612
کٹ چکی تھی یہ نظر سب سے بہت دن پہلے
میں نے دیکھا تھا تجھے اب سے بہت دن پہلے
آج تک گوش بر آواز ہوں سنّاٹے میں
حَرف اُترا تھا ترے لب سے بہت دن پہلے
میں نے مستی میں یہ پوچھا تھا کہ ہستی کیا ہے
رفتگانِ مئے و مشرب سے بہت دن پہلے
مسلکِ عشق فقیروں نے کیا تھا ایجاد
اے مبلّغ ترے مذہب سے بہت دن پہلے
پھر کسی مَے کدہ ء حسن میں ویسی نہ ملی
جیسی پی تھی کسی خوش لب سے بہت دن پہلے
ایک شخص اور ملا تھا مجھے تیرے جیسا
تو نہ تھا ذہن میں جب، جب سے بہت دن پہلے
حضرتِ شیخ کا اک رند سے رشتہ کیسا
ہاں ملے تھے کسی مطلب سے بہت دن پہلے
کیا تری سادگیء طبع نئی شے ہے شعورؔ
لوگ چلتے تھے اسی ڈھب سے بہت دن پہلے
انور شعورؔ
