خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامایچی سن کالج – شاندار ادارہ یا اشرافیہ کا قلعہ؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزپیر انتظار حسین مصور

ایچی سن کالج – شاندار ادارہ یا اشرافیہ کا قلعہ؟

از سائیٹ ایڈمن اپریل 2, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 2, 2026 0 تبصرے 25 مناظر
26

​لاہور کے مال روڈ سے گزرتے ہوئے جب نگاہیں ایچی سن کالج کی سرخ اینٹوں سے بنی بلند و بالا دیواروں پر پڑتی ہیں، تو انسان خود بخود ایک قدیم اور سحر انگیز تاریخ کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ اٹھارہ سو چھیاسی میں جب اس وقت کے ناظمِ پنجاب سر چارلس ایچی سن نے اس ادارے کی بنیاد رکھی، تو ان کا مقصد محض ایک مدرسہ بنانا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی نرسری تیار کرنا تھا جہاں برصغیر کے حکمرانوں، نوابوں اور جاگیرداروں کی اگلی نسل کی ایسی آبیاری کی جا سکے کہ وہ تاجِ برطانیہ کے وفادار رہ کر نظامِ حکومت چلا سکیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک بے حد شاندار، پروقار اور اپنی مثال آپ ادارہ ہے۔ اس کے وسیع و عریض میدان، قدیم کتب خانے، تیراکی کے تالاب اور نظم و ضبط کی وہ روایات جو ڈیڑھ سو سال سے قائم ہیں، کسی بھی دیکھنے والے کو حیرت زدہ کر دیتی ہیں۔

​ایچی سن کالج کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس کی گود میں پلنے والے شہسواروں نے پاکستان کی تقدیر کے فیصلے کیے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی میدانِ عمل سے سیاست تک کی جدوجہد ہو، اعتزاز احسن کی قانونی بصیرت ہو، یا چوہدری نثار علی خان، شاہ محمود قریشی اور سردار ایاز صادق کا سیاسی قد کاٹھ—ان سب کی شخصیت سازی میں اس درسگاہ کا گہرا اثر ہے۔ یہاں کا تربیتی نظام طالب علموں میں وہ مقابلہ اور گروہی کام کا جذبہ پیدا کرتا ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر کام آتا ہے۔ یہاں کی فضاؤں میں وہ خود اعتمادی ہے جو ایک طالب علم کو دنیا کے کسی بھی بڑے ایوان میں کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہ ادارہ صلاحیتوں کو تراشنے اور انہیں ہیرا بنانے کا فن بخوبی جانتا ہے، اور اس کی یہ تعریف ہر لحاظ سے حق بجانب ہے۔

​مگر یہاں قلم رک جاتا ہے اور ایک کسک سی دل میں ابھرتی ہے۔ دکھ اس بات کا نہیں کہ ایچی سن اتنا شاندار کیوں ہے، بلکہ ملال اس بات کا ہے کہ ہم نے اس بہترین نمونے کو صرف ایک مخصوص طبقے کے لیے کیوں وقف کر دیا؟ انگریز نے تو اسے اپنی ضرورت کے تحت ‘چیفس کالج’ بنایا تھا تاکہ وہ مقامی اشرافیہ کو اپنے رنگ میں ڈھال سکے، لیکن آزادی کے بعد ہماری ریاست کی کیا ذمہ داری تھی؟ کیا ہمارا فرض نہیں تھا کہ ہم اس معیار کو ملک کے کونے کونے میں پھیلاتے؟ ایچی سن کی اصل خوبصورتی اس کے در و دیوار میں نہیں بلکہ اس کے نظامِ تربیت میں چھپی ہے، جسے ہم نے ایک قلعہ بنا کر چند سو خاندانوں تک محدود کر دیا۔

​ذرا چشمِ تصور سے دیکھیں، اگر آج پاکستان کی ہر تحصیل میں ایچی سن جیسا صرف ایک کالج بنا ہوتا، تو آج کا پاکستان کیسا ہوتا؟ ہمارے دور دراز دیہاتوں اور تپتے صحراؤں میں بسنے والے وہ باصلاحیت بچے، جن کی ذہانت آج غربت اور ٹاٹ کے مدرسوں کی نذر ہو جاتی ہے، وہ آج عالمی سطح کے دانشور، جرنیل اور سفارت کار ہوتے۔ اگر کسان اور مزدور کا بیٹا بھی اسی معیار کے کتب خانے میں بیٹھتا، اسی طرح گھڑ سواری سیکھتا اور اسی اعتماد کے ساتھ گفتگو کرتا، تو آج پاکستان قیادت کے بحران کا شکار نہ ہوتا۔ ہم نے اس شاندار ادارے کو ایک ‘قومی مثال’ بنانے کے بجائے اسے اشرافیہ کا ایک ایسا ناقابلِ تسخیر قلعہ بنا دیا جہاں عام آدمی کا بچہ داخل ہونے کا خواب دیکھنا بھی گناہ سمجھتا ہے۔

​المیہ در المیہ یہ ہوا کہ ہم نے اس تعلیمی ڈھانچے کو ریاست کی ذمہ داری بنانے کے بجائے اسے ایک خالص ‘کاروبار’ میں تبدیل کر دیا۔ آج گلی گلی میں نام نہاد نجی مدرسوں کی دکانیں کھل چکی ہیں۔ ان اداروں کے مالکان فیسیں تو ایچی سن کے برابر وصول کرتے ہیں، لیکن وہاں نہ وہ تربیت ہے، نہ وہ وسیع و عریض میدان اور نہ ہی وہ اخلاقی معیار جو ایک انسان کو رہنما بناتا ہے۔ ہم نے تعلیم کو تجارت بنا کر قوم کے مستقبل کو گروی رکھ دیا ہے۔ ایک طرف وہ چند سو خاندان ہیں جن کے لیے ایچی سن کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، اور دوسری طرف وہ کروڑوں بچے ہیں جو سرکاری مدرسوں کی ٹوٹی ہوئی چھتوں تلے بیٹھ کر ٹاٹ پر اپنا مستقبل تلاش کر رہے ہیں۔ یہ طبقاتی خلیج ہی وہ ناسور ہے جو ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

​جب ہم ایچی سن کالج کی تاریخ پڑھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کی روایت صرف کتابی علم تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہاں کردار سازی پر زور دیا جاتا تھا۔ مگر افسوس کہ آج کے ‘کاروباری مدرسوں’ نے صرف نمبروں کی دوڑ میں بچوں کو مشین بنا دیا ہے۔ ایچی سن کا طریقہ کار تو یہ سکھاتا ہے کہ تعلیم ایک مکمل طرزِ زندگی ہے، جس میں کھیل، آدابِ زندگی اور سماجی ذمہ داری شامل ہے۔ لیکن اس نمونے کو عام کرنے کے بجائے ہمارے حکمرانوں نے اسے اپنی مراعات کا حصہ بنا لیا۔ جب پالیسی بنانے والوں کے اپنے بچے ان شاہانہ اداروں میں پڑھتے ہوں، تو انہیں کیا فرق پڑتا ہے کہ کسی دور افتادہ تحصیل کے مدرسے میں استاد موجود ہے یا نہیں۔

​حقیقت یہ ہے کہ جب تک ریاست تعلیم کے اس ظالمانہ طبقاتی فرق کو ختم نہیں کرتی، ہم کبھی ایک متحد قوم نہیں بن سکتے۔ ہمیں ایچی سن جیسے اداروں کی تاریخی حیثیت اور معیار کی تعریف ضرور کرنی چاہیے، لیکن اس نظام پر کڑی تنقید بھی لازم ہے جس نے تعلیم کو امارت کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے۔ ہمیں ایسے تعلیمی مراکز کی ضرورت ہے جو صرف لاہور کے مخصوص علاقوں تک محدود نہ ہوں، بلکہ ہر تحصیل کے اس گمنام نوجوان کے لیے کامیابی کا راستہ کھولیں جس کی آنکھوں میں چمک تو ہے مگر جیب میں ایچی سن کی بھاری بھرکم فیس نہیں۔

​وقت کا تقاضا ہے کہ ہم تعلیم کو کاروبار کے چنگل سے نکالیں اور اسے ہر بچے کا بنیادی حق بنائیں۔ ایچی سن کی سرخ دیواریں ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ علم پر کسی ایک طبقے کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ہم آج بھی ہر تحصیل میں ایک معیاری ادارہ قائم کرنے کی مہم شروع کر دیں، تو شاید آنے والی نسلیں ہمیں معاف کر دیں۔ ورنہ یہ دیواریں، یہ شہسواری کے میدان اور یہ پرشکوہ ہال ہمیشہ ہمیں ہماری سماجی ناانصافیوں اور محرومیوں کا طعنہ دیتے رہیں گے۔ ایچی سن ایک بہترین مثال ہے، لیکن اس مثال کو صرف چند ہاتھوں میں قید رکھنا اس قوم کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی ہے۔

پیر انتظار حسین مصور

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ‫‫خمیازہ
  • قسط وار ناول بہرام: دوسری قسط
  • نقشِ ہستی
  • "میرے پاس تم ہو”
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مہنگائی کا طوفان اور عام آدمی کی زندگی
پچھلی پوسٹ
تو نے دیکھا ہے

متعلقہ پوسٹس

لوگ خوابیدہ ہی سہی

فروری 21, 2022

غزہ اور گمشدہ اُمتِ مسلمہ!

اکتوبر 20, 2023

تمام خوابوں کی تعبیر

دسمبر 9, 2025

قلب و جگر کو اضطراب نے مارا ہوگا

جنوری 22, 2026

ملکی سلامتی اور دہشت گردی کا بڑھتا ہوا خطرہ

ستمبر 4, 2025

غازی علم دین: شہید رسالتﷺ

دسمبر 4, 2025

کینڈا میں کرتار پو ر کا معجزہ

نومبر 12, 2019

سب کے سامنے اپناؤ ورنہ بھاڑ میں جاؤ

اپریل 14, 2021

اُڑنے کو ہوں میں تیار مگر

جنوری 12, 2026

نِکّی

جنوری 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ال گلہری

دسمبر 30, 2014

خوب، روپ اور بہروپ

جنوری 6, 2023

بلائوں کو ٹالنے کا سبب

مئی 27, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں