109
جو بھی تیرے لیے بنی ہو گی
وہ پری کوہ قاف کی ہوگی
فاصلے درمیاں تھے پہلے سے
بات کیونکر بھلا بڑھی ہو گی
اس برس مضطرب خیالوں کی
رات شاید یہ آخری ہوگی
مصلحت گر تھی اپنے ملنے میں
پھر جدائی میں بھی رہی ہوگی
بیوگی اس کے سر جوانی میں
اک قیامت بھری گھڑی ہو گی
ضبط کی آخری حدوں پر ہوں
اب بمشکل ہی واپسی ہو گی
کنپٹی پر نشانہ باندھ کے وہ
کہتے ہیں گولی خود چلی ہوگی
جو مقابل ہوئے وڈیروں کے
ان کو تو مات ہو گئی ہو گی
ہار بیٹھا ہوں غم نہیں اس کا
کچھ کمی مجھ میں ہی رہی ہوگی
اس نے ڈالی جو الوداعی نظر
فارحہ خود ہی مر گئی ہو گی
فارحہ نوید
