428
بہت سر سبز جو تم نے شجر رکھا ہوا ہے
خزاں کا اس میں بھی کچھ کچھ اثر رکھا ہوا ہے
پرندے اڑ رہے ہیں ہر طرف یہ جو پریشاں
ہوائے تیز میں ان کا سفر رکھا ہوا ہے
لپٹتے جا رہے ہیں سائے جو قدموں سے میرے
دیئے کی لو کو میں نے ہاتھ پر رکھا ہوا ہے
زمانہ دے رہا ہے زہر مجھ کو لمحہ لمحہ
خطا یہ ہے کہ مجھ میں اک ہنر رکھا ہوا ہے
عتیق اپنوں سے اتنی دور کس کو ڈھونڈتے ہو
خلا میں کس لیے تم نے سفر رکھا ہوا ہے
ملک عتیق
