خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباحکیم جی
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرحمید قیصر

حکیم جی

حمید قیصر کا ایک افسانہ

از حمید قیصر مارچ 21, 2020
از حمید قیصر مارچ 21, 2020 0 تبصرے 415 مناظر
416

حکیم جی

گلی میں ہارن کی آواز پر حکیم شجاع اللہ طلے کی کلا ہ درست کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ بیٹی نے دائیں ہاتھ میں منقش عصاء تھمایا، ان کا دوسرا ہاتھ پکڑ کر گھر کی دہلیز تک چھوڑنے آئی۔ پھر چلمن کی اوٹ سے انہیں جاتے ہوئے دیکھنے لگی ……
’’ بابا جان جلد لوٹ آئیے گا……‘‘
روزانہ جب حکیم جی، رئیس خان زمان کے ڈرائیور کا ہاتھ تھام کر مرسڈیز کی طرف بڑھتے تو یہ فقرہ ان کی سماعت سے ٹکراتا اور وہ …اچھا بیٹے… کہہ کر آگے بڑھ جاتے۔
حکیم شجاع اللہ کی حکمت اور دانائی کا شہرہ اپنے شہر میں توتھا ہی دور دراز کے قصبوں اور دیہاتوں سے بھی دن بھر لوگ ان کے پاس آتے رہتے تھے۔ ایک بیٹی اور پھر بیٹے کی پیدائش کے بعد بیوی داغ مفارقت دے گئی تھیں۔ بعدازاں جوانی ہی میں ٹریفک کے ایک حادثے نے حکیم جی کی آنکھوں کی روشنی چھین لی۔ تب سے ان کے وجدان کی کئی کھڑکیاں، دروازے کھل گئے….. رفتہ رفتہ انہوں نے محسوس کیا جیسے علم و حکمت نے ان کے اندر چراغاں سا کردیا ہو……
رئیس خان زمان بھی پہلے پہل ان کی حکمت کا چرچا سن کر مریض کی حیثیت سے آئے۔ جب راہ و رسم بڑھے تو باقاعدہ آنا جانا شروع ہوگیا۔ یوں ہوتے ہوتے معمول کا آنا جانا دیرینہ رفاقت کا روپ دھار گیا۔
پندرہ منٹ کی مسافت کے بعد پرانے مگر شاہانہ طرز کی مرسڈیز رئیس خان زمان کی کوٹھی کے احاطے میں داخل ہوکر رک گئی ۔ ڈرائیور نے بائیں جانب کا پچھلا دروازہ کھولا اور حکیم جی کو سہارا دیتے ہوئے صدر دروازے تک لے آیا۔ ہارن کی آواز پر خادمہ حکیم جی کو رئیس کے کمرے تک لے جانے کے لیے آچکی تھی۔ حکیم جی خادمہ کا ہاتھ تھام کر طویل راہداری عبور کرتے ہوئے رئیس کے کمرے تک پہنچے تو سنگیں فرش پر پیتل کے سام والے عصاء کی ٹھک ٹھک سن کر رئیس خان زمان حسب معمول خود ہی اٹھ کر باہر آگئے ….
’’ آئیے حکیم صاحب آئیے ……….‘‘
’’ خان صاحب! اب آپ کی صحت کیسی ہے ؟ ‘‘ حکیم جی نے حسب معمول دریافت کیا۔ ’’ اللہ کا بڑا احسان ہے حکیم صاحب………. بھئی خادمہ ہمیں جلدی سے ٹھنڈا پلاؤ بہت پیاس لگی ہے ۔‘‘ خان صاحب نے صوفے پر آلتی پالتی جماتے ہوئے حکم دیا۔
’’ خان صاحب خیریت تو ہے آج حویلی کی راہداری کچھ خاموش سی ہے گھر میں چہل پہل محسوس نہیں ہورہی ؟‘‘ حکیم جی نے گفتگو کا آغاز کیا۔
’’ اجی حکیم صاحب کیا بتائیں سبھی گھر والے صبح سے مربعوں کی سیر کو نکلے ہیں۔ اب شاید کل ہی لوٹیں گے اور صاحبزادے مقرب خان کالج سے آکر گھر سے باہر ہی نہیں نکلے ‘‘ خان صاحب نے بتایا ۔
’’ اسی بہانے آپ بھی ہو آتے تو ذرا آب و ہوا تبدیل ہوجاتی …..‘‘
’’ اجی ہم کہاں! اب تو گھر کی چوکیداری ہی ہماری ذمہ داری ٹھہری ………. ایسے میں یہ خاندانی حقہ ہمارا ساتھی ہے یا پھر کتابیں ہمارا دل بہلاتی رہتی ہیں۔ ‘‘ خان صاحب چند یا پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے۔ خادمہ شربت کی ٹرے تپائی پر رکھ کر چلی گئی ۔
’’ حکیم صاحب کبھی ہماری سنبل بیٹی کو بھی ہمراہ لے آئیے ناں؟‘‘ خان صاحب نے شربت کا گلاس بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’ اجی کیا بتاؤں خان صاحب کالج چھوڑنے کے بعد گھر سے ایسے جڑی ہے کہ کہیں آنے جانے کا نام ہی نہیں لیتیں…..بس ہر وقت گھر داری میں لگی رہتی ہیں ….‘‘
’’ حکیم جی ! پھر آپ نے سنبل بیٹی اور مقرب خان بیٹے کے رشتے کے بارے میں کیا سوچا ہے ؟ ‘‘ خان صاحب نے شربت کا ٹھنڈا میٹھا گھونٹ حلق سے اتارتے ہوئے پوچھا۔
’’ خان صاحب ! آپ جانتے ہیں ایک ہی تو بیٹی ہے اگر وہ بھی اپنے گھر کی ہوگئی تو میرے پاس کیا رہ جائے گا؟‘‘ حکیم جی تاسف سے بولے۔
’’ حکیم صاحب! بیٹیاں تو ہوتی ہی پرایا دھن ہیں، آج نہیں تو کل اسے اپنا گھر تو بسانا ہی ہوگا ؟‘‘ رئیس نے حقیقت پسندانہ انداز میں کہا۔
سنبل کے رشتے کا ذکر چھڑتے ہی حکیم صاحب فکر کی اتھاہ گہرائیوں میں جابیٹھے۔
معمول کی اس محفل میں گھنٹوں کشتہ حبوب عنبری سے لے کر دنیا جہاں کے موضوعات اور مسائل پر گفت و شنید ہوتی مگر تان، سنبل اور مقرب خان کے رشتے پر ٹوٹتی ۔ یہ ذکر گویا حکیم شجاع اللہ کی رخصتی کا اعلان ہوتا۔ وہ کافی دیر عالم استغراق میں ہچکولے لینے کے بعد سطح آب پر آجاتے ۔ تب رئیس خان زمان کسی مردانہ تکلیف کا کوئی نیا نسخہ دریافت کر کے حکیم صاحب کی کشتی منجھدار سے باہر نکال لیتے……
چلیں خان صاحب ! سنبل بیٹی انتظار کرتی ہوگی، پتہ نہیں ولید بازار سے لوٹا ہے کہ نہیں؟ ‘‘ حکیم جی عصاء سنبھالتے ہوئے کھڑے ہوگئے……
چونکہ خان صاحب حکیم جی کی سخت گیر طبیعت سے اچھی طرح واقف تھے اس لیے زور نہ دیتے تھے اور انہیں رخصت کرنے کے لیے خادمہ کو بلایا جاتا۔
حکیم جی خادمہ کا ہاتھ تھام کر رئیس خان زمان سے رخصت ہوئے تو طویل راہداری ویسے ہی خاموش پڑتی تھی….. ابھی راہداری کا پہلا ہی موڑ مڑے ہوں گے کہ اچانک حکیم صاحب رک گئے…..
’’ بیٹی تم وہی خادمہ ہونا ں جو گھنٹہ بھر پہلے مجھے گیٹ سے اندر لے کر آئی تھیں؟ ‘‘ حکیم جی کے اچانک سوال پر خادمہ ٹھٹکی ……
’’جج………. جی ہاں………. حکیم صاحب‘‘ جواب سن کر لمحہ بھر کے لیے حکیم صاحب کی بے نور آنکھیں خادمہ کے چہرے پر ٹکی رہیں اور پھر بولے ۔

’’ ذرا مجھے رئیس کے پاس واپس لے چلو……….‘‘ حکیم صاحب جلالی لہجے میں بولے خادمہ اس اچانک تبدیلی پر بہت سٹپٹائی ، وہ حکیم صاحب کو لے کر چل تو پڑی مگر سمجھ نہ سکی کہ معاملہ کیا ہے ؟ رئیس خان زمان جو ابھی ابھی مسہری پر دراز ہوئے تھے حویلی کی گھمبیرتا میں دوبارہ حکیم صاحب کے عصاء کی لمحہ بہ لمحہ قریب آتی آواز پر چونکے اور اچھل کر کمرے سے باہر آرہے…… گویا کوئی انہونی ہوگئی ہو…….
’’ کیا ہوا خادمہ؟‘‘ رئیس نے حکیم صاحب کی بجائے خادمہ سے یوں دریافت کیا جیسے وہ کوئی خطا کر بیٹھی ہو ، خادمہ سہمی ہوئی ایک طرف کھڑکی تھی…..
’’خان صاحب! کیا یہ وہی خادمہ ہے ……جو مجھے گیٹ سے اندر لائی تھی ؟‘‘ حکیم جی نے بغیر کسی تمہید کے دریافت کیا۔ رئیس جو حکیم صاحب کی یوں مراجعت پر پہلے ہی ششدر تھے ، ان کے سوال سے پریشان ہونے لگے…..
’’آ……….جی………. جی ہاں حکیم صاحب! ہفتہ بھر پہلے ملازم رکھا تھا اسے کیا کوئی خطاء ہوگئی اس کمبخت سے ؟ ‘‘ خان صاحب تذبذب کے عالم میں بولے ۔
’’ یقین نہیں آتار ئیس ……عجب قصہ ہے ؟‘‘
’’ کیا یقین نہیں آتا حکیم صاحب؟‘‘ رئیس کی پریشانی سوا ہوتی جارہی تھی۔
’’ گھر میں اور کون کون ہے ؟‘‘ حکیم صاحب نے تفیشی افسر کے سے انداز میں پوچھا۔

’’ بتایا تو تھا کہ اہل خانہ زمینوں پر گئے ہوئے ہیں ،مقرب خان اپنے کمرے میں سورہا ہوگا اور یہ آج آپ نے پہیلیاں کیوں بجھوانا شروع کردیں حکیم صاحب آخر معاملہ کیا ہے ؟‘‘ خان صاحب کے لہجے میں سٹپٹا ہٹ نمایاں ہوتی جا رہی تھی…..
’’ خان زمان یہ جو تمہاری خادمہ ہے ناں! آتی دفعہ اس کی نبض کچھ اور تھی اور جاتی دفعہ اور……….‘‘
خادمہ بھی حیران و پریشان، حکیم صاحب کا غصے سے تمتماتا سرخ چہرا تکے جاتی تھی ….
’’کک…..کیا……خادمہ کی نبض ….بھئی حکیم صاحب………. میری تو سمجھ میں کچھ نہیں آرہا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ خان صاحب زچ ہوکر بولے۔
’’ رئیس خان زمان! سب سمجھ آجائے گا۔ آپ ذرا مجھے چھوٹے رئیس کے کمرے تک تو لے چلیئے……….‘‘ خان صاحب تذبذب کے عالم میں کبھی حکیم صاحب تو کبھی خادمہ کی طرف دیکھتے ، جو بے بسی کی تصویر بنی کھڑی تھی۔ خان صاحب اسی عالم میں حکیم صاحب کا ہاتھ تھامے مقرب خان کے کمرے کی جانب روانہ ہوئے۔ خادمہ اس ہرنی کی طرح دونوں کے پیچھے چلنے لگی جیسے وہ زبردستی اس کا بچہ اٹھا کر لے جارہے ہوں۔ ایک آدھ موڑ مڑنے کے بعد بائیں جانب مقرب خان کے کمرے کا دروازہ کھٹاخ سے کھل گیا ۔ کمرے میں تاریکی تھیں۔ راہداری کی روشنی اور شور غل سے مقرب خان کچی نیند سے آنکھیں ملتے
ہوئے اٹھ بیٹھا۔
’’ حکیم صاحب ! یہ رہے چھوٹے رئیس مقرب خان! اب بتائیے یہ نبض کا کیا قصہ ہے ؟ ‘‘
’’ تحمل سے خان زمان …..ذرا دھیرج ! تمہاری یہ خادمہ جب مجھے گیٹ سے لے کر آئی تھی تو اس کی نبض پر میرا ہاتھ تھا اور جب یہ مجھے رخصت کرنے جارہی تھی، اتفاق سے تب بھی میرا ہاتھ اس کی نبض پر تھا…….. دونوں اوقات کی کیفیت مختلف ہے‘‘۔
’’ او ہو حکیم صاحب……..آخر آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟‘‘ خان صاحب چلا اٹھے ۔ ان کے پیچھے کھڑی خادمہ دروازے کی اوٹ میں جیسے پتھر ا کے رہ گئی تھی۔
’’ارے بھئی ! جب میں آیا تھا تو خادمہ کنواری تھی مگر اب نہیں رہی……میری مانو تواب جتنی جلدی ممکن ہومقرب خان کی شادی خادمہ سے کروا دو……‘‘ حکیم جی نے مشورہ دیا۔

حمید قیصر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جنم ورودھی
  • گُل رخے
  • زنگ خوردہ لب اچانک آفتابی ہو گئے
  • محبت رفتہ رفتہ مر رہی ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
حمید قیصر

اگلی پوسٹ
راز داں
پچھلی پوسٹ
پہلے تشخیص ۔ پھر علاج

متعلقہ پوسٹس

ان کی پلکوں پہ خواب کیا ٹھہریں

جنوری 26, 2025

غریب انسان رشتوں میں کمزور؟

مارچ 25, 2026

مسلسل آگ میں جلتا ہوا کشمیر بھی دیکھے

جولائی 11, 2021

بھلا پروانوں کا بھی کوئی وارث ہوتا ہے؟

مئی 23, 2023

فسوں گر لمحہ

نومبر 6, 2020

برصغیر،ہومیو پیتھی اور اردو

ستمبر 19, 2020

ٹرانجٹ کی زندگی

جنوری 24, 2020

جو کتابِ زیست کا باب تھا

جنوری 28, 2020

عشق کرنا میرے ہمدم

اگست 5, 2025

شِکستہ دِل، تہی دامن، بچشمِ تر گیا آخر

نومبر 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تجھے یہ وہم کہ چہرے کو...

جنوری 28, 2020

ترقی کی دوڑ میں بکھرتے رشتے

ستمبر 22, 2025

سفر آسان تھوڑی ہوتے ہیں

نومبر 1, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں