خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباتم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزحیات عبداللہ

تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے؟

حیات عبد اللہ کا اردو کالم

از حیات عبد اللہ دسمبر 29, 2019
از حیات عبد اللہ دسمبر 29, 2019 0 تبصرے 314 مناظر
315

تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے؟

” تمھیں ایک دوسرے سے زیادہ(مال) حاصل کرنے کی حرص نے غافل کر دیا یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں “(سورۃ التکاثر)
عناصرِ اربعہ ہوں یا حواسِ خمسہ، مال ومنال کا لوبھ انسان میں مکمل طور پر سرایت کر چکا ہے۔حرص و ہوس کی حدّ اعتدال کو روند کر ہم کہیں دُور نکل گئے ہیں۔کسی ایسے ریگ زار میں جہاں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں۔کسی ایسے دشتِ بے اماں میں جہاں صلہ ءرحمی اور رحم دلی کا گزر تک نہیں۔زیست کے گراں مایہ اور انمول لمحات میں مال ودولت ہمیشہ” بہت کچھ“ہوتا ہے مگر” سب کچھ“ تو نہیں ہوتا۔لاریب روپے پیسے کی بانہوں میں آسایشات اور تعیّشات کے سامان سمائے ہوتے ہیں مگر کتنے ہی اہلِ ثروت نیند کی گولی لے کر سوتے ہیں اور اُن کے برعکس کتنے ہی مفلوک الحال لوگ خس وخاشاک کے ڈھیر پر بھی گھوڑے بیچ کر سکون کی نیند سو رہے ہوتے ہیں۔سونے چاندی سے خوشیاں خریدی جا سکتی ہیں نہ دل میں سمائے دردوالم کو کم کیا جا سکتا ہے۔ہیرے جواہرات کے عوض صحت کا حصول ممکن ہے نہ رنجیدگی کو دُور کیا جا سکتا ہے۔باایں ہمہ یہ حضرت انسان، دولت کے حصول کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہے۔اس کے پاس کروڑوں روپے جمع ہو جائیں تب بھی بوالہوسی مٹتی ہی نہیں۔
معلوم نہیں ڈاکٹرز کے دلوں میں حرص کی نوکیلی اور خاردار جھاڑیاں اتنی کثرت کے ساتھ کیوں اگ آئی ہیں؟ بہاول پور میں ہم ایک ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوئے تو میں نے گھڑی میں ٹائم دیکھ لیا۔اُس نے ہمیں ایک منٹ اور بیس سیکنڈ دیے اور آٹھ سو روپے فیس وصول کر لی۔اُس نے مریض کی بات تک سننا گوارا نہ کی۔الٹرا ساؤنڈ رپورٹ دیکھی اور جلدی جلدی دوائیں لکھ کر نسخہ تھما دیا۔میرے دوست نے کہا ڈاکٹر صاحب یہ دوائیں میں استعمال کر چکا ہوں مگر کچھ افاقہ نہیں ہوا۔ڈاکٹر نے جان چھڑاتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتہ یہ دوائی استعمال کرنے کے بعد پھر آنا۔
کہنا پڑا انھی کو مسیحائے وقت بھی
جن سے ہمارے درد کا درماں نہ ہو سکا
بہاول پور میں ایک ڈاکٹر کے پاس میں نے ایک مریض کو مِنتیں کرتے دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب! میرے پاس پورے پیسے نہیں ہیں، میرا الٹرا ساؤنڈ کر دیں مگر ڈاکٹر فیس کے بغیر الٹراساؤند کرنے کے لیے کسی طور تیار نہ تھا۔ایک شخص نے اُس مریض کی فیس دی تب ڈاکٹر نے اُس کا الٹراساؤنڈ کیا۔میں نے اپنے شہر کہروڑ پکا میں ایک بزرگ خاتون کو ڈاکٹر کے سامنے گِڑگِڑاتے دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب! میں غریب ہوں، فیس پوری نہیں ہے۔مگر ڈاکٹر اُس کی بات کو اہمیت دینے کی بجائے دوسرے مریض کی طرف متوجہ تھا۔
اک ڈاکٹر مریض کو سمجھا رہا تھا یوں
کرتا ہے میرے کام کو دشوار کس لیے؟
پیسے نہ تھے علاج کے گر تیری جیب میں
پھر یہ بتا ہُوا ہے تُو بیمار کس لیے؟
یقیناً رحم دل اور خدا ترس ڈاکٹر بھی ہوتے ہیں۔میں نے بہاول پور میں ہی گردوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر ممتاز رسول کو غریب مریضوں کا مفت معائنہ کرتے بھی دیکھا ہے۔ایسے ڈاکٹرز کی حوصلہ افزائی ضرور ہونی چاہیے مگر اپنے گردوپیش پر نظر دوڑا لیجیے ایسے ڈاکٹر آٹے میں نمک سے بھی کم ہی دکھائی دیں گے۔اکثر ڈاکٹر فیس کے بغیر مریض چیک کرتے ہی نہیں اور کچھ ڈاکٹرز کے مزاج پر تو فیس لے کر بھی مریض کی بات غور سے سننا گراں گزرتا ہے۔مریض اپنے دکھ کو بیان کرنا چاہتا ہے مگر ڈاکٹر کے پاس مریض کے دکھ کو محسوس کرنا تو کجا، سننے کے لیے بھی وقت نہیں۔ڈاکٹرز کے پاس ڈلیوری کی مریضہ آ جائے تو ان کی چاندی ہو جاتی ہے۔کیوں کہ آپریشن کے بغیر ڈلیوری کرنا اب ڈاکٹرز نے ناممکن بنا دیا ہے۔آپ کسی بھی پرائیویٹ ہسپتال میں چلے جائیں، ڈاکٹر کوئی نہ کوئی کہانی گھڑ کر مریضہ کا آپریشن ہی تجویز کرے گا۔بہ صورتِ دیگر مریضہ یا بچّے کی جان کو شدید خطرات بتائے جائیں گے۔دنیا بھر میں 70 فی صد بچّے قدرتی طور پر نصف شب کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔اب ایسی کیفیت اور ایسی حالت میں مریضہ کو کسی دوسرے ہسپتال منتقل کرنا بھی دشوار ہوتا ہے، سو مریضہ کے عزیزواقارب آپریشن کروانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔وہ کوئی خوش نصیب ہی خاتون ہو گی جس کی کسی پرائیویٹ ہسپتال میں نارمل ڈلیوری کر دی گئی ہو۔ڈلیوری کے لیے آنے والی ہر خاتون کا آپریشن کر دینے کا المیہ اب اس قدر المناک ہو چکا ہے کہ اسے جرم تو کجا، غلط بھی نہیں سمجھا جاتا۔
عالمی ادارہ ءصحت بھی پاکستان میں اس صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔ترقی یافتہ ملکوں میں آپریشن کے ذریعے بچّوں کی پیدایش کی شرح 25 تا 28 فی صد ہے۔بھارت اور چین میں 33 فی صد جب کہ پاکستان میں یہی شرح 60 فی صد سے تجاوز کر چکی ہے۔آپریشن کی اس 60 فی صد شرح میں سے اگر سرکاری یسپتال نکال کر صرف پرائیویٹ ہسپتالوں کو شامل کیا جائے تو آپریشن کی شرح 95 فی صد سے بھی بڑھ جائے گی۔سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز، مریضہ کے آپریشن کے جھنجھٹ سے گریز کرتے ہیں اور انتہائی ناگزیر حالات میں ہی آپریشن کرتے ہیں۔اسی لیے سرکاری ہسپتالوں میں زچّہ کے آپریشن کم سے کم تر ہوتے ہیں۔
مال کی حرص نے کچھ ڈاکٹرز کو اتنا شقی القلب بنا دیا ہے کہ کچھ عرصہ قبل دنیا پور کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں بچّے کی نارمل پیدایش کے بعد فوری طور بے ہوش کر کے آپریشن کر دیا گیا۔مریضہ کو ہوش آیا تو وہ چیخنے چِلّانے لگی کہ میرا بچّہ تو نارمل پیدا ہوا تھا پھر آپریشن کیوں کیا گیا؟ عالمی ادارہ ءصحت نے آپریشن سے پیدایش کی شرح 15 فی صد تجویز کر رکھی ہے۔آپ شاید حیران ہو جائیں کہ افغانستان میں اس آپریشن کی شرح ایک فی صد سے بھی کم ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپریشن کروا لینے میں آخر کیا قباحت ہے؟آپریشن ایک ایسا انتہائی قدم ہے جو کہ انتہائی ضروری حالات میں ہی سرانجام دینا چاہیے، کیوں کہ آپریشن کے ذیلی اثرات تمام عمر خواتین کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔بعض اوقات آپریشن کا زخم مکمل طور پر ٹھیک ہی نہیں ہوتا اور وقفے وقفے سے اس میں ٹیس اٹھتی رہتی ہے۔خون نہیں رکتا، آپریشن کے بعد اکثر عورتیں گھر کا کام کاج ٹھیک طرح نہیں کر سکتیں۔خواتین کی کمر میں درد رہنے لگتا ہے۔اور ان سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ عورت کا جسم بدنما اور بھدّا ہو جاتا ہے۔
میری ایسے تمام ڈاکٹرز اور لیڈی ڈاکٹرز سے گزارش ہے کہ ڈاکٹر کو تو انتہائی رحم دل، شفیق، ملنسار، نرم خُو اور نرم دل ہونا چاہیے۔ڈاکٹر کے پاس پہنچ کر تو مریض کو احساسِ تحفظ ملنا چاہیے، اُسے چین اور سکون نصیب ہونا چاہیے۔مگر حالت یہ ہے کہ مریض ایک طرف تو مرض سے عاجز، دوسری جانب ڈاکٹرز سے بھی تنگ کہ اسے صحت ملے نہ ملے، جیب ضرور خالی کر دی جائے گی۔
ختم ہو جائیں جنھیں دیکھ کے بیماریِ دل
ڈھونڈ کر لائیں کہاں سے وہ مسیحا چہرے؟
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ وہ نوجوان جو میڈیکل میں داخلے کے وقت اِس عزمِ عالی شان کا اعلان کرتے ہیں کہ ڈاکٹر بن کر ملک و قوم کی خدمت کریں گے مگر ڈاکٹر بننے کے بعد ملک و قوم کواپنی خدمت پر مامور کیوں کر لیتے ہیں؟ ایسا کیوں ہے؟ خرابی کہاں پر ہے؟ ان کے تابناک عزائم کو کون اتنا گدلا کر دیتا ہے کہ اُن کی نظر بیماری کی بجائے بیمار کی جیب پر ٹک کر رہ جاتی ہے اور سرکار بھی گونگے کا گُڑ کھا کر چپ کیوں سادھ لیتی ہے؟ پرائیویٹ ہسپتالوں میں آپریشنز کے اعدادوشمار جمع کیوں نہیں کیے جاتے؟ کہ کتنی خواتین کے آپریشنز کیے گئے اور کیوں کیے گئے؟ ڈاکٹرز کو چاہیے کہ وہ روزانہ سورۃ التکاثر کا ترجمہ ضرور پڑھا کریں کہ شاید مال وزر کی طلب میں کچھ کمی آ جائے۔
بے دم ہوئے بیمار، دوا کیوں نہیں دیتے؟
تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے؟

حیات عبداللہ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نصاب دل کا حسن کی کتاب سے نکل گیا
  • بھٹو کی وراثت اور بلاول
  • جدید ٹیکنالوجی اور معصوم طلباء
  • اس نے کہا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
حیات عبد اللہ

اگلی پوسٹ
یہ سال بھی آخر بیت گیا
پچھلی پوسٹ
بےنظیر

متعلقہ پوسٹس

فرزانہ رانی اور ہرنیلہ کی گپ شپ

مئی 9, 2020

باسط

جنوری 21, 2020

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

نسل نو میں عدم برداشت

اپریل 5, 2020

ڈیجیٹل غلامی : جدید دور کا نیا قید خانہ

مارچ 31, 2026

توبۃ النصوح – فصل نہم

اکتوبر 30, 2020

اعداد و شمار کا پاکستان

جنوری 2, 2026

ماڈل ٹاؤن

فروری 13, 2022

جی آیا صاحب

جنوری 15, 2020

جیسے جیسے کر رہا ہوں عمرِ رفتہ کا حساب

جنوری 23, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شہرت کیلئے ملک اور قوم کی...

ستمبر 7, 2021

امن و سکون کا راستہ: سنتِ...

ستمبر 4, 2025

نیلی ساڑھی

جنوری 22, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں