594
سو مت جانا
ایک لمحے کی دوری پیچھے
کتنے اوس میں بھیگے پنچھی آنکھوں نے آزاد کئے
خواب سفر کے سارے جذبے دل میں روشن ہوتی خوشبو
پل پل رنگ میں لپٹی بارش
اندیشوں کی بیل سے الجھے خیال سب ہی برباد کئے
دیکھو رات بہت کالی ہے
آگے سپنے مل جائیں گے
کوئی چمکتا تارہ ہو تو دکھ سکھ کہنا
نیند نہ آئے
آنکھیں موندے نیند آنے کا ناٹک کرنا
تم کو سوتا جان کے تارہ پلکوں پہ آٹھہرے گا
دیکھو ۔۔۔ اس کے ہو مت جانا
صبح سے پہلے
سو مت جانا
سلمیٰ سیّد
