727
یہ جو مجھ پر نکھار ہے سائیں
آپ ہی کی بہار ہے سائیں
آپ چاہیں تو جان بھی لے لیں
آپ کو اختیار ہے سائیں
تم ملاتے ہو بچھڑے لوگوں کو
ایک میرا بھی یار ہے سائیں
کسی کھونٹی سے باندھ دیجے اسے
دل بڑا بے مہار ہے سائیں
عشق میں لغزشوں پہ کیجے معاف
سائیں یہ پہلی بار ہے سائیں
کل ملا کر ہے جو بھی کچھ میرا
آپ سے مستعار ہے سائیں
ایک کشتی بنا ہی دیجے مجھے
کوئی دریا کے پار ہے سائیں
روز آنسو کما کے لاتا ہوں
غم مرا روزگار ہے سائیں
وسعت رزق کی دعا دیجے
درد کا کاروبار ہے سائیں
خار زاروں سے ہو کے آیا ہوں
پیرہن تار تار ہے سائیں
کبھی آ کر تو دیکھیے کہ یہ دل
کیسا اجڑا دیار ہے سائیں
رحمان فارس
