753
کہیں گے تم سے نہ دوستوں کو خبر کریں گے
ہم اپنے حصے میں آئے غم خود بسر کریں گے
اِسی لیے تو چھپا کے رکھے تھے خواب سب سے
میں جانتا تھا یہ تیری آنکھوں میں گھر کریں گے
ہمارے یاروں کا قافلہ پیچھے رہ گیا ہے
اَب اِس سے آگے ہم الٹے پاؤں سفر کریں گے
یہ طے ہوا تھا کہ جیسے سب لوگ کر رہے ہیں
محبت ایسے نہیں کریں گے، اگر کریں گے
مجھے لگا تھا مگر مجھے یہ غلط لگا تھا
کہ میرے بوسے ترے بدن پہ اثر کریں گے
تری محبت نے ظرف بخشا ہے سعد ضیغم
تو دشمنی بھی کرے تو ہم در گزر کریں گے
سعد ضؔیغم
