خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرنہیں تو کرونا کو کرنے دو
اردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

نہیں تو کرونا کو کرنے دو

روبینہ فیصل کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن مارچ 27, 2020
از سائیٹ ایڈمن مارچ 27, 2020 0 تبصرے 433 مناظر
434

مجھے مکمل سچائی کا کوئی دعوی تو نہیں مگر دو تین سالوں سے کم کم اور گذشتہ چند مہینوں سے طبعیت میں کچھ اس قسم کی دنیا اور لوگوں سے بیزاری پیدا ہو تی جا رہی تھی کہ یہ سوال صبح و شام دل میں اٹھنے لگ گیا تھا کہ آخر یہ دنیا اب تک کیوں اور کیسے قائم ہے۔ ہر دن ایک نئے دھوکے، جھوٹ، منافقت اور دوغلے پن کا دریا سامنے نظر آتا اسے پار کیا جاتا ہے تو اگلے دن پھر اسی قسم کے ایک اور دریا کا سامنا ہو تا ہے۔منیر نیازی کو سلام۔ معروف کامیڈین امان اللہ خان کے دنیا سے رخصت ہو نے کی دیر تھی کہ کرونا کی بھی ہمت بڑھ گئی۔صاف دل کے لوگ کسی بھی روپ میں ہوں استاد ہوں، ڈاکٹر ہوں، رائٹر ہوں، مجسمہ ساز ہوں، کسان ہوں، گلوکار ہوں،یا جگت باز ہوں یقین جانئے ان کی وجہ سے خاندانوں،محلوں،شہروں اور ملکوں بلکہ اس پوری کائنات کو بڑا آسرا ہوتا ہے۔ورنہ کالے دل والے کسی مسیحائی والے شعبے میں بھی چلے جائیں اسے بھی بے آسرا کر دیتے ہیں۔
یہ” صاف دل” ہوتا کیا ہے؟ یہ نہیں کہ ایسا دل رکھنے والوں کو غصہ نہیں آتا یہ نہیں کہ وہ کوئی فرشتہ ہو تے ہیں ہر کمزوری سے مبرا نہیں بلکہ یہ وہ دل ہو تا ہے جو چھوٹا نہیں ہو تا، اس کے اندر دوسروں کے لئے بلاوجہ بغض یا حسد نہیں ہو تا، وہ صرف اپنے غموں کو سمیٹتے ہو ئے نڈھال ہو تا ہے کسی کی خوشیوں کی فکر میں خود کو نہیں جھلساتا۔وہ دوسروں کی خوشی میں خوش اور اپنی خوشی میں اداس ہو جاتا ہے کہ شائد اس پر کسی اور کا حق ہو۔۔ میں نے کسی کا حق تو نہیں چھین لیا؟ کیامیں اس خوشی کا حقدار بھی ہوں؟ صاف دل کے لوگ کسی کے کمزور لمحوں میں اسے نیچا نہیں دکھاتے،ممکن ہو تو سہارا دیتے ہیں ورنہ خاموش ہو جاتے ہیں۔صاف دل لوگوں کا معیار ِ دوستی صرف اور صرف محبت اور خلو ص ہو تا ہے نہ پیسہ، نہ عہدہ، نہ کوئی مالی نقصان یا فائدہ۔ وہ محبتوں کے لئے کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔وہ رشتوں کو اور دوستیوں کو محبت کی بنیاد پر نبھانا چاہتے ہیں نہ کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا مقابلے بازیوں کے لئے۔ ایسے کچھ چیدہ چیدہ لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے یہ دنیا شائدرہنے کے قابل تھی۔۔لگتا جنوری بیس بیس تک دنیا کی یہ خوش فہمی بھی ختم ہو گئی۔۔ دنیا کی یہ خوش فہمی ختم ہو ئی اور ساتھ ان چند ایک لوگوں کی بھی جو آج بھی صرف اور صرف کاسۂ ہاتھوں میں تھامے اپنوں اور غیروں سے خلوص اور محبت مانگتے پھرتے تھے۔
ایک طرف دہریوں کی زبان میں کہا جا رہا ہے کہ ہر مذہب کی عبادت گاہوں کے بند ہونے سے ظاہر ہو تا ہے کہ سائنس جیت گئی اور خدا ہار گیا۔میرے خیال میں خدا ہارا نہیں یہ تو وہ مذہبی رسمیں اور عمارتیں ہاری ہیں جو انسانوں نے انسانوں کو ایک ریوڑ میں ہانکنے کے لئے بنائی ہیں۔وہ سپر پاور جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس نے تو ثابت کر دیا کہ سائنس جتنی مرضی ترقی کر جائے،اس کے سامنے وہ بے بس ہے۔سائنسی ترقی کے باوجود انسان اندرونی طور پر غیر مہذب ہی رہا، جنگلی ہی رہا اور انسان کی یہ حرکتیں انسان کے اس منصب کی تذلیل کا باعث بن رہی تھیں جس پر خدا نے تمام فرشتوں کو پیچھے دھکیل کر انسان کو فائز کیا تھا۔کیا انسان خدا کو خدا ہی کے کئے گئے فیصلے پر شرمندہ نہیں کر رہا تھا؟کیا انسان اس رتبے کے قابل رہ گیا تھا؟ خود کو اشرف المخلوقات کہنے والا، نا انصافی دوغلے پن اور منافقت کے جس درجے پر جا پہنچا تھا وہاں پر صرف ایک اندھی گھاٹی تھی جہاں جا کر اس کوگم ہو نا ہی ہونا تھا۔
اور دوسری طرف ہمارے مولوی صاحبان کہہ رہے ہیں کہ مسجدوں میں ہاتھ سے ہاتھ ملا کے گھٹنے سے گھٹنا ملا کے نماز پڑھو اور مسجدوں کے خلاف اس سازش کو ناکام بنا دو،یہ کس سازش کی بات کر رہے ہیں؟ سازش تو انسان نے اپنے خلاف خود ہی کر لی ہے۔ انسان کا سب سے بڑا دشمن خود انسان ہی ہے۔ کبھی ان مذاہب کے نام پر اور کبھی ثقافتوں کے نام پر اور کبھی وطن پرستی کے نام پر انسان نے انسان کو جب جب قتل کیا تو اس سے نہ تو کسی مذہب کو نہ تہذیب کو نہ ثقافت کو کوئی فائدہ پہنچا،ہاں البتہ انسانیت کا بہت بڑا نقصان ہوتا رہا۔۔ اور ہو تے ہو تے ہر سو سال بعد فطرت خود سے پو چھنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ بول اب تیری رضا کیا ہے، یہ انسان، اس کائنات کے قابل بھی ہے کہ نہیں؟ انسانی سطح ہو یا ملکوں کے فیصلے، طاقت کے نشے میں غرق لوگوں کے واسطے اس تباہی میں پنہاں بہت سبق ہیں:
چھپ کر وار کرنے والا یہ ننھا سا وائرس انسان کو مار سکتا ہے تو منافقت میں ڈوبے یہ چھ چھ فٹے انسان کس قدر زہریلے ہو تے ہیں جو نجانے کتنے معصوم دل لوگوں کو جذباتی اور جسمانی طور پر مارتے رہتے ہیں۔
فطرت کے سامنے ہم بے بس ہیں تو اکڑ کس بات کی، جب خدائی قہر برسانے لگے تو دولت، عہدہ، ترقی کس کام کی ہے؟ اور پھرگھن کے ساتھ گہیؤں بھی پسنے لگتا ہے۔۔۔امیر غریب سب ایک قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔۔ شائد موت سب سے بڑی منصف ہے کسی میں تفریق نہیں رکھتی۔۔۔
جب ایک ذرے سے بھی کم اوقات ہے تو دوسروں سے برتر نظر آنے کی جنگ کیسی؟
یہ وقت ہے ایک نئی دنیا بسانے کا۔۔۔ جیسے دو روٹھے محبوب بہت دیر جدائی کا کرب جھیلنے کے بعد ایک دفعہ پھر سے مل جاتے ہیں تو وہ نئی محبت اور زندگی کے عہد و پیمان کرتے ہیں، بالکل اسی طرح اس آفت کے گزر جانے کے بعدانسان کو فطرت کے ساتھ نیا معاہدہ سائن کر نا ہو گا وہ فطرت جس میں درخت، پرندے، جانور، آبی جانور اور دوسرے انسان بھی شامل ہیں۔۔ اور جس کی سب سے اہم شرط یہ ہو گی کہ انسان خود سے سچ بولنا شروع کردے، اپنے اندر جھانک کے دیکھے کہ وہاں کی ضرورتیں کیا ہیں۔ آج جو یہ موقع مل رہا ہے تو فائدہ اٹھا کے دیکھے تو سہی کہ من کے اندر ہے کیا؟ احسان فراموشی؟ نا شکری؟ نا انصافی؟ د ھوکہ؟ جھوٹ؟ منافقت؟ حسد؟ مقابلہ بازی؟ احساس ِ برتری؟ تکبر؟ نفرت؟ کیا ان عناصر کے ساتھ کوئی انسان اشرف المخلوقات ہو سکتا ہے؟ کرونا وائرس کا علاج سائنس دان ڈھونڈ لیں گے مگر اس کے بعد بھی ان سب برائیوں کے ساتھ انسان کو اشرف المخلوقات کہنا جائز ہو گا؟اور اس طوفان کے بعد بھی انسانی دل و دماغ سے خوبصورت کونپلیں نہ کھلیں تو اور کتنی دیر خالی سائنس بغیر اخلاق کے اس کائنات کو بچا سکتی ہے؟
کچھ ہندووں کے پنڈت صاحبان کہہ رہے ہیں کہ گاؤ کا موتر پئیو اور کرونا کو بھگا دو۔ ایسے نام نہاد مذہبی مداریوں سے بھی جان چھڑانے اور انہیں سمجھنے کا بھر پو ر موقع ہے۔ کسی انسان کو خدا تک پہنچنے کے لئے ایسے کسی سرکس کے مداری کی ضرورت نہیں چاہے وہ پادری ہے یا مولوی یا پنڈت۔ جو مذہبی رہنما انسان کو انسان بننا نہ سکھا سکے، اپنی روح کو پاکیزہ رکھنا نہ سکھا سکے، انسان کو انسانیت نہ سکھا سکے میرے نزدیک وہ چاہے کس بھی مذہب کا ہو ایک مداری سے کم نہیں جو ڈگڈی بجا کر تماشہ دکھاتا ہے اور صرف اپنی جیب اور خواہشیں بھرتا ہے۔
میں نے ابھی تک کسی ملا،کسی پنڈت کے منہ سے یہ نہیں سنا کہ” یہ آفت آئی ہے تو آؤاپنے دل کے کالے پن کو دھو لیں، ظلم کر نا بند کریں، دلوں کی سختی کم کر کے ایک دوسرے کے کام آئیں، جھوٹ نہ بولیں، نیکی کرنے والے کو ذلیل نہ کریں، جھوٹے کو تاج نہ پہنائیں، خوشامد سے بچیں، ذخیرہ اندوزی نہ کریں، مشکل گھڑیوں میں ایک دوسرے کے کام آئیں۔۔ یا کم از کم اپنے جسم کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی روح کی صفائی بھی کر لیں کہ ہو سکتا ہے رب نے یہ موقعہ اسی لئے دیا ہو۔ نہیں!! بلکہ اس کے برعکس وہی مذہبی تماشوں کی ترویج ہو رہی ہے۔ مسجدوں کے خلاف سازش کی کہانیاں سادہ لوح عوام کو بیچی جا رہی ہیں اور کہیں گائے موتر کا کاروبار عروج پر ہے۔
سوچنے سمجھنے والوں کے لئے اس قدرتی آفت میں بہت نشانیاں ہیں۔ مگر لگتا ہے وہی دلوں میں قفل اور آنکھوں کے آگے پردے ہیں اور رہیں گے۔۔ کشمیریوں پر انڈیا کا ظلم ہو یا چین میں مسلمانوں کی نسل کشی یا انڈیا میں مسلمانوں پر ظلم یا فلسطین کی سالوں پر محیط خون بھری کہانی، دنیا کو آج بھی ان مظالم اور دوہرے معیارات کااحساس نہ ہواتو پھرکبھی بھی نہیں ہو گا۔۔ اس آسمانی آفت نے کرونا کے روپ میں انسانوں اور قوموں کے لئے احساس کرنے کا ایک موقع دیا ہے۔۔۔۔
میں ایسی دنیا کے خواب دیکھ رہی ہوں کہ میرے بچے پھر سے ہرے بھرے میدانوں میں بھاگے دوڑے، سوکر کھیلتے، سائیکل چلاتے پھریں گے،دوستوں کی محفلیں جمیں گی مگر کسی کی دل آزاری کے بغیر، رشتے داروں میں بغض، حسد اور آپسی کینہ ختم ہو جائے گا۔مائیں اپنے تمام بچوں کو انتہائی انصاف سے اپنے پروں تلے چھپا لیں گی، باپ گھنا سایہ بنے انہیں دنیا کے مادی طور پر کامیاب ہی نہیں بلکہ اخلاقی طور پر اچھا انسان بنائیں گے۔ استادوں کا حصول تعلیم پر زور صرف اچھی نوکری کے لئے نہیں بلکہ اچھا انسان بننے کے لئے بھی ہو گا، مذہبی رہنما رسم و رواج کے کاروبار سے اٹھ کر انسانوں میں جو بھی دین ہو اس کی روح گھولیں گے۔
مجھے امید ہے یہ خواب خواب نہیں رہے گا۔۔ اگر دنیا کو قائم رہنا ہے تو ایسی ہی خوبصورتی اور توازن کے ساتھ قائم رہے ورنہ کرونا جو کر رہا ہے اسے کر نے دیں۔۔گندگی اور غلاظت میں ڈوبی دنیا کو بچا کر کریں گے کیا؟ پھر سے روز مریں گے روز جئیں گے؟

روبینہ فیصل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تو میرا عشق ہے
  • عطر کافور
  • دادی کی جوانی
  • خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خوش تھا وہ مجھ کو دربدر کر کے
پچھلی پوسٹ
باہر نہیں جاسکتے تو اپنے اندر چلتے ہیں

متعلقہ پوسٹس

روغنی پتلے

جنوری 12, 2020

ذیابیطس

مارچ 11, 2025

تخلیقی ذہن پہ تبلیغی اثرات

دسمبر 11, 2020

سمپورن سنگھ کالرا

ستمبر 7, 2024

ہمارے زوال کی پہلی سیڑھی!

اگست 28, 2025

اصلی جن

اکتوبر 21, 2019

ایک ریڈیالوجسٹ دوست کے لئے

مئی 3, 2018

ماضی کی یاد

جولائی 31, 2022

ہمالیہ کی چوٹی

فروری 8, 2025

گورمکھ سنگھ کی وصیت

جنوری 18, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مائی جنتے

جنوری 17, 2020

بے وزنی روح کی کہانی

نومبر 27, 2024

ڈائری

جنوری 8, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں