103
کسے تم نے پرکھنا ہے کسے اب آزمانا ہے
تمھاری بزم سے اٹھ کر بلا اب کس نے جانا ہے
ہمیں درد و مصائب میں جو تنہا چھوڑ جاتے ہیں
پھر ایسے دوستوں کو کس لیے واپس بلانا ہے
ہو بے معنی و مطلب پھر بھی وہ کتنا مقدس ہے
تمھاری انجمن میں ہم نے جو نغمہ سنانا ہے
خدایا رحم خط ان کو جنوں میں لکھ تو بیٹھے ہم
طلب پر اُس مہِ کامل کو کیسے منہ دکھانا ہے
تعین اُس کی راؤں کا ہوا کی لہر کرتی ہے
شجر سے ٹوٹ کر پتے نے کس جانب کو جانا ہے
سردار حمادؔ منیر
