436
رکھیے شغف روایتوں کے سلسلے سے بھی
لیکن کوئی خیال نے زاویے سے بھی
لگتا نہیں برا وہ کسی زاویے سے بھی
دیکھا اسے قریب سے بھی فاصلے سے بھی
مسمار کرکے آپ ہی اپنے مکان کو
بارش سے بھی جیت گیا زلزلے سے بھی
اک پھول نے اسیرِ زمیں کر دیا مجھے
میں تو اڑان سے بھی گیا گھونسلے سے بھی
تو نے ہمسفر مجھے اپنا بنا لیا
کیا بن سکے گی میری ترے قافلے سے بھی
اک مستقل سکوت ہے اک مستقل کلام
بے زار ہوں سنگ سے بھی آئینے سے بھی
شاہد کرے گا کون یقیں تیرے خواب کا
یہ لوگ تو مکر گئے تھے معجزے سے بھی.
شاہد ذکی
