521
عجیب ڈھنگ سے میں نے یہاں گزارا کیا
کہ دل کو برف کیا ذہن کو شرارا کیا
مزاج درد کو سب لفظ بھی قبول نہ تھے
کسی کسی کو ترے غم کا استعارہ کیا
پھر اس کے اشک بھی اس کو ادا نہ کر پائے
وہ دکھ جو اس کے تبسم نے آشکارا کیا
کہ جیسے آنکھ کے لگتے ہی کھل گئیں آنکھیں
نگاہ جاں نے بہت دور تک نظارہ کیا
ہمیں بھی دیکھ کہ تجسیم نو سے گزرے ہیں
بدن کو شیشہ کیا، دل کو سنگ پارہ کیا
عجیب مزاج تھا تنہائی آشنا کہ سعودؔ
خود اپنا ساتھ بھی مشکل سے ہی گوارا کیا
سعود عثمانی
