خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو بابا سپیشلمخدوم محی الدین: کمیونسٹ لیڈر اور شاعر
اردو بابا سپیشلتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

مخدوم محی الدین: کمیونسٹ لیڈر اور شاعر

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 4, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 4, 2019 0 تبصرے 1K مناظر
1K

مخدوم محی الدین ایک ترقی پسند شاعر تھے۔ گذشتہ سال ان کی پیدائش کی صدی ہندو پاک میں بڑے پیمانے پر منائی گئی تھی اور کئی مقامات پر سیمنار، سمپوزیم، مباحثے اور یاد گاری جلسوں کا انعقاد ہوا۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ مخدوم کی شاعری کا حقیقی طور پرتنقیدی محاسبہ اب بھی نہیں کیاجا سکا ہے، کیوں کہ جلسے، جلوس اور سیمنار تو وقتی ہو تے ہیں ان میں جو مقالے پڑھے جاتے ہیں وہ بھی وقت کا خیال رکھ کر لکھے جاتے ہیں ان میں گہرائی نہیں ہو تی، اس لیے وہ کسی بھی شاعر کے فن کا بھر پور طور پر احاطہ نہیں کر سکتے۔

یہ بات بھی اپنی جگہ پر درست ہے کہ جو شاعری کسی منشور کے تحت کی گئی ہو،اس میں بہت گہرائی نہیں ہے۔ یہ خامی مخدوم کے یہاں بھی ہے، کیوں کہ وہ کلی طور پر کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ تھے اور ان کا شمار سعادت مند قسم کے کمیونسٹوں میں ہو تا تھا انہوں نے کبھی بھی پارٹی لائن سے بغاوت کی کوشش نہیں کی۔

مخدوم محی الدین سے میری ملاقاتوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب وہ 1967ءمیں پہلی بار پٹنہ تشریف لائے تھے۔ اس وقت وہ تنہا نہیں آئے تھے بلکہ ترقی پسند اردو اور ہندی ادیبوں کا ایک وفد مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، بہار اور دہلی وغیرہ کا دورہ کر کے یہ مطالبہ کر رہا تھا کہ بھارت کی نو ریاستوں میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے۔ ایسا شاید اس لیے ہو رہا تھا کہ 1967ءمیں کانگریس پارٹی کو زبردست شکست سے دو چار ہونا پڑا تھا اور مشرقی ہند کی تمام ریاستوں میں اپوزیشن پارٹیوں کی حکومتیں قائم ہو گئی تھیں۔

دراصل اس طور پر کمیونسٹ رہنما اپنے اس گناہ کو دھونے کی کوشش کر رہے تھے جو انہوں نے اردو کے لیے دیو ناگری رسم الخط کا مطالبہ کر کے کیا تھا اب وہ اپنے آپ کو اردو دوست ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کیوں کہ اسی زمانے میں کچھ ترقی پسند اردو مصنفین نے یہ تحریک بہت زور و شور سے چلا رکھی تھی کہ اردو کارسم الخط دیو ناگری کر دیاجائے۔ ان میں راہی معصوم رضا، عصمت چغتائی، خواجہ احمد عباس، سردار جعفری، مجروح سلطان پوری اور آل احمد سرور وغیرہ شامل تھے۔ ان میں ہندی کے امرت رائے ( پریم چند کے صاحب زادے )، کملیشور، دھرم ویر بھارتی وغیرہ بھی شامل تھے جو اس تحریک کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔

ترقی پسندوں کی اس تحریک سے کمیونسٹ پارٹی کی بھی کافی بدنامی ہوئی تھی اور ایک طرح سے اردو ہندی مصنفین کا یہ وفد اس داغ کو دھونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس وفد میں مخدوم محی الدین کے علاوہ ساحر لدھیانوی، کیفی اعظمی، سجاد ظہیر، کرشن چندر، خواجہ احمد عباس، اندیور اور علی سردار جعفری شامل تھے۔ پٹنہ میں ان کے اعزاز میں ایک جلسہ ہوا تھا، جس میں بہا رکی نئی حکومت کے نائب وزیرِ اعلیٰ کرپوری ٹھاکر بھی شامل تھے۔

میں اس جلسے میں مرحوم سہیل عظیم آبادی کے ساتھ گیا تھا اور انہوں نے سبھوں سے میرا تعارف کروایا تھا لیکن میں اس وقت ادب میں بالکل نو وارد تھا اس کی وجہ سے سوائے مخدوم محی الدین کے کسی نے میری جانب توجہ نہیں کی تھی۔ مخدوم محی الدین صاحب کے بھی متوجہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ وہ میرے والد غبا ر بھٹی سے واقف تھے، جو ان کے ساتھ کئی مشاعروں میں شرکت کر چکے تھے۔

یہ جلسہ کافی کامیاب رہا تھا اس میں کرشن چند ر نے اپنی کہانی ”جامن کا پیڑ“ خواجہ احمد عباس نے ’داروغہ اور لڑکی‘ اور ساحر نے ”پرچھائیاں“ کے کافی حصے سنائے تھے۔ البتہ مخدوم کو لوگوں نے کافی توجہ سے سنا تھا کیوں کہ مخدوم اردو کے واحد شاعر تھے جو اپنی آزاد نظمیں بھی ترنم سے سنایا کرتے تھے۔ اس جلسے میں بھی انہوں نے اپنی نظم ”چارہ گر“سنائی تھی:

اک چنبیلی کے منڈوے تلے فلم ’چاچاچا‘ میں بھی استعمال کی گئی تھی، جسے رفیع اور لتا نے عمدگی سے گایا تھا۔ یہ نغمہ یہاں سنیئے

ایک چنبیلی کے منڈوے تلے
میکدے سے ذرا دور اس موڑ پر
دو بدن پیار کی آ گ میں جل گئے

اس نظم کا یہ حصہ تو بہت ہی متاثر کن ہے:

ہم نے دیکھا انہیں
دن میں اور رات میں
نور و ظلمات میں
مسجدوں کے میناروں نے دیکھا انہیں
مندروں کے کواڑوں نے دیکھا انہیں
میکدوں کے دراڑوں نے دیکھا انہیں
از ازل تا ابد
یہ بتا چارہ گر
تیری زنبیل میں
نسخہ کیمیائے محبت بھی ہے؟
کچھ علاج مداوائے الفت بھی ہے؟

مخدوم سے یہ ملاقات بہت مختصر رہی تھی، کیوں کہ اگلے ہی دن پھراس وفد کو گیا چلے جانا تھا۔ لیکن اس کے چند ماہ بعد ہی ملاقات کی ایک اور سبیل نکل آئی کہ پٹنہ میں کمیونسٹ پارٹی کا سالانہ اجلاس ہوا تھا جس میں شرکت کے لیے وہ تشریف لائے تھے اور پانچ چھ دنوں تک پٹنہ میں رہے تھے۔ اس موقعے پر مجھ کو ان سے انٹر ویو کرنے کا بھی موقع ملا تھا۔ مخدوم ترقی پسندوں کے منشور کے تابع تو ضرور تھے لیکن ادب کے بارے میں ایک واضح نظریہ بھی رکھتے تھے۔ ان کا اردو کے کلاسیکی ادب اور فارسی ادب کا مطالعہ کافی وسیع تھا۔ حافظ کے تو وہ زبردست مداح تھے اور ان سے استفادہ بھی کیا تھا۔شاید اسی لیے انہوں نے ”گل تر“ کے دیباچے میں لکھا ہے:

’زماں و مکاں کا پابند ہونے کے باوجود شعر بے زماں ہو تا ہے اور شاعر اپنی ایک عمر میں کئی عمریں گزارتا ہے۔ سماج کے بدلنے کے ساتھ ساتھ انسانی جذبات اور احساسات بھی بدلتے رہتے ہیں مگر جبلتیں برقرار رہتی ہیں۔ تہذیب، انسانی،جبلتوں کو سماجی تقاضوں سے مطابقت پیدا کرنے کا مسلسل عمل ہے۔ جمالیات حس انسانی حواس کی ترقی اور نشو و نما کا دوسرا نام ہے اگر انسان کو سماج سے الگ چھوڑ دیاجائے تو وہ ایک گونگا وحشی بن کر رہ جائے گا جو اپنی جبلتوں پر زندہ رہے گا۔ فنون لطیفہ انفرادی اور اجتماعی تہذیب و نفس کا بڑا ذریعہ ہیں جو انسان کو وحشت سے شرافت کی بلندیوں پر لے جاتے ہیں۔‘

مخدوم کے یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے اندر کے شاعر اور باہر کے کامریڈ میں زبردست مقابلہ آرائی ہو تی رہی ہے اور کبھی کبھی شاعر کامریڈ پر حاوی ہو گیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مخدوم ایک بہت اچھے انسان تھے۔ انسانیت اور شرافت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے غربت کو نہ صرف جھیلا تھا بلکہ اس کا بہت قریب سے مشاہدہ بھی کیا تھا۔ یہ ان کی زندگی کا ذاتی تجربہ بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بڑے کمیونسٹ لیڈر اور ایوان سازیہ کے رکن ہونے کے باوجود مخدوم کا غریب اور مزدور طبقے سے تعلق بے حد استوار رہا۔

کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس کے دوران میری ان سے نصف درجن بار سے زائد ملاقاتیں ہوئی۔ میرے ہمراہ وہ پٹنہ کے مختلف ادبا اور شعرا سے ملنے کے لیے ان کے گھر بھی گئے۔ جن میں پروفیسر کلیم الدین احمد، قاضی عبد الودود اور علامہ جمیل مظہری جیسی شیان ت تھیں۔ انہوں نے میرے ساتھ جا کر بازار سے خریدار ی بھی کی اور عام اصحاب سے ملے۔

کچھ ہی عرصہ بعد وہ پٹنہ میں کمیونسٹ پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر اے کے سین کی انتخابی مہم چلانے کے لیے آئے اور اس دوران بھی وہ چار پانچ دنوں تک ٹھررے۔ وہ بڑے زبردست مقرر تھے۔ اس موقع پر مجھے ان کی تقریریں سننے کا بھی موقع ملا۔ تقریر کے دوران وہ شعر و شاعری بالکل نہیں کرتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ جس جلسے میں جاتے تھے تو تقریر کے بعد ان سے شعر سنانے کی بھی فرمائش ہو تی تھی اور وہ ان فرمائشوں کو پورا کرتے تھے۔

مجھے اس انتخاب کا ایک دلچسپ واقعہ یاد آرہا ہے کہ ایک روز انہوں نے مجھ سے کہا کہ ان کے کمیونسٹ امیدوار کے خلاف کانگریس کے جو امیدوار پرنسپل محمد معین صاحب ہیں وہ ان سے ملنے کے لیے جائیں گے۔معین صاحب بہت ہی باوضح آدمی تھے۔ پٹنہ کے بہت ہی باوقار تعلیمی ادارہ بی این کالج کے پرنسپل تھے۔ میں جب انہیں لے کر معین صاحب کے یہاں پہنچا تو انہوں نے بڑی خوش اخلاقی سے ان کا استقبال کیااور کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ اس دوران الیکشن کے بارے میں قطعی کوئی بات نہیں ہوئی۔ اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ مخدوم محی الدین کتنے وضع دار انسان تھے۔

نئی دہلی میں 15جنوری 1969ءکو اچانک ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ چار فروری 1908ءکو آندھرا پردیش کے میدک سے ابو سعید مخدوم محی الدین حضری کا جو سفر شروع ہوا تھا وہ ایک زبردست جدوجہد کے بعد ختم ہو گیا۔ انہوں نے اپنے تین شعری مجموعے ’بساطِ رقص‘، ’سرخ سویرا‘ اور ’گلِ تر‘ یاد گار چھوڑے ہیں۔

 

رضوان احمد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کدّو کے چھلکے کی بھُجیا
  • شہزاد نیّرؔ پر عائشہ کرن کا مقالہ
  • ولی محمد ولی
  • سادہ مٹن ہانڈی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خمار بارہ بنکوی کی دسویں برسی پر
پچھلی پوسٹ
حفیظ جالندھری کی شاعری

متعلقہ پوسٹس

فیض اور کلاسیکی غزل

مئی 27, 2024

مراۃ العروس : ڈپٹی نذیر احمد

اپریل 12, 2025

اردو شاعری میں عمومی اصطلاحات

نومبر 25, 2018

حق گو درویش

اگست 28, 2025

غلام عبّاس

دسمبر 6, 2019

معاصر اُردو غزل کا نمایندہ شاعر- ارشاد نیازی

جنوری 15, 2021

جدید الحاد

دسمبر 25, 2025

چکن حلیم

جولائی 5, 2024

جرم کی سزا

اگست 28, 2025

”غزل کروٹ بدلتی ہے” ایک تنقیدی جاج

مارچ 3, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سفیرِ ادب

اپریل 9, 2026

پروین شاکر

ستمبر 15, 2019

نو نقد نہ تیرہ ادھار

نومبر 12, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں