111
محبت کا فسانہ دو دلوں کا راز ہوتا ہے
مسرت دے دلوں کو جو یہ ایسا ساز ہوتا ہے
کبھی مسکان چہرے پر کبھی رمجِم نگاہوں میں
محبت کرنے والوں کا الگ انداز ہوتا ہے
یہ دل بے چین ہو کر دم نگاہیں جستجو میں ہوں
یہیں سے تو محبت کا حسیں آغاز ہوتا ہے
پروں کو اس کا رکھوالا ہی اکثر کاٹ دیتا ہے
ارادہ جب کبوتر کا بڑی پرواز ہوتا ہے
ہمیں حامیؔ وہی اپنی ہنسی سے مار دیتے ہیں
ہمیں جن بے وفاؤں کی ہنسی پر ناز ہوتا ہے
سردار حمادؔ منیر
