602
وہ جانے کس بات پہ میرے سینے لگ کر رویا تھا
بے موسم سرسوں پھولی تھی کھیتوں کا منہ پیلا تھا
سمہے سہمے دن تھے کوئی خوف تھا میرے سینے میں
پچھلے سال اسی موسم میں تیرا ماتھا چوما تھا
پیاس کی حرمت بھول رہے ہو لیکن اتنا یاد رہے
پہلے میرے لب سوکھے تھے بعد میں دریا سوکھا تھا
لگتا ہے کہ میرے بعد بہت سے لوگ یہاں آئے
پچھلی بار میں جب آیا تھا رستہ اونچا نیچا تھا
تم نے یونہی جلدی کی ہے اس سے رشتہ توڑ لیا
ویسے چاہے جیسا ہوگا، دانش بندہ اچھا تھا
دانش نقوی
