358
اک نفس نابود سے باہر ذرا رہتا ہوں میں
گمشدہ چیزوں کے اندر لاپتہ رہتا ہوں میں
جتنی باتیں یاد آتی ہیں وہ لکھ لیتا ہوں سب
اور پھر ایک ایک کر کے بھولتا رہتا ہوں میں
گرم جوشی نے مجھے جھلسا دیا تھا ایک دن
اندروں کے سرد خانے میں پڑا رہتا ہوں میں
خرچ کر دیتا ہوں سب موجود اپنے ہاتھ سے
اور ناموجود کی دھن میں لگا رہتا ہوں میں
جتنی گہرائی ہے عادلؔ اتنی ہی تنہائی ہے
بس کہ سطح زندگی پر تیرتا رہتا ہوں میں
ذوالفقار عادل
