خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو بابا سپیشلمجروح سلطان پوری
اردو بابا سپیشلسوانح حیاتمجروح سلطان پوری

مجروح سلطان پوری

مجروح سلطان پوری پر ایک مختصر سوانحی نوٹ

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 15, 2019
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 15, 2019 0 تبصرے 896 مناظر
897

مجروح سلطان پوری کا اصل نام اسرار حسن خان ہے۔ مجروح کا آبائی وطن ضلع سلطان پور (یوپی) ہے۔ والد محمد حسین خان بسلسلہ ملازمت قصبہ نظام آباد (ضلع اعظم گڑھ) میں قیام پذیر تھے۔ مجروح وہیں عیدالفطر کے دن جمعہ 13 اگست 1915ء کو پیدا ہوئے۔ مجروح کی ابتدائی تعلیم اعظم گڑھ میں ہوئی۔ انہوں نے دوسرے علوم کے ساتھ ساتھ طبابت (طب) کی سند بھی حاصل کی۔ اس زمانے میں انہیں شعر و شاعری سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ 1940ء میں انہوں نے پہلی غزل کہی تھی جس کا مطلع یہ تھا:
چشم تر ، لب خشک ، آہ و زاریاں
رنگ پر ہیں ان کی فتنہ کاریاں
یہ غزل انہوں نے سلطان پور کے ادبی مشاعرے میں سنائی تو ہر طرف دھوم مچ گئی اور لوگوں نے بہت پسند کیا اور خوب داد دی۔ دوستوں نے ہمت افزائی کی اور مجبور کیا کہ وہ شعر گوئی کا سلسلہ جاری رکھیں۔

Majrooh-sultanpuri

مجروح سلطان پوری

اس دور میں ہر طرف مشاعروں کی گرم بازاری تھی اور خود سلطان پور میں آئے دن کوئی نہ کوئی مشاعرہ ہر ہفتے منعقد ہوا کرتا تھا۔ مجروح ان مشاعروں میں شریک ہونے لگے اور اپنا کلام سنانے لگے۔ اس طرح ان کی شہرت کا آغاز سلطان پور سے ہوا چنانچہ شاعری کے اس شغف نے انہیں پیشہ طب سے دور کردیا۔ مجروح سلطان پوری نے مشاعرہ لوٹنے والی شاعری سے دور رہے۔ انہوں نے مشاعروں میں اپنے معیاری کلام سے یہ ثابت کیا کہ وہ اپنا شعری مزاج سامعین تک پہنچانا چاہتے تھے اور یہ بھی کہ انہیں تحسین ناشناس سے کوئی سروکار نہ تھا۔ مجروح اپنی غزلوں اور نظموں پر مولانا آسؔ لکھنؤی سے اصلاح لی تھی لیکن ان کی اصلاح کا طریقہ پسند نہ آنے کی وجہ سے یہ سلسلہ دراز نہ ہوا۔ 1941ء کے بعد سے مجروح نے اپنے کلام پر کسی سے اصلاح نہیں لی۔ اپنے ذاتی مطالعہ اور محنت سے شاعری میں بڑا نام کمایا اور اپنے عہد کو متاثر کیا۔ 1941ء میں مجروح کی پہلی ملاقات غزل کے منفرد شاعر اور ادبی مشاعروں کے روح رواں جگر مراد آبادی سے جونپور میں ہوئی۔ پہلی بنی ملاقات میں ہی جگر مراد آبادی، مجروح سلطان پوری کی شخصیت اور شاعری سے بڑے متاثر ہوئے اور مجروح کو مفید مشوروں سے نوازا۔ مجروح نے جگر مرادآبادی سے اپنے کلام پر اصلاح نہیں لی، مگر جگر مرادآبادی کا بڑا احترام کرتے تھے۔ جگر مراد آبادی اکثر کہا کرتے تھے کہ ’’میاں جیسے انسان بنوگے ویسے ہی شاعر بنوگے‘‘ مجروح کہتے ہیں کہ ان کی یہ بات بالکل صحیح نہ سہی مگر بڑی حد تک درست ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ مجروح نے جگر مرادآبادی کی یہ بات اپنی گرہ میں باندھ لی تھی جو ہمیشہ ان کے پیش نظر رہی۔ 1943ء میں ایک ادبی مشاعرہ منعقد ہوا جس میں ملک کے نامور شعراء اور ادیبوں نے شرکت کی تھیں۔ دوستوں کے اصرار پر مجروح نے بھی مشاعرے میں شرکت کی اور اپنا کلام سنایا۔ مجروح کا کلام بہت پسند کیا گیا اور انہیں خوب داد ملی۔ مجروح کی ملاقات علی گڑھ میں پروفیسر رشید احمد صدیقی سے ہوئی۔ رشید صاحب بھی مجروح کے کلام سے بے حد متاثر ہوئے اور مجروح دو سال تک ان کی صحبت میں رہے۔
1945ء میں بمبئی کے ایک بڑا ادبی مشاعرہ منعقدہ ہوا جس میں ملک کے نامور شعراء ، ادیب اور فنکاروں نے حصہ لیا اور اس میں جگر مراد آبادی کے ساتھ مجروح بھی شریک ہوئے۔ لوگوں نے مجروح کے کلام کو بہت پسند کیا اور اس مشاعرے میں اس دور کے مشہور فلم ڈائریکٹر اے آر کاردار بھی شریک تھے۔ انہوں نے جگر صاحب سے اپنی فلم ’’شاہ جہاں‘‘ کیلئے گیت لکھنے کی فرمائش کی۔ مگر جگر صاحب نے معذرت چاہی اور اس کام کیلئے مجروح کو پیش کردیا۔ جگر صاحب کے اصرار پر ہی مجروح نے یہ کام قبول کیا اور یہی ان کا مستقل ذریعہ معاش بن گیا اور وہ مستقل طور پر بمبئی آگئے رفتہ رفتہ مجروح کا شمار فلمی دنیا کے کامیاب شاعروں اور گیت کاروں میں ہونے لگا۔ اپنی ابتدائی زندگی کے زمانے ہی سے مجروح نے بے شمار کامیاب گیت دیئے جس کی وجہ سے لوگ ان کے نام اور کام سے واقف ہوگئے اور ان کی شہرت ملک کے کونے کونے تک پھیل گئی ۔ فلمی گیتوں میں مجروح نے ادبی معیار کو برقرار رکھا اور اس طرح فلمی نغموں کے معیار کو بھی بلند کیا۔ فلمی گیت کار کی حیثیت سے شاندار خدمات انجام دینے پر انہیں گراں قدر دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور ادبی خدمات کے صلہ میں اقبال سمان سے نوازا گیا۔ فلم شاہ جہاں‘‘ سے لے کر کئی فلموں میں مجروح نے کامیاب گیت دیئے فلم ’’شاہ جہاں‘‘ کا وہ نغمہ جس کو کے ایل سہگل صاحب نے گایا تھا جس کو آج بھی لوگ سنتے اور محظوظ ہوتے ہیں۔ وہ مشہور نغمے کے بول اس طرح ہیں:
غم دیئے مستقل کتنا نازک ہے دل
یہ نہ جانا
ہائے ہائے یہ ظالم زمانہ
مجروح سلطان پوری نے فلم ’’دوستی‘‘ کے لئے بھی کامیاب گیت دیئے جس کو مشہور گایک محمد رفیع صاحب نے اپنی درد بھری آواز میں گایا تھا جو آج بھی اپنا اثر رکھتے ہیں۔ وہ مشہور گیت کے بول اس طرح ہیں:
(1) راہی منوا دکھ کی چنتا کیوں ستاتی ہے
دکھ تو اپنا ساتھی ہے
(2) چاہوں گا میں تجھے سانجھ سویرے
پھر بھی کبھی اب نام کو تیرے
آواز میں نہ دوں گا
فلم ’’انداز‘‘ میں بھی مجروح نے کامیاب گیت دیئے ہیں جو آج بھی اپنا اثر رکھتے ہیں۔
مجروح سلطان پوری کی شادی 1946ء میں ہوئی۔ بیوی، لکھنؤ کے متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا نام فردوس گل ہے۔ مجروح کو ان سے پانچ اولادیں ہوئیں جن میں پہلے تین لڑکیاں ہیں۔ ان کے بعد دو لڑکے ہوئے۔ لڑکیوں کے نام نوگل، نوبہار اور صبا ہیں۔ لڑکوں کے نام ارم اور عندلیب ہیں۔ بمبئی میں مجروح کی ملاقات اس دور کے نوجوان ترقی پسند شعراء، ادیب اور فنکاروں سردار جعفری، کیفی اعظمی، سجاد ظہیر، ساحر لدھیانوی، جاں نثار اختر، احسان دانش اور مشہور افسانہ نگار کرشن چندر سے ہوئی۔ سبھی لوگ مجروح کی شخصیت اور شاعری کے مداح تھے۔ مجروؔح کا شمار اردو کے سربرآوردہ غزل گو شعراء میں ہوتا ہے۔ مرزا غالب کے بعد اردو غزل انحطاط کا شکار ہوگئی تھی جس کی وجہ سے حالی نے غزل کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کی اصلاح کی تجاویز پیش کیں۔ جدید نظم کی تحریک نے اس دور میں غزل کو پس منظر میں ڈھکیل دیا تھا۔ مجروؔح اور ان کے معاصرین نے اس صنف سخن کا احیاء کیا اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اسے وقار اور اعتبار بخشا۔ مجروؔح کو اپنے ہم عصروں میں ایک امتیاز حاصل ہے کہ وہ ایک اعلیٰ درجے کے فنکار اور ایک بلند پایہ شاعر و نغمہ نگار ہیں۔ ان کا انداز بیان بھی سب سے الگ اور سب سے منفرد ہے جس کی وجہ سے جدید غزل گو شعراء میں سر بلند مانے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری کے موضوعات، سیاسی، سماجی اور عشقیہ ہیں۔ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں، کیف و سرمتی میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔ ان سے اشعار حیثیت کے رازداں معلوم ہوتے ہیں۔ انہوں نے بے شمار اشعار تخلیق کئے ہیں جس کا پوری اردو شاعری میں جواب نہیں ہے۔ نمونہ کے طور پر ان کے چند مشہور اشعار ملاحظہ ہوں۔
بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لئے
ہم ایک بار تری آرزو بھی کھو دیتے
بچا لیا مجھے طوفان کی موج نے ورنہ
کنارے والے سفینہ مرا ڈبو دیتے
کتنی فسوں طراز ہے صیاد کی نظر
آکر قفس میں بھول گیا بال و پر کو میں
مجروح اب نہیں ہے کہ کسی کا بھی انتظار
اب لے کے کیا کروں گا دعا میں اثر کو میں
یہ ذرا دور پہ منزل، یہ اجالا، یہ سکوں
خواب کو دیکھ ، ابھی خواب کی تعبیر نہ دیکھ
دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن، جوش بہار
رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ
1952ء میں مجروح سلطان پوری کا مجموعہ کلام ’’غزل‘‘ کے نام سے پہلی بار شائع ہوا۔ یہ مجموعہ ان کے دوسرے دور کے آخری حصہ اور تیسرے دور کی یاد گار ہے۔ ڈسمبر 1982ء تک اس کے 6 ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ مجروح سلطان پوری کی تقریباً 55 سالہ شعری زندگی کو سامنے رکھیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان کا کلام اختصار کے باوجود اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا اہم کارنامہ یہ ہے کہ غزل جیسی روایتی صنف سخن میں ایک دلکش اور منفرد اسلوب کی بنیاد ڈالی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا سرمایہ شعر بہت مختصر ہے لیکن سارا کلام انتخاب معلوم ہوتا ہے اور اس میں خود ان کے حسن انتخاب کو بھی بڑا دخل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں بھرتی کا یا تیسرے درجہ کا کوئی شعر نہیں ملتا۔ ’’مجروح وہ پہلے شاعر ہیں جنہوں نے غزل کی صنف کو ترقی پسندانہ نظریہ ادب کے مطابق سیاسی اور سماجی مسائل کے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ مجروح نے کئی شاہکار غزلیں دیں۔ ان کی ایک مشہور غزل اس طرح ہے:
جب ہوا عرفاں تو غم آرام جاں بنتا گیا
سوز جاناں دل میں سوز دیگراں بنتا گیا
رفتہ رفتہ منقلب ہوتی گئی رسم چمن
دھیرے دھیرے نغمہ دل بھی فغاں بنتا گیا
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل، مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کاروان بنتا گیا
میں تو جب جانوں کہ بھردے ساغر ہر خواص و عام
یوں تو جو آیا وہی پیر مغاں بنتا گیا
جس طرح بھی چل پڑے ہم آبلہ پایانِ شوق
خار سے گل اور گل سے گلستان بنتا گیا
شرح غم تو مختصر ہوتی گئی ، اس کے حضور!
لفظ جو منہ سے نہ نکلا، داستان بنتا گیا
دہر میں مجروؔح کوئی جاوداں مضمون کہاں
میں جیسے چھوتا گیا وہ جاوداں بنتا گیا
مجروؔح سلطان پوری کی شاعرانہ عظمت کا راز یہ ہے کہ وہ ایک مشہور اور کامیاب شاعر اور نغمہ نگار ہونے کے علاوہ وہ ایک خوددار اور خدا ترس انسان تھے۔ ہمدردی، مروت، اعلیٰ اخلاق، انسان دوستی اور حب الوطنی ان کے خاص جوہر تھے۔ مجروح ملک میں ’’سبز انقلاب‘‘ کے آرزو مند تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہندوستان پھر سے امن و امان کا گہوارہ بنے اور ملک خوب ترقی کرے اور دنیا سے تشدد، ظلم اور بربریت کا خاتمہ ہو اور ہر طرح امن و بھائی چارہ اور انسانیت کا پیغام عام ہو۔
مجروح سلطان پوری ایک شخص اور شاعر کا نام نہیں بلکہ وہ اپنے آپ میں ایک ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اردو کے سبھی نقادوں نے مجروح کی شاعرانہ عظمت کو تسلیم کیا ہے۔ ڈاکٹر محمد حسن نے بھی مجروح کی شخصیت اور شاعری سے متاثر ہوکر کیا خواب کہا تھا: مجروح کی زبان سے تحریک بول رہی تھی اور بڑے وقار اور شکوہ سے بول رہی تھی۔ مجروح نے اردو زبان و ادب اور شاعری کی بے پناہ خدمات انجام دیں اور شاعری کو ساحری بنادیا۔ مجروؔح کی شخصیت کا کمال یہ ہے کہ وہ ایک عظیم شاعر اور مشہور گیت کار ہونے کے باوجود ہر ایک سے ملتے تھے اور غریبوں سے اکڑتے نہ تھے جہاں بھی موقع ملتا وہ یتیموں، مظلوموں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرتے تھے اور ان کی طبیعت میں غرور، تکبر اور اکڑ نام کو نہ تھی۔ سادگی اور ہمدردی ان کے خاص جوہر تھے۔ یہ تھا شائستہ تہذیبی ورثہ جس کے مجروح تنہا وارث تھے۔ مجروح نے اپنی شاعری سے آدمیت کو انسانیت کا درس دیا ہے۔ نیک دل انسان اور شاعر پیدا نہیں کئے جاتے بلکہ پیدا ہوجاتے ہیں۔ مجروح نے فلمی دنیا سے وابستہ ہوکر بھی اردو زبان و ادب اور شاعری کی گراں بہا خدمات انجام دیں اور اپنی محنت اور لگن سے شائقین کو بے شمار کامیاب گیت دیئے اور اپنی زندگی میں دولت، شہرت اور عزت حاصل کی ہے جو ایک ناقابل فراموش کارنامہ ہے۔ مجروح سلطان پوری کی شہرت جتنی بمبئی میں تھی، اتنی ہی شہرت حیدرآباد میں تھی اور حیدرآباد کے شائقین پر مجروح کی شاعری اور ان کے نغموں کا جادو چل چکا تھا۔ مجروح کے چاہنے والوں کا حلقہ بہت وسیع تھا اور انہوں نے طویل عمر پائی اور آخری دم تک ادب کی بے پناہ خدمت کرتے رہے۔ افسوس کہ موت نے انہیں زیادہ قیام کی مہلت نہ دی اور انہوں نے 24 اور 25 مئی 2000ء کی درمیانی شب بمبئی میں آخری سانس لی اور اپنی جان جان آفرین کے سپرد کردی اور اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ اردو زبان و ادب اور شاعری کی یہ شمع جو سلطان پور (یوپی) میں روشن ہوئی تھی۔ وہ بمبئی میں ہمیشہ کیلئے خاموش ہوگئی۔ اردو زبان و ادب کے مایہ ناز شاعر اور مشہور گیت کار ساحر لدھیانوی کے اشعار مجروح کی شخصیت اور شاعری پر پورے صادق آتے ہیں:
نہ منہ چھپاکے جئے ہم ، نہ سر جھکا کے جئے
ستم گروں کی نظر سے نظر ملا کے جئے
اب ایک رات اگر کم جئے تو کم ہی سہی
یہی بہت ہے کہ ہم مشعلیں جلا کے جئے

ڈاکٹر امیر علی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کہاں جائے گی تنہائی ہماری
  • ن م راشدؔ
  • فیض احمد فیض کوئز
  • آلو چکن مکس پکوڑے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
قتیل شفائی
پچھلی پوسٹ
دل آباد کہاں رہ پائے

متعلقہ پوسٹس

فارسی کا آسان قاعدہ

جنوری 21, 2025

نعت کہتا رہوں

جنوری 22, 2025

حمید قیصر

جنوری 7, 2020

مومن خان مومن

ستمبر 20, 2019

وجد

اپریل 16, 2023

دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا

دسمبر 30, 2021

شاہین فصیحؔ ربانی

جون 29, 2026

خلافت و ملوکیت

جنوری 22, 2025

استنبول یونیورسٹی کے زیر اہتمام سہ روزہ عالمی اردو سمپوزیم

اکتوبر 30, 2015

بادشاہ کا خواب

اگست 28, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عشق دھمال

مئی 6, 2020

کوئی کمی سی ہے

نومبر 3, 2020

پانچ شعراء

مئی 1, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں