495
نظر نظر سے ملاؤگے مارے جاؤ گے
زیادہ بوجھ اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے
کوئی نہیں ہے یہاں اعتبار کے قابل
کسی کو راز بتاؤگے مارے جاؤ گے
ہر ایک شاخ پہ چھڑکا ہوا ہے زہر یہاں
شجر کو ہاتھ لگاؤ گے مارے جاؤ گے
جو کاندھے پر ہو وہ گردن اتار لیتا ہے
کسی کو اونچا اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے
ہر ایک آئینہ منظر جدا بناتا ہے
نظر کا بوجھ اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے
دھوئیں میں ملنا مقدر ہے ان لکیروں کا
ہوا میں نقش بناؤ گے مارے جاؤ گے
یہ نفسیاتی مریضوں کا شہر ہے قیصرؔ
کوئی سوال اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے
زبیر قیصر
