مجرمانہ ملا
میں اپنی بات درختوں سے کہہ کے روتا ہوں
کہ میرے غم کو کسی رت نہ آشیانہ ملا
اب آ گیا ہے تو چپ چاپ خامشی کو سن
مرے سکوت میں اپنی کوئی صدا نہ ملا
لڑی سی ٹوٹ کے آنکھوں سے گر پڑی نیرؔ
لبوں سے حرف کا کوئی بھی سلسلہ نہ ملا
شہزاد نیّرؔ
