367
وہ بوڑھا اک خواب ہے اور اک خواب میں آتا رہتا ہے
اس کے سر پر ان دیکھا پنچھی منڈلاتا رہتا ہے
ناٹک کے کرداروں میں کچھ سچے ہیں کچھ جھوٹے ہیں
پردے کے پیچھے کوئی ان کو سمجھاتا رہتا ہے
بستی میں جب چاک گریباں گریہ کرتے پھرتے ہیں
اس موسم میں ایک رفو گر ہنستا گاتا رہتا ہے
ہر کردار کے پیچھے پیچھے چل دیتا ہے قصہ گو
یوں ہی بیٹھے بیٹھے اپنا کام بڑھاتا رہتا ہے
اس دن بھی جب بستی میں تلواریں کم پڑ جاتی ہیں
ایک مدبر آہن گر زنجیر بناتا رہتا ہے
آوازوں کی بھیڑ میں اک خاموش مسافر دھیرے سے
نامانوس دھنوں میں کوئی ساز بجاتا رہتا ہے
دیکھنے والی آنکھیں ہیں اور دیکھ نہیں پاتیں کچھ بھی
اس منظر میں جانے کیا کچھ آتا جاتا رہتا ہے
اس دریا کی تہہ میں عادلؔ ایک پرانی کشتی ہے
اک گرداب مسلسل اس کا بوجھ بڑھاتا رہتا ہے
ذوالفقار عادل
