418
کھردری گرد کی کھال
بس تری ایک خواہش کی تعظیم میں
زندگی بے تعلق زمینوں کے زینے اترتی رہی
وقت کے بھر بھرے دھیان کی قاش
ہاتھوں میں لے کر
سہولت کی مٹی بجاتی رہی
خوف آنگن کی پوروں میں
جب گھونسلوں کی بنا رکھ رہا تھا
تو میں نے کہا تھا
ہمیں دن کے دائیں طرف کی چنبیلی کی خوشبو کو
دیوار کے اس طرف روکنے کی ضرورت پڑے گی
مگر وہ تری ایک خواہش کی تعظیم تھی
ہم تعلق کی دیوار کے اس طرف
پھیلتی رائیگانی لٹاتے رہے
لوگ آتے رہے اور جاتے رہے
اب زمانہ کسی ساحلی ریت کی مثل
جسموں سے چپکا ہوا ہے
دھواں بیٹھ جائے تو اٹھیں
کہانی کا شانہ ہلا کر
اضافی تحیر کا پوچھیں
پرانے دنوں پر جمی
کھردری گرد کی کھال ادھڑے
تو دیوار کی باقی ماندہ جسامت کا اندازہ ہو
منیر جعفری
