526
قفس کو چمن سے سوا جانتے ہیں
ہر اک سانس کو ہم صبا جانتے ہیں
لہو رو کے سینچا ہے ہم نے چمن کو
ہر اک پھول کا ماجرا جانتے ہیں
جسے نغمۂ نے سمجھتی ہے دنیا
اسے بھی ہم اپنی صدا جانتے ہیں
اشارا کرے جو نئی زندگی کا
ہم اس خودکشی کو روا جانتے ہیں
تری دھن میں کوسوں سفر کرنے والے
تجھے سنگ منزل نما جانتے ہیں
ناصر کاظمی
