خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابھوری مٹیالی آنکھیں
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

بھوری مٹیالی آنکھیں

از سائیٹ ایڈمن جون 6, 2025
از سائیٹ ایڈمن جون 6, 2025 0 تبصرے 77 مناظر
78

شبانہ تیوری پر بل ڈالے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ بھوری آنکھیں خوف کو اجاگر کر رہی تھیں۔
”ذرا مسکراؤ!“
فوٹوگرافر نے مسکرانے کی اداکاری کرتے ہوئے اسے سمجھایا۔
بولو، ”چیز۔“
وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔

کسی کو پرواہ نہیں تھی؛ ایک بچی کو انجان آدمی کے سامنے بٹھا کر مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ مسکرا کر بھی دکھائے۔ تیوری چڑھانا اس ظلم کے خلاف احتجاج تھا۔ زندگی کے پہلے دروازے پر کھڑی سات سال کی بچی، دکھ دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے بھی عاری بچی، جس کے گلے میں کالے دھاگے سے تعویز بندھا ہوا تھا درد کی خاموش لرزش نے اسے گنگ کر دیا تھا۔

فوٹوگرافر کی بھی مجبوری تھی سو ویسے ہی تصویر بنا لی۔

آنکھوں کی قدرتی رنگت بھوری نہیں تھی۔ اس کی آنکھیں کتھئی تھیں، چاکلیٹ جیسی۔ گدلا پن ان پر چھائی ہوئی افسردگی کا مظہر تھا۔ دکھ اور خوف ان میں جھلکتا تھا۔ رنگت ایسی جیسے چوٹ کے بعد جلد پر دھبے پڑ گئے ہوں۔ دھواں سی آنکھیں، ادھ کھلی سوئی سوئی گدلی آنکھیں، جن میں ہمیشہ کے جگراتے سے خون جم گیا ہو یا آکسیجن کی کمی کا دھندلا پن ہو۔ درد بھرے زرد چہرے پر کُھلی تازہ ہوا کو ترستی ہوئی مٹیالی آنکھیں۔

وہ پیدائشی دمہ کی مریض تھی۔ جو بڑھتی عمر کے ساتھ کچھ کم ہو گیا لیکن بدلتے موسم کے ساتھ اپنا رنگ بدلتا رہتا۔ دمہ اسے باپ کی طرف سے ملا تھا۔ کمزور باپ جس کو سانس لینے سے اتنی ہی آکسیجن ملتی جتنی جینے کے لیے ضروری تھی۔ سوکھے پنجر سینے پر دھونکنی کا گماں ہوتا تھا۔ وہ دوڑتا، نہ کھیل سکتا اس لیے دوسرے مردوں کی نسبت کمزور تھا۔ سارا زور پڑھائی پر دیا اور ایک اچھی جاب مل گئی۔ رات دیر گئے تک کام کرتا۔

تھکا ہارا گھر آتا تو خواہش ہوتی کہ سو جائے۔ وہ ایک ایسا آدمی تھا جس نے جینا سیکھا ہی نہیں، دل کی شفقت و محبت کو ظاہر نہیں کر سکتا تھا۔ باپ اپنے بچوں کے تئیں دلار و محبت کا اظہار کرنا جانتا ہی نہیں تھا۔ شاید بچے اسے برے لگتے ہوں۔ اپنی کمزور شخصیت کے باعث ڈانٹتا تو نہیں لیکن شور و غل سے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر سب بچے دبک کر لیٹ جاتے۔ شبانہ باپ کو دیکھ کر ہی چارپائی کے نیچے گھس جاتی۔ بیڈ کے نیچے لیٹی چھوٹی معصوم بچی جس کا جسم ابھی کچا ہوتا ہے جدھر چاہے موڑ لو، دبا لو گوندھی ہوئی مٹی کے تودے جیسا جس پر کمہار کی انگلیوں کے نشانات بھی موجود ہوتے ہیں۔سانس کی بیماری، ڈر کے مارے اکھڑے اکھڑے سانس لینا، منہ کو تکیہ یا لحاف میں چھپا لینا، سانس کو روک لینا کہ باپ کو ذرا بھی ہل جل کا احساس نہ ہو اسے پتا نہ چلے کہ بچی کہاں چھپ گئی ہے اور خوف جو دل کی دھڑکن کو بھی روک دیتا ہے، جسم کو خون اور آکسیجن پوری نہیں پہنچتی۔

خوف اسے تھپیڑے لگاتا تو نیند کی گود میں منہ چھپا لیتی۔

آنکھوں کی بھوری رنگت اسے ننھیال سے ملی تھی۔ ماں کی، نانی کی، سب کی آنکھیں اسی رنگ کی تھیں۔ نسل در نسل ایک جیسی آنکھیں۔

فوٹوگرافر نے تصویر بنا لی لیکن اس سے مطمئن نہیں تھا۔ اس نے جب یہ کام سیکھنا شروع کیا تو قدرتی نظاروں کو فلماتا، درختوں پھولوں کی تصویریں بناتا، مست ہاتھیوں کی طرح دوڑتے کالے بادل بھی بھلے لگتے اور انہیں اپنے کیمرے میں قید کر لیتا۔ پھر اسے ماڈلز کی تصویریں بنانے کا موقع ملا۔ خوبصورت اور حسین و جوان لڑکیاں لڑکے لیکن ان میں بناوٹ بہت تھی۔ سکول میں نوکری ملی تو وہ پھر قدرتی خوبصورتی کی طرف لوٹ آیا۔ پیارے پیارے بچے سورج کی روشنی جیسی چمک والے چہرے، بادلوں جیسی زلفیں، گلاب جیسے ہونٹ اور کنول جیسی آنکھیں۔

لیکن اس لڑکی کی مٹیالی آنکھیں اسے رلا گئی تھیں۔

وہ کمپیوٹر پر بیٹھا بچوں کی تصاویر پر کام کر رہا تھا۔ یہ تصویریں والدین بھی مانگ لیتے اور سالہا سال کے بعد جب بچے اچھی پوسٹوں پر پہنچ جاتے تو اس تصویر کی اہمیت بڑھ جاتی۔

فوٹوگرافر کے سامنے اس لڑکی کی تصویر تھی۔ مسکراہٹ کہاں سے لائے، سات سالہ بچی کے چہرے پر پھیلا خوف کیسے ختم کرے؟ بچی کی آنکھیں یوں تھیں جیسے ابھی چھلک پڑیں گی گھنے بالوں کے درمیان مرجھائے چہرے کے گڑھے میں آنسوؤں کی دو جھیلیں۔

***

ماں تیس منٹ دیر سے سکول پہنچی۔ بھاگتی ہوئی گیٹ پر آئی تو چوکیدار نے میڈم سے ملنے کا کہا۔ دیر سے آنے کی سزا تھی کہ بچی کو دفتر سے لینا پڑے گا۔

ماں کی ہمیشہ کوشش ہوتی تھی کہ میڈم کا سامنا نہ ہو۔

میڈم نے مسکراتے ہوئے استقبال کیا۔ وہ ایک خوبصورت پرکشش خاتون تھی۔ مسکراہٹ اس کے چہرے پر بکھر کر فخر محسوس کرتی۔ گزشتہ تین ماہ میں ہونی والی ملاقاتوں میں میڈم کی نرم دلی، مہربانی اور گرم جوشی کی وجہ سے اس کی ہچکچاہٹ کچھ کم ہو گئی تھی۔

”ہم جانتے ہیں کہ اس وقت سڑکوں پر ٹریفک کا اژدہام ہوتا ہے لیکن پھر بھی رسماً آپ کو بلانا پڑا۔ سکول کا قانون ہے کہ جو والدین بچوں کو دیر سے لیں انہیں وارننگ جاری کی جائے۔“ یہ کہتے ہوئے میڈم نے ایک پیلے رنگ کا کارڈ اس کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔

ماں کو لگا کہ میڈم کی اس بات میں طنز بھی شامل ہے۔

وہ ایک ہاتھ میں پیلا کارڈ اور دوسرے میں بچی کو پکڑے باہر آئی تو یوں محسوس ہوا کہ ارد گرد کھڑا سٹاف اور ٹیچرز اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ کارڈ کو دہرا کر کے اپنے پرس میں ڈال لیا لیکن پھر بھی ان کی نگاہیں کہہ رہی تھیں، ”کیا آپ کو اپنے بچے کی پرواہ نہیں؟

کیا آپ اپنے حالات میں اتنے مست رہتے ہیں؟ آپ نہیں جانتے کہ بچے کو بھول جانا اس کے لیے کتنا تکلیف دہ ہو گا؟ انتظار اس کے ذہن پر کیسا برا اثر ڈالے گا؟ اس کو ذہنی مریض بھی بنا سکتا ہے۔ ”

ایمانداری کی بات تو یہ تھی کہ وہ اپنی بچی کو بھول گئی تھی۔ گھر کے کام کاج میں مصروف ہو کر اسے یاد ہی نہیں رہا۔ صرف پانچ منٹ رہتے تھے جب اسے یاد آیا۔ کپڑے بھی نہیں بدلے اور انہی سلیپرز اور پاجامے میں بھاگتی ہوئی رکشہ لے کر سکول پہنچ گئی۔

شرمندگی کو چھپانے کے لیے راستے میں بچی کو ایک آئس کریم پارلر میں لے گئی۔ آئس کریم کھاتے ہوئے شبانہ نے بتایا کہ آج ایک آدمی نے اس کی تصویر بنائی ہے۔ ”میں جانتی ہوں، سکول کی طرف سے پیغام آیا تھا۔ میں تمہیں بتانا بھول گئی اسی لیے تمہیں آج کلر ڈریس میں بھیجا تھا۔“

اس رات شبانہ کا والد دفتر میں دیر تک کام کرتا رہا۔ شبانہ اور اس کی ماں نے لیپ ٹاپ پر لٹل بیر کی کچھ قسطیں دیکھیں۔ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ بچی کو کارٹون دکھائیں تو اس کا دھیان بٹ جاتا ہے اور سانس خراب نہیں ہوتا۔ ماں نے اس کو سونے سے پہلے نیبولائز بھی کر دیا۔ منہ صاف کروایا اور سنڈریلا کا نائٹ گاؤن پہنا کر بستر پر لٹا دیا۔

پاس بیٹھ کر لوری سنانے لگی۔ جب وہ سو گئی تو گڈ نائٹ کہہ کر اسے بوسہ دیا اور کچن میں کام کرنے کے لیے چل پڑی۔

آدھی رات ڈھل چکی تھی، باپ ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔ کچن سے واپس آتے ہوئے بیٹی کے کمرے کا دروازہ کھول کر دیکھا، وہ سو رہی تھی۔ ماں بھی اپنے کمرے میں پہنچ گئی۔

تھکی ماندی پیٹھ کے بل سیدھی لیٹ کر چھت پر لگے جالے کو دیکھ رہی تھی۔ جالے جو بند کمروں میں، ویران گھروں میں، دیواروں پر مکڑیاں بن دیتی ہیں۔ وہ کمرے جن کی صفائی میں لاپرواہی برتی گئی ہو، وہ گھر جن کے مالک انہیں بھول جاتے ہیں۔ کیا وہ بھی ایک جالا تھی، اور اس کی بیٹی بھی، جنہیں زمانے کے ساتھ ساتھ اپنے بھی بھول گئے تھے ان فراموش کردہ نامعلوم لاکھوں کروڑوں عورتوں کی طرح جن کی اس دنیا میں کوئی پہچان نہیں۔

***

وہ شاید ہاسپٹل کا کمرہ تھا یا کوئی اور جگہ، دروازہ بند تھا۔ دروازے کے اُس پار سے کچھ آوازیں آ رہی تھیں۔ چابی کے سوراخ سے جھانکا۔ چھت پر ایک ٹھنڈے نیلے رنگ کا بلب روشن تھا جیسے ہسپتال کی لائٹ ہو۔ جو آوازیں وہ سن رہی تھی، جو بھنبھناہٹ اس کی کانوں میں انڈیلی جا رہی تھی، وہ عجیب سی تھی۔ ایک آدمی نے کیمرہ نکالا اور تصویریں بنانی شروع کر دیں۔ بار بار کی فلیش سے اس کی آنکھیں چندھیا گئیں لیکن اس نے پہچان لیا کہ ٹیبل پر پڑا ہوا جسم شبانہ کا تھا۔ دو آدمی اس پر جھکے ہوئے تھے۔ ایک مرد جس کے ہاتھ پر دستانے تھے اس کے پیٹ کے اندر ہاتھ ڈال رہا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر شبانہ کو چھونا چاہا۔ شبانہ کا جسم بالکل ٹھنڈا تھا۔ وہ جوان بچی تھی۔ وہ مرد اندر سے مختلف اعضا نکال کر باہر رکھتا جا رہا تھا۔

پھر اس نے شبانہ کو دوبارہ چھوا تو اس کا جسم گرم تھا۔ اس نے شبانہ کا ہاتھ دیکھا، کندھا دیکھا، اس کے سر کو دیکھا۔ لڑکی اٹھ کر بیٹھ گئی۔ مرد غائب ہو گئے۔

ماں کی چیخ پورے کمرے میں گونج اٹھی۔
وہ بھاگ کر بچی کے کمرے کے پہنچ گئی۔ شبانہ جاگ چکی تھی۔
”ماما کیا آپ نے کوئی برا خواب دیکھا ہے۔“ شبانہ نے پوچھا۔ اُس کی آواز نیند سے بھری ہوئی تھی۔
اس نے ماما کے سر کو پیار سے سہلانا شروع کیا۔

”ماما کیا میرے ساتھ لیٹنا پسند کریں گی؟“ شبانہ نے یہ کہہ کر ماں کے منہ پر پیار بھرا چھوٹا سا ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ اتنا پیارا ہاتھ، اتنا نرم ہاتھ اور اس کے نرم منہ پر جیسے کوئی بچہ اپنی پالتو بلی یا کبوتر کے اوپر ہاتھ پھیر رہا ہو۔ ماں اس کے بیڈ پر بیٹھی تھی۔ مٹیالی آنکھیں چھم چھم برس رہی تھیں۔ نسل در نسل کی بھوری آنکھوں کا گدلا پن مزید گہرا ہو گیا تھا۔ ماں رخساروں پر آنسوؤں کی واضح لکیروں کے ساتھ بیڈ کے سرہانے کے ساتھ ٹکی شبانہ کو دیکھتے ہوئے سسک رہی تھی۔

” ماما آپ میرے ساتھ آ جائیں۔“ یہ کہہ کر شبانہ نے اپنا لحاف اٹھایا اور ماں کو کھینچ کر اپنے ساتھ لے لیا۔

ماں نے بچی کو گود میں لیا اور بولی، ”ہاں تھوڑی دیر کے لیے میں تمہارے ساتھ ہی لیٹوں گی جب تک تمہارے بابا گھر نہیں آ جاتے۔“

درد کی ناپید کنار وادی میں اٹھتی اس کی آواز صدا بصحرا بن کر کہیں کھو جاتی ہے۔ وہ مٹیالی گدلی آنکھوں کو بند کر کے، گمنام گہری جھیل کی طرف پھینکی گئی ٹھیکری کی طرح، سطح آب پر تتو تاریاں لے کر لحاف میں ڈوب جاتی ہے۔

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • رونے کی آواز
  • خودی سے پا کے اب فرار دور رہنا ہے
  • اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری
  • ذائقے جو روپوش ہو گئے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دانتے کی دوزخ میں
پچھلی پوسٹ
مقبوضہ علاقوں کے باسیوں کی زندگی

متعلقہ پوسٹس

عوام اب پوچھتے ہیں

نومبر 10, 2025

شاعری کا ابتدائی سبق

مئی 21, 2024

سمے کا بندھن

جنوری 11, 2020

اس سے ہی چلتی ہے

دسمبر 20, 2022

بھٹو آخر کیوں؟

نومبر 16, 2019

پُورا خوابوں کا فٙسانہ نہیں ہوتا مُجھ سے

مئی 23, 2021

موسیقی کی حرمت

جون 29, 2020

دور سے دیکھنے والے کا گماں ہوتا ہے

دسمبر 2, 2019

رنگ برنگے لوگ

دسمبر 28, 2019

جُستجُو کے کسی جہان میں ہے

جنوری 28, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ڈیجیٹل دور میں تعلیم کا نیا...

ستمبر 19, 2025

ڈیڈی

مارچ 20, 2020

برف پہ جو بھی نقش کیا...

جنوری 3, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں