399
خوابوں کو جاگیر بنانا بھول گئے
اس پہ ستم تعبیر بنانا بھول گئے
پیار کے زہر کو چکھ لینے کے بعد کھلا
ہم اس کو اکسیر بنانا بھول گئے
چھوڑ گیا وہ جس پل ہم کو تب جانا
چاہت کو زنجیر بنانا بھول گئے
ایک دعا کی صورت تم کو چاہا تھا
اور اس میں تاثیر بنانا بھول گئے
تم کو پلکوں بیچ چھپانا حسرت تھی
تم کو پلکوں بیچ چھپانا بھول گئے
نام تمہارا ہاتھ پہ لکھنا یاد رہا
ہم اس کو تقدیر بنانا بھول گئے
فاخرہ بتول
