750
بکھرے ہوئے رنگ ہیں دھنک کے
منظر ہیں زمیں پر فلک کے
مہکار سے رنگ مل رہے ہیں
چہروں میں گلاب کھل رہے ہیں
ہر سانس مہک رہی ہو جیسے
پھولوں سے کشید کی ہو جیسے
دریائے حروف بہہ رہا ہے
ہر شخص بس اپنی کہہ رہا ہے
جذبوں کو پناہیں مل رہی ہیں
آپس میں نگاہیں مل رہی ہیں
لیک مری کیفیت عجب ہے
اک درد ہے اور بے سبب ہے
جی زیست سے بھر گیا ہو جیسے
شیشہ سا بکھر گیا ہو جیسے
ماحول میں کھو کر سوچتا ہوں
حیران سا ہو کے سوچتا ہوں
جب مجھ کو نصیب ہر خوشی ہے
پھر دل میں نہ جانے کیا کمی ہے
کیا جانئے دل اداس کیوں ہے
دریا پہ بھی آ کے پیاس کیوں ہے
آنکھوں کی نمی چھپا رہا ہوں
روتے ہوئے مسکرا رہا ہوں
سعود عثمانی
