323
موڑ موڑ گھبرایا گام گام دہلا میں
جانے کن خرابوں کے راستوں پہ نکلا میں
سطح آب کہہ پائے کیا تہوں کے افسانے
سامع لب ساحل بحر سے بھی گہرا میں
اور کچھ تقاضے کا سلسلہ چلے یارو
پل میں کیسے من جاؤں مدتوں کا روٹھا میں
وہ کہ ہے مرا اپنا حرف مدعا اس کو
غیر کے حوالے سے کس طرح سمجھتا میں
جانے جذب ہو جاؤں کب فضا کے آنچل میں
ساعتوں کی آنکھوں سے اشک بن کے ڈھلکا میں
ایک روز تو گرتیں فاصلوں کی دیواریں
ایک روز تو اپنے ساتھ ساتھ چلتا میں
کون ہے مرا قاتل کس کا نام لوں عالیؔ
اپنی ہی وفاؤں کے پانیوں میں ڈوبا میں
جلیل عالی
