خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامقصد حیات
آپکا اردو بابااردو تحاریراسلامی گوشہاسلامی مضامین

مقصد حیات

از محمد یوسف برکاتی جون 20, 2024
از محمد یوسف برکاتی جون 20, 2024 0 تبصرے 44 مناظر
45

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

آج کے دور میں بھی کئی لوگ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن جب ہم تاریخ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی شدت اور دلی عقیدت جتنی صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اندر نظر آتی تھی وہ شاید ہی کہیں نظر آتی ہو شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی صحبت میں وقت گزارا ہے اور ان کی ہر بات کو عملی طور پر کرتے ہوئے دیکھا ہے اور اسی وجہ سے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم سے عقیدت و محبت کی مثال تاریخ اسلام میں کہیں نہیں ملتی۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان وعظمت کی کئی نشانیاں اور کئی مثالیں ہمیں کتابوں میں ملتی ہیں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کا ایک فرمان ہی ان کی شان و عظمت کے لئے کافی ہے اپنے امتیوں سے فرمایا کہ” صحابہ کرام وہ لوگ تھے جنہیں اللہ تعالی نے اپنے نبی کے مصاحبت اور دین کے قیام کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ ان کی جاہ و مقام کو پہچانو اور ان کے طریقے پر چلو اس لیے کہ وہ ہدایت اور راہ راست پر تھے ".
[رواه ابن عبد البرّ)
آج کی تحریر میں ہم دو واقعات پڑھیں گے ایک صحابی کے عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کے بارے میں اور ایک ختم نبوت کے لئے پہرہ دینے والے بھٹکے ہوئے انسان کی زندگی میں آنے والی تبدیلی کے بارے میں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
حضرت ابوبصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک صحابی تھے، ایک تو حضرت ابو جندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے تو وہ تو حدیبیہ میں آگئے اور یہ حضرت ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیچارے جو اپنے آقا کی جیل توڑ کر مکے سے بھاگ کر مدینہ پاک آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم مجھے قبول کر لیں میں بھاگ آیا ہوں وہ بڑا ظلم کرتے ہیں، مارتے ہیں، تکلیف دیتے ہیں جب حضرت ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو ادھر سے ان کے مالک نے ایک دو بندے بھی بھیج دیئے رقعہ دے کر کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم آپ کا تو وعدہ تھا کہ بندہ رکھیں گے نہیں مطلب ابھی حضرت ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہچے ہی تھے کہ پیچھے دو آدمی رقعہ لیکر بھی آ گئے اب ذرا منظر کو سمجھیں کیا کیفیت ہے بندہ رو رہا ہے تڑپ رہا ہے کہ رہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم میں مالک سے بچتا ہوا آیا ہوں جیل توڑ کر آیا ہوں مجھے قبول کر لیں ادھر رقعہ آ گیا کہ آپ کا وعدہ تھا رکھیں گے نہیں اب یہ کتنا مشکل مسئلہ ہے۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
لیکن رسول پاک علیہ السلام نے فرمایا ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نے وعدہ کیا ہوا ہے یار تجھے واپس جانا پڑے گا حضرت ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ سے حضور نے فرمایا واپس جانا ہے اب آپ اندازا لگائیں کہ ان کے دل پر کیا گزررہی ہوگی لیکن عرض کیا کہ ٹھیک ہے کوئی شکوہ نہیں کوئی گلہ نہیں یہ بھی میرے معبود کا حکم ہی ہے اور کیا بات ہے میرے نبی وعدوں کے پکے ہیں کیا بات ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے جو کہا کر کے دکھایا کہتے ہیں میں اٹھا اور چلدیا جب میں واپس جا رہا تھا تو میرے مالک کے دو بندے ساتھ تھے جب مدینہ کی حد گزر گئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے تو کہا تھا کہ مدینہ میں پناہ نہیں دینی تو ہم مدینہ کی حدود سے باہر ہیں میرے ساتھ میرے مالک کے دو لوگ تھے ان کے پاس تلوار تھی میں نے اس میں سے ایک سے کہا یار تلوار بڑی سوہنی ہے دکھانا اس نے دکھائی تو میں نے موقع دیکھ کر ایک کی گردن اڑادی جب یہ منظر دوسرے نے دیکھا تو حیران ہوگیا کہ یہ کیا ہوا گویا منظر یہ دیکھ کر وہ دوسرا بھاگ گیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
اور وہ اب بھاگ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ جی اس نے تو ہمارا ایک آدمی ہی ماردیا جب حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کو پتہ چلا کہ یہ واقعہ مدینہ کی حدود سے باہر ہوا ہے تو سرکار صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم فرمانے لگے میں نے تو وعدہ پورا کیا تھا نا تم سے نہیں سنبھالا گیا تو معاملہ تمہارا ہے اب حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ بھی واپس آئے عرض کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم اب میرے لئے کیا حکم ہے فرمایا میرا حکم وہی ہے مدینہ میں ہم نہیں رکھ نہیں سکتے صحابہ تھے نا حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی باتوں سے خوشبو لیتے تھے حضرت ابوبصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میں مدینہ کی سرحد سے نکل گیا اس جگہ چلا گیا جو نہ مکہ کی ریاست میں تھا نہ مدینہ کی وہاں رہنے لگا حضرت ابو جندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتا چلا کہ ایک نیا ٹھکانہ بن گیا وہ بھی جیل توڑ کر آ گئے اور اس طرح ہوتے ہوتے ستر بندے آ گئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
لیکن اتنے بندوں کے کھانے پینے کا اہتمام کیسے ہوگا وہاں سے کافروں کے قافلے گزرتے تھے یہ بھی مسلمانوں کو تنگ کرتے تھے مگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مکہ سے قافلے گزرتے تھے تو ہم نے بھی ان کو پکڑا کافر کا مال مالِ غنیمت سمجھا اور اس طرح اسباب بن گیا اور وہ جب قافلے لیکر آتے تھے تو ڈرے ہوتے تھے اور ان صحابہ کو تو ستایا گیا تھا کہتے ہیں ہم کو ستایا بڑا تھا ہم تو انقلابی بن گئے تھے ستر بندے ہو گئے پھر تین سو ہو گئے ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں دنیا مدینہ جاتی تھی لیکن ہم تڑپتے تھے ہم تڑپتے تھے کہ یار کوئی موقع ملے تو ہم بھی جائیں روز رات کو روتے تڑپتے تین سو انقلابیوں کا جتھہ صبر سے بیٹھا ہے مدینہ کی سرحدپر ہیں مگر اندر آنے کی اجازت نہیں پر غلامی میں روز اضافہ ہو رہا ہے صبر دیکھو غلامی میں روز اضافہ ہوتا ہےاچھا کافر پہلے بڑی ڈینگیں مارتے تھے کہ دیکھو ہم نے کیسی شرط منوائی ہے کیسی شرط منوائی ہے کہ ان کا بند آئے گا تو ہم واپس نہیں کریں گے ہمارا جائے گا تو انہیں کرنا پڑے گا۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اس معاہدے سے تھک گئے اور پھر ایک وقت وہ آیا کہ خود آکر کہنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم مہربانی کریں یہ شرط تو ختم کریں اور ان تین سو کو تو مدینہ بلائیں مہربانی فرمائیں حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم بڑے خوش ہوئے اور اسی وقت غلاموں کے نام پیغام لکھا غلاموں کے نام پیغام لکھا یار سب جلدی جلدی مدینہ آجاؤ مدینہ آنے کے لئے حضرت ابو بصیر کے نام چٹھی آگئی آجا یار مدینہ حضرت ابو جندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں حضرت بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمار تھے جب انہیں چٹھی ملی تو میں سرہانے کھڑا تھا حضرت ابو بصیر نے خط پڑھا مسکرائے اور پھر رونا شروع کردیا اشارے سے کہنے لگے کہ دیکھ میرے نبی کا خط آیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی چٹھی میرے نام آئی ہے پڑھنا میں نے بھی پڑھی پہلے روئے اور پھر کلمہ پڑھا پھر میرا ہاتھ تھاما اور دیکھتے ہی دیکھتے روح ہی پرواز کر گئی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
اب وہ ظاہری جسم کے ساتھ تو مدینہ نہ پہنچے لیکن جب قبر انور میں پہنچے تو مدینہ والے کی زیارت نصیب ہو گئی قبر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی زیارت نصیب ہو گئی حضرت ابو جندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میں نے جنازہ پڑا اور اسی مقام پر جہاں انہوں نے انتظار کیا تھا وہیں تدفین کردی اور پھر وہاں ان کا مزار بنا مزار کے ساتھ ایک مسجد بنی جس مسجد کا نام مسجد ابو بصیر رکھا گیا ایک سچے عاشق رسول صحابی نےمدینے جانے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی صحبت اختیار کرنے کے انتظار میں جان تو دے دی پر صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور کبھی شکوہ بھی نہیں کیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
یہ تھی ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی سچی عقیدت اور عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی ایک اعلی مثال آئیے اب ہم ایک ایسے انسان کے بارے میں پڑھتے ہیں جو ویسے تو دنیا کے بگڑے ہوئے ماحول کی ایک نشانی تھا لیکن اس کی زندگی میں یکایک تبدیلی رونما ہوگئی وہ کیسے یہ پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں دراصل
حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے فرماتے ہیں کہ مجھے وہاڑی کے ایک گاؤں سے بڑا محبت بڑا خط لکھا گیا کہ مولانا صاحب ہمارے گاؤں میں آج تک سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بیان نہیں ہوا ہمارا بہت دل کرتا ہے آپ ہمیں وقت عنایت فرما دیں ہم تیاری کر لیں گے میں نے محبت بڑے جذبات دیکھ کر جواب میں خط لکھ دیا کہ میں فلاں تاریخ کو حاضر ہو جاؤں گا۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد دیئے گئے وقت پر میں فقیر ٹرین پر سے اتر کر ٹانگے پر بیٹھ کر گاؤں پہنچ گیا تو کیا دیکھا کہ یہاں تو نہ کوئی جلسہ ہونا دکھائی دے رہا تھا اور نہ ہی لوگ بس مجھے بلوانے والے چند لوگ جمع تھے انہوں نے میرا استقبال کیا اور مجھے قریب ہی ایک حجرے میں لے جاکر بٹھادیا اس کے بعد انہوں نے ایک لفافے میں کچھ نذرانے کی رقم رکھ کر مجھے دیتے ہوئے کہا کہ حضرت ہم یہ جلسہ نہیں کرواسکتے لہذہ بھلے آپ جاسکتے ہیں میں حیران و پریشاں کہ آخر ماجرہ کیا ہے ؟ تو مجھے بتایا کہ ہمارے گاؤں میں نوے فیصد قادیانی ہیں وہ ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں کہ نہ تو تمہاری عزتیں نہ مال نہ گھربار محفوظ رہیں گے اگر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تم لوگوں نے کوئی بیان کروایا۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب ہم کمزور ہیں غریب ہیں تعداد میں بھی کم ہیں اس لئے ہم نہیں کر سکتے میں نے لفافہ واپس کر دیا اور کہا بات تمہاری ہوتی یا میری ہوتی تو واپس چلا جاتا بات مدینے والے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی آگئی ہے اب بیان ہوگا ضرور ہوگا وہ لوگ میری بات سن کر گھبرا گئے کہ حضرت آپ تو چلے جائیں گے مسئلہ تو ہمارے لئے ہوگا تو میں نے کچھ دیر سوچتے ہوئے کہا کہ اس گاؤں کے آس پاس کوئی باثر شخص یا کوئی بدمعاش یعنی گنڈا رہتا ہے تو انہوں نے بتایا کہ گاؤں سے کچھ دور نورا ڈاکو رہتا ہے پورا علاقہ اس سے ڈرتا ہے تو میں نے کہا چلو مجھے لے چلو نورے کے پاس لہذہ وہ لوگ مجھے اس ڈاکو نورا کے پاس لے گئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں انہوں نے کہا کہ جب ہم نورے کے ڈیرے پر پہنچے تو نورا دیکھ کر حیران ہوگیا کہ آج میرے پاس مولوی لوگ کیسے آگئے اس نے کہا کہ بھئی آپ لوگ میرے پاس کیا لینے آئے ہو تو میں نے کہا کہ نورا مانا کہ تم ایک بدمعاش ڈاکو ہو اور لوگ تم سے ڈرتے بھی ہیں لیکن تم ہو تو مسلمان اور جب مسلمان کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی عزت و ناموس کی بات اجائے تو پھر کیا ہوتا ہے ؟ تو وہ کچھ پریشان ہوا اور کہنے لگا کہ بات کیا ہے ؟ میں نے کہا کہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی آگئی ہے کیا تم ہماری کچھ مدد کرو گے میری بات سن کر نورا بجلی کی طرح کھڑا ہوا اور بولا میں ڈاکو ضرور آں پر بے غیرت نہیں آں۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
وہ کہنے لگے کہ جب میں نے ساری بات نورا کو بتائی تو اس نے کہا کہ مولانا صاحب آپ بیان کریں اور باقی معاملہ مجھ پر چھوڑ دیں یہ کہکر وہ ہمارے ساتھ مسجد کے لئیے چلدیا اور مسجد پہنچ کر مجھے اندر بھیجا لوگوں کو جمع کروایا اور یوں میں نے بیان شروع کردیا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے تین گھنٹے کا بیان کیا لوگوں کو ایک کثیر تعداد وہاں بیان سننے کے لئیے جمع ہوگئی لیکن نورا ڈاکو مسجد کے باہر ڈٹ کر کھڑا رہا اور کہا کہ کسی نے مسلمانوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو اس کی خیریت نہیں ہوگی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
اور یوں وہاں لوگوں کی دلی خواہش کے مطابق ایک کامیاب جلسہ ہوگیا مولانا امین اوکاڑوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے نورا ڈاکو کا شکریہ ادا کیا اور وہاں سے واپس اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگیا آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ابھی اس واقعہ کو چھ ماہ گزرے تھے کہ ایک دن میرے دروازے پر دستک ہوئی تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص جس کے سر پر عمامہ کا تاج سجا ہوا تھا اور چہرے پر سنت کے مطابق داڑھی سجی ہوئی تھی جبکہ چہرے پر ایک عجیب سی روحانیت جھلک رہی تھی فرماتے ہیں میں انہیں پہچان نہ سکا اس لئیے پوچھا کہ آپ کون ہے ؟
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
فرماتے ہیں کہ اس شخص کی آنکھوں سے آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے وہ کہنے لگا حضرت میں نورا ڈاکو ہوں وہ یہ کہکر پھر زاروقطار رونے لگا تو میں اسے دیکھ کر حیران ہوگیا کہ اتنی بڑی تبدیلی کیسے ہوگئی میں نے پوچھا یہ سب کیسے ہوا ؟ تو کہنے لگا کہ مولانا صاحب اس دن جب جلسہ ختم ہوا آپ واپس روانہ ہوگئے تو میں بھی گھر کی طرف چلدیا تین گھنٹے مسلسل مسجد کے باہر ڈیوٹی دینے کی وجہ سے تھک چکا تھا گویا گھر پہنچ کر لیٹ گیا اور آنکھ لگ گئی بس ظاہری آنکھ کیا لگی کہ دل کی آنکھ کھل گئی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم تشریف لے آئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس کی ہچکی بندھی ہوئی تھی اور بولتا جارہا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے زیارت سے مشرف کیا اور فرمایا کہ آج تم نے میرے ناموس کی حفاظت کے لئےجو پہرہ دیا اس کی وجہ سے میں اور میرا رب دونوں تم سے خوش ہوئے ہیں اور اس کے سبب تمہارے پچھلے تمام گناہوں کو رب تعالیٰ نے معاف کردیا ہے بس مولانا صاحب جب صبح آنکھ کھلی تو میری زندگی ہی بدل چکی تھی اور اب یہ حالت ہے کہ آنکھیں خشک ہی نہیں ہوتیں اور آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لیتے نورا کہنے لگا کہ میں آپ علیہ الرحمہ کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں کہ یہ سب کچھ آپ علیہ الرحمہ کی وجہ سے ہوا اگر اس دن آپ علیہ الرحمہ میرے پاس نہ آتے تو شاید میری زندگی میں اتنی بڑی تبدیلی کبھی نہ آتی اور مجھ پر میرے رب تعالی کا اتنا بڑا کرم کبھی نہ ہوتا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
رب تعالی تو ہر وقت اور ہر لمحہ اپنے بندوں کو اپنی نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے اور جب بھی انسان کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اسی وقت فرشتوں کو حکم کرتا ہے اور فرشتے اس انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردا نعمت سے نواز دیتے ہیں ہمیں کوشش یہ کرنی چاہئیے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول اور اس کی رضا کی خاطر نیکیاں کرنے کا عمل جاری و ساری رکھیں تاکہ ہمیں بھی بخشش کا پروانہ مل جائے اور رب العزت اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کے صدقے ہمیں بھی اپنا قرب عطا کردے اور سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی سچی عقیدت اور محبت عطا فرمائے امین آمین بجاء النبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم ۔

محمد یوسف برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اشعار کی صحت کے متعلق چھٹا کالم
  • غلطی بانجھ نہیں ہوتی
  • متفرق قطعات
  • وہ جو مل جاتا تو اس سے بات کرنا تھی مجھے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
محمد یوسف برکاتی

اگلی پوسٹ
عمران راقم کی ہمہ جہت شخصیت
پچھلی پوسٹ
دل نے کارِ ہنر نہیں چھوڑا

متعلقہ پوسٹس

زندگی کی الجھنوں میں

اگست 12, 2025

لمحۂ حال کا پیغام

مئی 27, 2025

سہنے کو ہجر جب بھی تمنا مزید کی

مئی 14, 2020

کیا وہی شخص ہے یہ زرد سے چہرے والا ؟

اپریل 23, 2022

لداخ کی گونجتی آواز

ستمبر 26, 2025

نہ سنوائی، نہ تحفظ

اگست 15, 2025

ہجر کی رت کا طرفدار بھی ہو سکتا ہے

مئی 9, 2020

وہ لڑکی

جنوری 15, 2020

میری ڈائری کا بوجھ

مئی 9, 2020

گرد اپنی اتارتا ہوں ذرا

ستمبر 25, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہمنوا، محرمِ جاں

جولائی 6, 2025

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

قومی حکمت عملی کی کمی

ستمبر 8, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں