521
دل نگر میں بھی آئیے صاحب
ورنہ آنکھوں سے جائیے صاحب
جی اٹھیں گے ہزارہا منظر
صرف پلکیں اٹھائیے صاحب
میں گرا تو زمانہ اٹھے گا
بات دل میں بٹھائے صاحب
اس جگہ ٹوٹ پھوٹ رہتی ہے
میرے دل میں نہ آئیے صاحب
خاک ہیں آپ کی ہتھیلی پر
جیسے چاہے اڑائیے صاحب
میں نہ بولا تو کون بولے گا
آپ خود ہی بتائیے صاحب
ہم سے دنیا تو روٹھ بیٹھی ہے
آپ ہی مان جائیے صاحب
شہزاد نیّرؔ
