411
تو کرے جو محبت وہ محبت دغا کرے
بعد میرے نہ کوئی تجھ سے وفا کرے
پہلے پہل جتائے بے شمار محبت کہ حد ہو
اور پھر تم سےآہستہ آہستہ دھوکا کرے
وہ کہے دور ہو جاؤں میری آنکھوں سے
تو کرے منت اسکی اور اسے روکا کرے
ہجر کی کش مکش تجھے کھائے جائے
تو بھی کھائے چکر اور گر پڑا کرے
دوست آئے گے پوچھنے کہ کیسے ہو
نم آنکھیں لیئے تو میرا نام پکارا کرے
تو بھی کسی مزار پر چڑھائے چادر اور
ڈھول کی تھاپ پر رقصاں ہوا کرے
پھراسکی دید کی تو مانگے منت ہر سال
جا جا کے کسی مزار پر دھاگے باندھا کرے
تیرادل جب بھی گھبرائے اور تو
بے سکونی میں سجدے ادا کرے
ہاتھ پھیلائے رب کے آگے تو کرے سوال
یا رب اسے تو کب مجھکو عطا کرے؟
جا تجھے دیتی ہے دعا آج تہمینہ
جو میں نے کیا وہ صبر، تو بھی کیا کرے
تہمینہ مرزا
